





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنمیوں میں سے سب سے کم عذاب اس شخص کو ہو رہا ہو گا، جس کے لئے آگ کے دو جوتے اور دو تسمے ہوں گے، ان سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے۔ وہ سمجھے گا کہ اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں ہو رہا ہے۔ حالاں کہ اسے ان سب سے ہلکا عذاب ہو رہا ہو گا“۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والا شخص وہ ہوگا، جس کے پیروں میں آگ کے دو جوتے ہوں گے، جن کی گرمی سے اس کا دماغ پیتل کی ہانڈی کی طرح کھول رہا ہوگا۔ وہ سمجھ رہا ہوگا کہ اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہيں ہو رہا ہوگا۔ حالاں کہ اسے سب سے زیادہ ہلکا عذاب ہو رہا ہوگا۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں: اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کا عمل۔ دو تو لوٹ آتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ رہ جاتی ہے؛اس کے گھر والے، اور اس کی دولت لوٹ آتے ہیں اور اس کا عمل اس کے ساتھ رہ جاتا ہے“۔
متفق علیہحدیث کا مفہوم: جب انسان مر جاتا ہے تو اسے رخصت کرنے والے اس کے ساتھ ساتھ جاتے ہیں۔ چنانچہ اس کے گھر والے اس کی قبر تک اس کے ساتھ جاتے ہیں اور اس کا مال یعنی اس کے غلام، خادم اور مملوکہ لوگ بھی اس کے ساتھ جاتے ہیں اور اس کا عمل بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ دو تو لوٹ آتے ہیں اور اس کا عمل اس کے ساتھ ہی رہ جاتا ہے۔ اگر نیک عمل ہوا تو نیک عمل ساتھ رہتا ہے اور اگر برا عمل ہوا تو برا عمل ساتھ رہے گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سوار پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کريں۔" جب کہ بخاری کی روایت میں ہے : "چھوٹا بڑے کو، راہ گیر بیٹھے ہوئے کو اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک دوسرے کو سلام کرنے کے آداب سکھائے ہیں۔"السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" آپ نے بتایا ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کرے، سوار پیدل کو سلام کرے، پیدل بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم تعداد زیادہ تعداد کو سلام کرے۔
نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’’نیکی تو اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے یہ ناگوار ہو کہ لوگ اس سے باخبر ہوں‘‘۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: سب سے بڑی نیکی حسن اخلاق ہے۔ اللہ کے ساتھ حسن اخلاق یہ ہے کہ تقوی اختیار کیا جائے اور مخلوق کے ساتھ حسن اخلاق یہ ہے کہ ان کی اذیتوں کو برداشت کیا جائے، غصہ کم کیا جائے، ہنس کر ملا جائے، اچھی بات کی جائے، صلہ رحمی کی جائے، بات مانی جائے، لطف آمیز برتاؤ کیا جائے، حسن سلوک کے ساتھ زندگی گزاری جائے اور اچھی صحبت رکھی جائے۔ جب کہ گناہ ایسی مشتبہ چيز ہے، جو دل میں کھٹکے، اس سے دل مطمئن نہ ہو، بار بار یہ شک اور اندیشہ دل میں آتا رہے کہ کہیں یہ گناہ تو نہیں ہے اور آپ اسے اچھے، نیک اور کامل لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرنا چاہیں۔ کیوں کہ فطری طور پر انسان کا نفس یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی اچھی باتوں کو ہی جانیں۔ لہذا اگر آپ کسی بات سے لوگوں کی آگاہی کو ناپسند کر رہے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گناہ ہے اور اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کا وہ اونٹ اچانک مل جائے جسے وہ بےآب و گیاہ چٹیل میدان میں گم کربیٹھا ہو“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”الله اپنے بندے کی توبہ کی وجہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی بے آب وگیاہ چٹیل میدان میں اپنی سواری پر سفر کر رہا ہو کہ اس کی سواری اس سے گم ہو جائے اور اس کے کھانے پینے کا سامان بھی اسی پر ہو۔ وہ اس کے ملنے سے مایوس ہو کر ایک درخت کے نیچے آکر اس کے سائے میں لیٹ جائے اور اسے اپنی سواری کے مل جانے کی کوئی امید نہ رہے۔ ایسے میں اچانک اس کی سواری اس کے سامنے آ کھڑی ہو۔ اور وہ اس کی نکیل پکڑ کر فرط مسرت سے یوں کہہ بیٹھے کہ اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب! یعنی خوشی کی شدت کی وجہ سے وہ غلطی سے ایسا کہہ دے“۔
متفق علیہنبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ جب کوئی بندہ اللہ کی اطاعت اور اس کا حکم بجا لا کر اخلاصِ قلب کے ساتھ اس کی طرف لوٹ آتا ہے تو اللہ اس بندے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی بے آگ وگیاہ چٹیل میدان میں ہو اور اس کے ارد گرد کوئی اور شخص نہ ہو، نہ کچھ کھانے پینے کی اشیاء ہوں اور نہ لوگ اور وہاں اس کا اونٹ گم ہو جائے۔ وہ اسے تلاش کرے لیکن اسے نہ ملے اور پھر ایک درخت کے نیچے جا کر سو جائے اور موت کا انتظار کرنا شروع کر دے۔ وہ اپنے اونٹ سے اور اپنی زندگی سے ناامید ہو چکا ہو کیونکہ اس کے کھانے پینے کا سامان اس کے اونٹ پر ہی لدا تھا اور وہ گم ہو چکا ہے۔ وہ اسی حال میں ہو کہ اچانک اسے اس کا اونٹ مل جائے بایں طور کہ اس کی نکیل اس درخت کے ساتھ پھنسی ہو جس کے تلے وہ سو رہا تھا۔ اس شخص کی خوشی کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کا تصور صرف وہی کر سکتا جو خود کبھی اس قسم کی صورت حال سے گزرا چکا ہو۔ کیونکہ یہ بہت بڑی خوشی ہے۔ موت کے منہ میں جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی کی خوشی حاصل ہوئی اسی لیے اس نے نکیل پکڑ کر کہا کہ اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں‘‘۔ وہ چاہتا تھا کہ اللہ کی تعریف بیان کرے اور یوں کہے: اے اللہ! تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ لیکن خوشی کی شدت کی وجہ سے وہ غلطی کر بیٹھے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالی بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے، جب تک کہ اس پر غرغرہ کی کیفیت طاری نہ ہوجائے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اللہ عز و جل بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتاہے، جب تک اس کی روح حلق تک نہ آ جائے۔ جب روح حلق تک آ جاتی ہے، تو اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے؛ کیوںکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآن﴾ [النساء: 18]. ”ان کی توبہ نہیں، جو برائیاں کرتے چلے جائیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے، تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی“۔
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ عزوجل رات میں اپنا ہاتھ پسارتا ہے، تاکہ دن کا گنہ گار توبہ کر لے اور دن میں اپنا ہاتھ پسارتا ہے، تاکہ رات کا گنہ گار توبہ کرلے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جا ئے۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ جب بندہ دن میں گناہ کرنے کے بعد رات میں توبہ کرتا ہے، تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ اسی طرح جب رات میں گناہ کرنے کے بعد دن میں توبہ کرتا ہے، تو اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ اللہ اپنا ہاتھ توبہ کی خوشی میں اور اسے قبول کرنے کے لیے پھیلاتا ہے۔ توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا رہے گا، جب تک دنیا کے ختم ہو جانے کی نشانی کے طور پر سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔ جب سورج مغرب سے طلوع ہو جائے گا، تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”پہلے کے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تیرے اندر شرم و حیا نہ رہے، تو جو چاہے کر۔“
رواه البخارينبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پچھلے انبیا کی کی ہوئی جو وصیتیں لوگوں میں رائج رہی ہیں اور نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی اس امت کی پہلی نسل تک آئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ: جو کام تم کرنا چاہتے ہو، پہلے اسے دیکھ لو، کام اگر ایسا ہو کہ اسے کرنے میں حیا نہیں کی جاتی ہے، تو کر ڈالو۔ لیکن کام اگر ایسا ہو کہ اسے کرتے ہوئے حیا کی جاتی ہے، تو چھوڑ دو۔ کیوں کہ برے کاموں سے روکنے والی چيز حیا ہی ہے۔ جس کے اندر حیا نہ ہو، وہ ہر فحش اور غلط کام میں ملوث ہو جائے گا۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بيان کرتے ہيں کہ رسول الله ﷺ نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا : ”دنیا میں ایسے رہو، جیسے ایک اجنبی یا راہ گیر ہو“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرمايا کرتے تھے: ”جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو۔ اپنی صحت وتندرستی کے زمانے ميں بيماری کے ليے اور اپنی زندگی ميں موت کے ليے تيارى كرلو“۔
رواه البخاريعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کندھے کو پکڑا اور ان سے کہا : دنیا میں ایسے رہو، جیسے تم ایک اجنبی آدمی ہو، جو ایک ایسی جگہ پہنچ چکا ہو، جہاں نہ رہنے کا گھر ہو اور نہ دل بہلانے کے لیے آدمی۔ نہ اہل و عیال ہوں اور نہ رشتے داریاں۔ کیوں کہ یہی چيزیں انسان کو اس کے پیدا کرنے والے سے مشغول رکھتی ہیں۔ بلکہ اجنبی سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر اپنے وطن کی تلاش میں نکلا ہوا راہ گير بن جاؤ۔ اجنبی شخص تو کبھی کبھی کسی اجنبی جگہ میں اقامت گزیں بھی ہو جاتا ہے، لیکن اپنے شہر کی جانب جاتا ہوا راہ گير چلتا ہی رہتا ہے۔ کہیں اقامت پزیر نہيں ہوتا۔ اس کی نظر منزل پر رہتی ہے۔ لہذا جس طرح ایک مسافر اتنی ہی چيزیں ساتھ لے جانا ضروری سمجھتا ہے، جو منزل تک پہنچا دیں، اسی طرح ایک مومن دنیا کے اتنے ہی اسباب جمع کرنا ضروری سمجھتا ہے، جو اسے منزل (جنت) تک پہنچا دیں۔ چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس نصیحت پر مکمل طور سے عمل کیا۔ وہ کہا کرتے تھے : صبح آئے، تو شام کا انتظار مت کرو اور شام آئے تو صبح کا انتظار مت کرو۔ خود کو قبر میں دفن لوگوں میں شمار کرو۔ کیوں کہ انسان کی زندگی صحت اور مرض سے خالی نہيں ہوتی۔ اس لیے بیماری کے دن آنے سے پہلے صحت کے دنوں میں نیکی کے کام کر لیا کرو۔ صحت کے دنوں میں نیکی کے کام کرتے جاؤ کہ کہیں بیماری راہ نہ روک لے۔ دنیا کی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے ایسی چیزیں اکٹھی کرلو، جو موت کے بعد کام آئيں۔