Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اپنے کچھ خاص حالات کا ذکر کر رہی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غسل جنابت کیا کرتیں اور دونوں ایک ہی برتن سے پانی لے کر غسل کیا کرتے تھے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب ان کے ساتھ حیض کی حالت میں اپنا جسم ملانے کا ارادہ کرتے تھے، تو انھیں اپنے بدن پر ناف سے گھٹنوں تک کپڑا لپیٹ لینے کا حکم دیتے اور ان کے ساتھ جسم کو ملاتے۔ اور جماع کے علاوہ سب کچھ کرتے تھے۔ تیسری یہ ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مسجد میں اعتکاف فرما رہے ہوتے اور اس دوران اپنا سر عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب نکال دیتے اور وہ حیض کی حالت میں اپنے گھر سے آپ کا سر دھو دیتیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا ایک قصہ بیان کر رہی ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہےکہ نبی ﷺ مسواک سے کس قدر محبت کرتےتھے۔ عبد الرحمن بن ابى بکر رضی اللہ عنہ جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب کہ آپ ﷺ حالت نزع میں تھے۔ ان کے پاس ایک تروتازہ مسواک تھی، جسے وہ اپنے دانتوں پر رگڑ رہے تھے۔ نبی ﷺ نے جب عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس مسواک دیکھی، تو اپنی بیماری اور حالت نزع کے باوجود آپ ﷺ مسواک کی طرف متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے، کیوںکہ آپ ﷺ کو یہ بہت پسند تھی۔ آپ ﷺ مسلسل اس کی طرف دیکھ رہے تھے، جیسے اسے استعمال کرنے کےخواہش مند ہوں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھانپ کر اپنے بھائی سے مسواک لی، اپنے دانتوں سے اس کا سرا کاٹا اور صاف ستھری کر کے نبی ﷺ کو دے دیا اور آپ ﷺ نے اس سے مسواک کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو اس سے بہتر انداز میں مسواک کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ جب آپ ﷺ (دندان مبارک) صاف کر چکے اور مسواک سے فارغ ہوگئے، تو انگلی اٹھا کر اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا اور اپنے رب کےجوار کو اختیار کرتے ہوئے وفات پاگئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات پر فخر کیا کرتی تھیں کہ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی، تو آپ ﷺ کا سر مبارک ان کے سینے پرتھا اور ان کا اس بات پر فخر کرنا بجا بھی تھا۔
نبی ﷺ بیان فرما رہے ہیں کہ آپ ﷺ کا معاملہ آپ ﷺ کی امت کے ساتھ ایسے ہے جیسے صحراء میں موجود وہ شخص جس نے آگ جلائی تو پتنگے اور پروانے آ آ کر اس میں گرنے لگے کیونکہ عموماً پروانے، پتنگے اور چھوٹے کیڑے مکوڑے ایسے ہی کرتے ہیں کہ جب کوئی انسان خشکی پر آگ جلاتا ہے تو وہ اس کی روشنی کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ آپ ﷺ فرما رہے ہیں کہ میں تمہیں اس آگ میں گرنے سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے نکلے جا رہے ہو اور ایسا نبی ﷺ کی مخالفت اور آپ ﷺ کی سنت کو ترک کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
نبی ﷺ کی فطرت میں محاسن اخلاق ودیعت کردیے گیے اور انھیں اوصاف میں سے رحمت اور نرم دلی ہے، اگر آپ ﷺ اپنے کسی صحابی کو نہ پاتے تو ان کے بارے میں ضرور دریافت فرماتے اور ان کے احوال کی خیرخبر لیتے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے صاحبِ قبر کے تئیں دریافت کیا تو صحابہ کرام نے آپ کو ان کی وفات کی خبردی اور آپ کی خواہش تھی کہ اگر انھوں نے آپ ﷺ کو خبر دی ہوتی تو ان کی نماز جنازہ پڑھاتے کیوں کہ آپ ﷺ کی نماز میت کے لیے سکون کا باعث ہوتی ہے اور اس