





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ثابت رحمہ اللہ سے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا بتلایا ہوا دم نہ کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے یہ دعا پڑھی: ”اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ البَأسِ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي، لاَ شَافِيَ إِلاَّ أنْتَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقماً“ اے اللہ، اے لوگوں کے پروردگار، اے پریشانی کو دورکرنے والے! تو شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ثابت البنانی رحمہ اللہ کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ کیا میں تمہیں وہ دم نہ کروں جو نبی ﷺ کیا کرتے تھے؟۔ آپ ﷺاپنے رب سے مریض کے لیے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ وہ اس سے مرض کی شدت، اس کی سختی اور تکلیف کو دور کردے اور ایسی شفا دے دے جس کے بعد پھر سے مرض لوٹ کر نہ آئے۔ علماء کا دَم (رقیہ) کے جائز ہونے پر اتفاق ہے بشرطیکہ تین شرائط پائی جائیں: 1۔ یہ کلام اللہ یا اس کے اسماء و صفات کے ساتھ ہونا چاہئے۔ 2۔ یہ عربی زبان میں ہو اور اس کا معنی سمجھ میں آنے والا ہو۔مستحب یہ ہے کہ یہ ان الفاظ کے ساتھ ہو جو احادیث میں آئے ہیں۔ 3۔ اس بات کا عقیدہ رکھنا کہ دَم (رقیہ) میں بذات خود کوئی تاثیر نہیں بلکہ اس میں تاثیر اللہ کی طرف سے آتی ہے۔
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو میرے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی اس طرح وضو کرے، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے اور اس کی نماز اور مسجد کی جانب اس کا جانا مزید ثواب کا باعث ہوگا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کامل مشروع طریقے سے وضو کرنے کے بعد فرمایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے وضو کرنے کی طرح وضو کرتے ہوۓ دیکھا، پھر نبی کریمﷺ نے یہ خوش خبری سنائی کہ جو شخص اس طرح وضو کرے، اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل و کرم نازل فرماتا ہے اور حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والے اس کے گذشتہ معمولی نوعیت کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ اس کا نماز پڑھنااور مسجد کی جانب چل کر جانا ،گناہوں کی بخشش کے علاوہ زائد اجر و ثواب کا باعث ہوتا ہے۔ مذکورہ وضو کی صفت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حمران نامی غلام سے مروی حدیث میں مذکور ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے پانی کا برتن منگوایا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈال کر انھیں دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا۔ کلی کی۔ ناک جھاڑی۔ پھر اپنا چہرہ اور کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر تین مرتبہ اپنے پاؤں دھوئے۔
جندب بن سفیان البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے فجر پڑھ لی وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے۔ اس لیے اے آدم کے بیٹے! اس بات کو دھیان میں رکھ کہ کہیں اللہ تعالیٰ تجھ سے اپنی امان کی بابت کسی قسم کی باز پرس نہ کرے“۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں نماز فجر کی فضیلت کا بیان ہے اور یہ کہ اس نماز کا ادا کرنے والا اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں ہو جاتا ہے یعنی اس کی حفاظت و نگہبانی اور اس کی ضمانت میں آجاتا ہے اور اس کو وہ اپنے امان میں داخل فرمالیتا ہے۔ ابی نعیم کی مستخرج (252/2، حدیث نمبر:1467) میں موجود ایک روایت میں ”جماعت کے ساتھ“ کے الفاظ مذکور ہیں۔ نیز نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کو خبردار کردیا، جو اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں رہنے والے ان نمازیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی جرات کرتے ہیں اور سخت تنبیہ و دھمکی کے اسلوب میں ان سے خطاب فرمایاکہ:اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں رہنے والوں کو تکلیف پہنچاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط گمان و خیال میں نہ رہنا (کہ وہ تمھیں چھوڑ دے گا) بلکہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی سخت سزا اور جہنم میں داخلے-والعیاذ باللہ- کا سبب ہوگی۔ آپ کے قول: ”کہیں، اللہ تعالیٰ تجھ سے اپنے امان کی بابت کسی قسم کی باز پرس نہ کرے“ کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ نماز فجرمیں کوتاہی نہ کرو یا کوئی برا عمل نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ تمھاری حفاظت کا وعدہ واپس لے لے۔!! یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز فجر، دن کی نماز کی کنجی و کلید ہے، بلکہ دن بھر کے عمل کی کلید ہے اور یہ گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس بات کا عہد و پیمان ہے کہ بندۂ مومن اپنے رب عز و جل کی اطاعت و فرماں برداری، اس کے اوامر کی پیروی اور اس کی منع کردہ باتوں سے اجتناب کرتے ہوئے انجام دے گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے دونوں کندھوں پر کچھ بھی کپڑا نہ ہو“۔
