Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس مرد نے دنیا میں ریشمی لباس پہن لیا اور توبہ کیے بغیر مر گیا، وہ بطور سزا آخرت میں اسے پہننے سے محروم رہے گا۔
معاویہ بن ابو سفیان مسجد میں موجود ایک حلقے کے پاس پہنچے اور حلقے میں شامل لوگوں سے پوچھا کہ وہ کس مقصد سے بیٹھے ہوئے ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا : اللہ کا ذکر کرنے کے ارادے سے۔ چنانچہ انھوں نے ان کو قسم کھانے کو کہا کہ کیا واقعی ان کے بیٹھنے اور یکجا ہونے کا مقصد اللہ کے ذکر کے سوا کچھ اور نہيں ہے؟ جب انھوں نے قسم کھا لی، تو فرمایا : میں نے تم کو قسم کھانے کو اس لیے نہيں کہا کہ میں تمھیں جھوٹا سمجھتا ہوں اور تمھارے سچے ہونے میں مجھے شبہ ہے۔ پھر انھوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں ان کو کیا مقام و مرتبہ حاصل تھا۔ بتایا کہ ان کو آپ سے جو قربت حاصل تھی، وہ کسی اور کو نہيں تھی۔ کیوں کہ ان کی بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی تھیں اور خود وہ کاتبین وحی میں شامل تھے۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے آپ سے بہت کم حدیثیں نقل کی ہیں۔ پھر انھوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک دن گھر سے نکلے، تو دیکھا کہ کچھ صحابہ مسجد میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر رہے ہيں اور اسلام کی ہدایت دینے پر اس کی تعریف کر رہے ہيں۔ چنانچہ آپ نے ان سے بیٹھنے کا مقصد پوچھا اور قسم بھی کھانے کو کہا، جیسا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ پھر آپ نے اپنے ساتھیوں کو بیٹھنےکا سبب پوچھنے اور قسم کھانے کو کہنے کی وجہ بھی بتا دی۔ بتایا کہ آپ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے تھے اور بتا رہے تھے کہ اللہ تعالی فرشتوں کے سامنے ان پر فخر و مباہات کر رہا ہے، ان کی فضیلت کا اظہار کر رہا ہے، ان کا حسن عمل دکھا رہا ہے اور ان کی تعریف کر رہا ہے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر کسی شخص کو رات کے ابتدائی حصے میں جنابت لاحق ہو جائے، بایں طور کہ اپنی بیوی سے جماع کر لے، اگرچہ انزال نہ ہواہو یا اسے احتلام ہو جائے تو کیا وہ حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے انھیں اس کی اجازت دے دی، بشرطے کہ وہ شرعی طریقے سے وضو کر کے حدث اکبر کو کچھ کم کر لے۔ اس صورت میں جناب کی حالت میں سونے میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھانے سے پہلے اللہ کا نام لینے کا حکم دیا ہے۔ جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت بسم اللہ کہتا ہے، تو شیطان اپنے معاونوں سے کہتا ہے کہ تمھارے لیے اس گھر میں رات گزارنے کی جگہ اور رات کے کھانے کی گنجائش نہیں ہے، کیوں کہ گھر کے مالک نے تم سے اللہ کی پناہ لے لی ہے۔ اس کے برخلاف جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا، تو شیطان اپنے معاونوں سے کہتا ہے کہ اس گھر میں ان کے رات گزارنے اور کھانے کا انتظام ہو گیا ہے۔
ابو بکر رضی اللہ عنہ کے اس اثر میں دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول ﷺ کے اہل بیت کے حق سے اور ان کی توقیر و احترام سے آگاہ تھے۔ اہل بیت میں سے جو شخص راست روی سے دین پر قائم ہو اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کا پیرو ہو اس کے دو حق ہیں: ایک اسلام کا حق اور دوسرا رسول اللہ ﷺ سے رشتہ داری کا حق۔ اس میں اس بات کا (بھی) بیان ہے کہ ابو بکر اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اہل بیت سے محبت رکھتے تھےاور ان کے بارے میں خیر خواہی کی تلقین کرتے تھے۔
حیا نفس کی ایک صفت ہے، جو انسان کو ایسے عمل پر ابھارتی ہے جو عمدگی اور زیبائش کا سبب ہو اور ایسے عمل کو ترک کرنے کی ترغیب دیتی ہے، جو گندگی اور عار کا سبب ہو۔ اس لیے حیا خیر ہی کا سبب ہوا کرتی ہے۔ اس حدیث کا سبب ورود یہ ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو حیا نہ کرنے کی نصیحت کر رہا تھا کہ نبی ﷺ نے اس سے یہ بات ارشاد فرمائی۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے دو قسم کے لوگوں کی ایک مثال دی ہے: پہلی قسم : صالح ہم نشیں اور دوست، جو اللہ اور اس کی رضا کے کاموں کی راہ دکھائے اور نیکی کے کاموں میں معین و مددگار ہو۔ اس کی مثال خوشبو بیچنے والے کی طرح ہے۔ وہ یا تو ہدیہ کرے گا یا تم اس سے خرید لوگے یا کم از کم اس کی خوشبو تمھارے مشام جاں کو معطر کرے گی۔ دوسری قسم : برا دوست اور ہم نشیں، جو اللہ کی راہ سے روکے، گناہ کے کاموں میں مدد کرے اور برے برے کام کرے اور اس کى صحبت اور دوستى سے اس کے ہمنشیں اور دوست کو مذمت لا حق ہو۔ ایسے دوست کی مثال اس لوہار کی طرح ہے، جو بھٹی پھونکتا رہتا ہو۔ وہ یا تو اڑتی ہوئی چنگاریوں سے تمھارے کپڑے جلا دے گا یا پھر اس کی بھٹی کی بدبو سے تمہاری طبیعت مکدر ہوتی رہے گی۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اکثر اس بات کی دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ آپ کو دین و طاعت گزاری پر ثابت قدم اور گمراہی و کج روی سے دور رکھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا اتنی زیادہ کیوں کرتے ہيں؟ لہذا آپ نے ان کو بتا دیا کہ انسان کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں۔ وہ ان کو جیسے چاہتا ہے، پلٹتا رہتا ہے۔ قلب ایمان اور کفر کا بسیرا ہے۔ قلب کو قلب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ الٹ پھیر کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ قلب ہانڈی میں موجود اس پانی سے بھی زیادہ الٹ پھیر کا شکار رہتاہے، جو تیز آنچ کی وجہ سے جوش مار رہا ہو۔ ایسے ميں اللہ جس شخص کے دل کو چاہتا ہے، ہدایت پر قائم اور دین پر ثابت رکھتا ہے۔ اس کے برخلاف جس کے دل کو چاہتا ہے، گمراہی کی طرف پھیر دیتا ہے۔
اس حدیث قدسی میں نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے کسی قریبی عزیز وغیرہ سے محروم ہو جاتا ہےاور اپنے پسندیدہ شخص کی وفات پر صبر کرتا ہے۔ حالاںکہ وہ اس کا بہت قریبی تعلق والا ہوتا ہے، جیسے بچہ، بھائی، چچا، باپ، ماں اور دوست۔ کسی ایسے فرد کو اللہ تعالی اگر (موت دے کر) لے لے اور آدمی اس پر صبر کرے، تو جنت کے سوا اس کا کوئی بدلہ نہیں ہوتا۔