سے اُس کو ایسی روشنی میسر آتی ہے جو قبر کی تاریکی کا خاتمہ کردیتی ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے ان کی قبر پر نماز جنازہ ادا فرمائی جس طرح کسی موجود میت کی نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ نبی ﷺ کی جانب سے قبر پر نماز جنازہ ادا کرنے سے یہ مفہوم مستنبط نہ کیا جائے کہ آپ نے قبر کے اوپر چڑھ کر نماز ادا فرمائی، بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ آپ نے عام نمازِ جنازہ کی طرح اس قبر کے ایک کنارے کھڑے ہوکر، اس کی طرف رُخ کرکے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی۔
نبی ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ جمعے کے دن نماز فجر میں پہلی رکعت کے اندر سورۂ فاتحہ کے بعد مکمل سورۂ الٓم سجدہ پڑھتے اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد مکمل سورۂ انسان (دھر) کی تلاوت فرماتے۔ ایسا آپ ﷺ ان عظیم واقعات کو یاد دلانے کے لیے کرتے، جن کا ذکر ان دونوں سورتوں میں آیا ہے اور جو واقع ہو چکے یا اس دن (یعنی جمعے کے دن) واقع ہوں گے، جیسے تخلیق آدم، قیامت اور انسانوں کے میدان حشر میں جمع ہونے اور قیامت کے احوال وغیرہ کا ذکر۔
نبی ﷺ مسلسل کئی راتیں بنا کھائے سوتے، اور اسی طرح آپ ﷺ کے اہل و عیال، کیونکہ ان کو رات کا کھانا میسر نہیں ہوتا، اور اکثر ان کے کھانے میں جو کی روٹی ہوتی۔ جو گیہوں کے بالمقابل کم مہنگا ہوتا ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ شدید بیماری میں مبتلا تھے۔انھوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر کہا: یا رسول اللہ! بیماری کے دوران آپ پر بہت سخت تکلیف آتی ہے۔ آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ آپ ﷺ کو بیماری کے دوران اتنی سخت تکلیف ہوتی ہے، جتنی ہم میں سے دو آدمیوں کو ہوتی ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے؛ تاکہ آپ ﷺ صبر کے بلند مراتب کو پا سکیں۔
تمام انبیاء نے اپنی زندگی میں بکریاں چرائی ہیں۔ ظاہرِ حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے نبوت سے پہلے بکریاں چَرائی ہیں۔ اس کی حکمت کے بارے میں علماء نے فرماتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہے تاکہ اُن نبیوں کو لوگوں کی نگرانی کرنے اور ان کو نیکی کی طرف متوجہ کرنے کی مشق ہو۔ کیونکہ بکریوں کا چرواہا کبھی ان کو چراگاہ کی طرف لے جاتا ہے اور کبھی ایسے ہی چھوڑ دیتا ہے اور کبھی گھاٹ میں پانی پلانے لے جاتا ہے۔ نبی بھی اپنی امت کی رہنمائی کرتا ہے اور انہیں علم، ہدایت اور بصیرت ے عبارت خیر کی طرف متوجہ کرتا ہے اس چرواہے کی طرح جسے اچھی چراگاہ کے بارے میں علم ہوتا ہے اور اسے اس چیز کا بھی علم ہوتا ہے جس میں بکریوں کے لیے بہتری اور ان کے کھانے پینے کا سامان ہوتا ہے۔ اس کام کے لیے بکریوں کو اس لیے چُنا گیا کہ بکری والے سکون، ٹھہراؤ اور اطمینان کے ساتھ متصف ہوتے ہیں برخلاف اونٹوں کے، اس لیے کہ اونٹوں والوں میں اکثر سختی اور شدت پائی جاتی ہے۔اس لیے کہ بذاتِ خود اونٹوں میں بھی سختی پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بکریاں چرانے کے لیے چُنا تاکہ ان میں ان کی عادت آ جائے اور لوگوں کی رہنمائی کرنے کی مشق ہو۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کی روح آپ کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، تاکہ آپ کسی بھی سلام کرنے والے کو سلام کا جواب دے سکیں۔ خواہ وہ دور ہو یا نزدیک۔ یاد رہے کہ برزخ اور قبر کی زندگی کا تعلق عالم غیب سے ہے، جس کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہيں جانتا، جو ہر چیز پر قادر ہے۔