متفق علیہنمازی سے مطلوب یہ ہے کہ وہ بہترین ہیئت اختیار کرے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ ”اے آدم کی اولاد مسجدوں میں آتے ہوئے زینت اختیار کرو“۔ اور اس لیے کہ بادشاہوں، معززین اور سرداروں سے ملنے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان بہترین حالت اور ہیئت کو اختیار کرے۔ ذرا سوچئے کہ پھر جو بادشاہوں کا بادشاہ اور سرداروں کا سردار ہے اس سے کیسے ملنا چاہیے؟ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے نمازی کو اس بات کی تلقین فرمائی کہ وہ اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے ننگے ہوں حالانکہ اس کے پاس ایسا کپڑا بھی ہو جس سے وہ ان دونوں کو یا ان میں سے ایک کو چھپا سکتا ہو۔ آپ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اس حال میں نماز ادا کرے اور اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس سے مناجات کرے۔
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھاتے اور آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اُس وقت بھی دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابرتک اٹھاتے اور جب آپ ﷺ اپنا سرِمبارک رکوع سے اٹھاتے تو ”سَمع الله لِمَن حَمِده“ کہتے اور پھر آپ ایسا ہی کرتے (یعنی ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے)۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کررہے ہیں کہ ”نبی ﷺ جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کے برابر کرلیتے“یعنی آپ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ وہ آپ کے کانوں کے برابر آ جاتے۔ایک اور روایت میں ہے کہ ”یہاں تک کہ آپ ﷺ انہیں اپنے کانوں کی فروع (لَوْ) تک لے آتے“۔ کان کی فروع سے مراد اس کا بالائی حصہ ہے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے کہ ’’آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کندھوں کے سامنے لے آتے‘‘۔ یعنی کندھوں کے بالمقابل اور ان کے برابر کر لیتے۔ یہ تین روایات ہیں۔ اول: آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کانوں کے برابر تک لے جاتے۔ دوم: آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کانوں کے بالائی حصے کے برابر لے آتے۔ سوم: آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کندھوں کے برابر لے آتے۔چنانچہ نمازی کو اختیار ہے کہ وہ ان تینوں میں سے جیسے چاہے کر لے۔ یا پھر وہ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کندھوں کے برابر لے آئے بایں طور کہ اس کی انگلیوں کی کنارے اس کے کانوں کے اوپری حصے کے برابر آ جائیں، اس کے دونوں انگوٹھے کانوں کے لو کے برابر اور اس کی ہتھیلیاں کندھوں کے سامنے ہو جائیں۔ ”إذا كَبَّر رفع يَديه“ یعنی تکبیر کہنے کے ساتھ ہی آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے۔ مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ ”آپ ﷺ پہلے ہاتھ اٹھاتے اور پھر تکبیر کہتے“ یعنی ہاتھ اٹھانے کے بعد تکبیر کہتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”آپ ﷺ پہلے تکبیر کہتے اور پھر اپنے ہاتھ اٹھاتے“۔ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے کی یہ تین صورتیں ہیں۔اس بنا پر معلوم ہوا کہ یہ سنت کئی انداز سے آئی ہوئی ہے۔ چنانچہ نمازی آپ ﷺ سے وارد سنت کی اتباع میں ان تمام طریقوں پر عمل کرے۔ ”وإذا ركَع رفع يَديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه“ یعنی آپ ﷺ جب رکوع میں جاتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر کانوں کے برابر کر لیتے۔ یہ وہ دوسرا مقام ہے جہاں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔ ”وإذا رفع رأسه من الرُّكوع فقال: سَمع الله لِمَن حَمِده“ یعنی جب رکوع سے اٹھتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔ یہ ذکر نماز کے واجبات میں سے ہے۔ ”فعل مِثل ذلك“ یعنی آپ ﷺ ویسا ہی کرتے جیسا آپ ﷺ تکبیرِ تحریمہ کے وقت کرتے تھے یعنی ہاتھوں کو اٹھا کر انہیں کانوں کے برابر لے آتے۔ یہ وہ تیسرا مقام ہے جہاں نماز میں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔نماز میں یہ کل تین مقامات ہیں جہاں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔ چوتھا مقام تین یا چار رکعت والی نماز میں پہلی تشہد سے اٹھنے پر رفع الیدین کرنا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے اور جب کسی کنواری بیوی کی موجودگی میں پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کی ہے۔
متفق علیہدوسری بیوی یا دو سے زائد بیویوں کے ہوتے ہوئے نیا نکاح کرنے والوں کے تئیں اس حدیث میں نبی ﷺ سے ثابت شدہ سنت کی وضاحت کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر نئی بیوی کنواری ہو تو وہ اس کے ہاں سات راتیں گزارے، پھر اس کے اور اپنی دیگر بیویوں کے مابین باریاں طے کرے اور اگر نئی بیوی غیر کنواری (شادی شدہ) ہو تو اس کے ہاں تین راتیں قیام کرے، پھر باریاں تقسیم کرے ۔ کنواری اور شادی شدہ بیویوں کے درمیان یہ تقسیم ہوگی کیونکہ کنواری خاتون کے ساتھ زیادہ انسیت پیدا کرنے اور اس کی اجنبیت کا خوف اور اس کےاحساس شرم و حیاکو زائل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ اس کے نکاح کا بالکل ابتدائی زمانہ ہوتا ہے۔ شادی شدہ خاتون کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے،اس لیے اس کو ان چیزوں کی بہت کم ضرورت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ مرد کو شادی شدہ کے بالمقابل، کنواری خاتون کی جانب زیادہ رغبت و خواہش ہوتی ہے، چنانچہ شارع نے اس کو اتنی مدت عنایت فرمائی کہ اس کی دلی خوشی کا سامان ہو اور اس کی جنسی خواہش کو سیرابی میسر آجائے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کے دوران ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کا چہرہ جہنم سے ستّر سال دور کر دیتا ہے۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا کہ جو شخص جہاد کے دوران خالص اللہ کی رضا جوئی اور اجر وثواب کے حصول کی خاطر ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ اپنے فضل و کرم سے اس کے اور جہنم کے درمیان ستر سال کی دوری پیدا فرما دیتا ہے۔اور یہ بھى کہا گیا ہے کہ (اللہ کى راہ میں روزہ رکھنے سے مراد) جہاد کے دوران اور دوسرے ایام کے دوران سب ہیں۔
سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک جلد افطار کرتے رہیں گے۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک سورج ڈوبنے کا یقین ہو جانے کے فورا بعد افطار کر لیا کریں گے۔ اور ایسا سنت کى پیروى اور اس کی متعین کردہ حد پر رک جانے کى وجہ سے ہوگا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے نبی ﷺ کے زمانہ میں صدقۂ فطر، ہر چھوٹے بڑے، آزاد یا غلام کی جانب سے ایک صاع کھانے کی چیز، یا ایک صاع پنیر، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش نکالتے تھے۔ یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ جب معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں حج یا عمرہ کے ارادے سے آئے اور منبر پر بیٹھ کر لوگوں سے بات کی، تو ایک بات یہ بھی کہی کہ میں سمجھتا ہوں کہ شام کی دو مد گیہوں ایک صاع کھجور کے برابر ہے۔ لہذا لوگوں نے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ لیکن ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے، تو میں جب تک زندہ رہوں گا، صدقہ فطر اسی مقدار میں نکالتا رہوں گا، جس مقدار سے میں نبی ﷺ کے دور میں نکالا کرتا تھا۔
متفق عليهمسلمان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں ہر چھوٹے بڑے شخص کی جانب سے ایک ایک صاع کھانے کی چيز نکالا کرتے تھے۔ اور ان دنوں ان کے کھانے کی چيزیں یہ تھیں: جَو، کشمش ، پنیر اور کھجور۔ یہاں یہ یاد رہے کہ صاع چار مد کا ہوتا ہے اور ایک مد ایک معتدل قد وقامت والے شخص کے ایک لپ کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن حب معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ کی حیثیت سے مدینہ آئے اور شامی گیہوں کى کثرت ہوگئى، تو انھوں نے خطبہ دیا اور فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ شام کی دو مد (نصف صاع) گیہوں ایک صاع کھجور کے برابر ہے۔ چنانچہ لوگوں نے ان کے اس قول پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ لیکن ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جہاں تک میری بات ہے تو میں زندگی بھر زکاۃ فطر اسی طرح نکالتا رہوں گا، جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے دور میں نکالا کرتا تھا۔