





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو آپ کا سر میرے سینے اور گردن کے بیچ میں رکھا ہوا تھا۔ وہ کہتی ہیں: "جب آپ کی روح نکلی، تو ایسی خوش بو محسوس ہوئی کہ میں نے کبھی اس سے بڑھ کر پاکیزہ خوش بو محسوس نہیں کی"۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ ان کے سینے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پھر جب آپ کی روح نکلی تو ان کو ایسی پاکیزہ خوش بو محسوس ہوئی کہ اس سے پاکیزہ خوش بو کبھی محسوس نہیں کی۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو جواب دیا: "آپ ایک عام انسان کی طرح رہتے۔ اپنے کپڑے سے پسو اور چچڑی وغیرہ نکالتے، اپنی بکری دوہتے اور اپنے کام خود کرتے"۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو جواب دیا: آپ ایک عام انسان کی طرح رہتے۔ اپنے کپڑے سے چچڑی اور تکلیف دہ چیزوں کو نکالتے، اپنی بکری دوہتے اور اپنے کام خود کرتے تھے۔ در اصل انھوں نے ان کاموں کا ذکر بطور مثال کیا ہے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں نبی بنائے گئے۔ پھر مکہ میں تیرہ سال رہے اور اس مدت میں آپ پر وحی آتی رہی۔ پھر ہجرت کا حکم ہوا اور ہجرت کی سر زمین میں دس سال رہے اور تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
متفق علیہاس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر چالیس سال کی عمر میں وحی اترنا شروع ہوا۔ اس کے بعد مکہ میں تیرہ سال ٹھہرے اور اس بیچ آپ پر وحی اترتی رہی۔ پھر اللہ نے آپ کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا اور وہاں دس سال رہے اور وہیں وفات پائی, اس طرح آپ نےتریسٹھ سال کی عمر پائی۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و لم کے آخری دیدار کی سعادت اس وقت حاصل ہوئی، جب آپ نے (اپنے کمرے اور مسجد کے بیچ میں پڑا ہوا) پردہ اٹھایا۔ اس وقت لوگ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ کو دیکھ کر ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو آپ نے لوگوں کو اس بات کا اشارہ کرنے کے بعد کہ اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے رہو، پردہ ڈال دیا اور اسی دن کے آخری حصے میں آپ کى وفات ہوگئی, اور وہ دن سوموار کا تھا"۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔انس رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری بار اس وقت دیکھا، جب آپ نے اپنے کمرے اور مسجد کے بیچ پڑے ہوئے پردے کو اٹھایا اور لوگوں کو ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے پیچھے صف باندھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلنا چاہتے ہيں، اس لیے پیچھے ہٹ کر صف میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوچنے لگے، تاکہ آپ آئیں اور لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اشارے سے حکم دیا کہ وہ اپنی اپنی جگہوں میں رہ کر نماز پوری کریں۔ پھر آپ نے پردہ گرا دیا اور اسی دن کے آخری حصے میں آپ کی وفات ہو گئی۔ اور وہ سوموار کا دن تھا۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی دراز گیسوؤں والے شخص کو سرخ لباس میں ملبوس کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ کے بال شانوں کو چھوتے تھے، آپ ﷺ کا سینہ چوڑا تھا، نہ تو آپ ﷺ کا قد چھوٹا تھا اور نہ ہی لمبا۔
متفق علیہاس حدیث میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی ﷺ کا ایسے انداز میں حلیہ مبارک بیان کر رہے ہیں جو آپ ﷺ کے حسن و جمال پر دلالت کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ حسین کبھی کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس کے بال اس کی کانوں کی لو تک آ رہے ہوں اور وہ سرخ جبے میں ملبوس ہو۔ پھر آپ ﷺ کا کچھ حلیہ مبارک بیان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ آپ ﷺ کے شانے دور تھے (یعنی آپ ﷺ کا سینہ کشادہ تھا) اور آپ ﷺ نہ تو دراز قد تھے اور نہ ہی کوتاہ قد ۔
اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا دایاں ہاتھ وضو اور کھانا کھانے کے لیے اور بایاں ہاتھ قضائے حاجت اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے۔ ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے داہنے ہاتھ کو کھانے، پینے اور کپڑے پہنے کے لیے استعمال کرتے اور بائیں ہاتھ کو اس کے علاوہ کاموں کے لیے استعمال کرتے تھے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی کہ نبی ﷺ کن کاموں میں اپنا دایاں ہاتھ استعمال کرتے تھے اور کن میں بایاں ہاتھ استعمال کیا کرتے تھے۔ کہا جن کاموں میں گندگی ہوتی جیسے استنجاء کرنا، استنجاء میں پتھر کا استعمال، ناک میں پانی ڈالنا اور ناک کو صاف کرنا جیسے کاموں میں جن میں گندگی ہوتی آپ ﷺ بایاں ہاتھ استعمال کیا کرتے تھے۔ اور ان کے علاوہ کاموں میں دایاں ہاتھ استعمال کرتے تھے۔ اس میں دائیں ہاتھ کی تکریم ہے کیونکہ دایاں ہاتھ بائیں سے افضل ہے۔ اس حدیث کی رو سے ان تمام کاموں میں دایاں ہاتھ استعمال کرنا مستحب ہے جو قابلِ تکریم ہوں۔ ”لِطُهُورِهِ “ اس کا معنی یہ ہے کہ جب نبی ﷺ طہارت حاصل کرتے تو آپ ﷺ دائیں ہاتھ سے آغاز کرتے۔ چنانچہ آپ ﷺ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ سے پہلے دھوتے تھے اور اسی طرح آپ ﷺ دائیں پاؤں کو بائیں پاؤں سے پہلے دھویا کرتے تھے۔ جب کہ دونوں کان ایک ہی عضو شمار ہوتے ہیں جو سر کا حصہ ہیں۔ چنانچہ ان کو اکھٹے ہی مسح کیا جائے گا بجز اس کے کہ ایک ہاتھ سے مسح کرنا ہو۔ اس صورت میں ضرورت کے تحت دائیں کان سے مسح کا آغاز کیا جائے گا۔ ”وطَعَامِهِ“ یعنی جب آپ ﷺ کھانا کھایا کرتے تھے۔ ”وَكَانَت اليُسْرَى لِخَلاَئِهِ “یعنی قضائے حاجت کے وقت استنجاء کرنے، پتھر اٹھانے اور گندگی کے ازالے کے لیے بائیں کو استعمال کرتے تھے۔ ”ومَا كَانَ مِنْ أَذَى“جیسے تھوک اور بلغم وغیرہ کو دور کرنے کے لیے۔چیچڑی وغیرہ کو دور کرنا بھی اسی میں آتا ہے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث دراصل عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث کی تصدیق کر رہی ہے جس میں اس بات کا بیان ہے کہ جو کام قابلِ تکریم ہوتے ان میں آپ ﷺ کا طریقہ کار دائیں ہاتھ کو استعمال کرنا تھا اور جن کاموں میں گندگی کا عمل دخل ہوتا تھا ان کاموں میں آپ ﷺ بایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے جیسے استنجاء کرتے ہوئے یا استنجاء کے لیے پتھر اٹھاتے ہوئے وغیرہ۔
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور جہاں تک کی زمین میرے لیے سمیٹ دی گئی تھی وہاں تک عنقریب میری امت کی سلطنت وحکومت پہنچ کر رہے گی۔اور مجھے سرخ اورسفید دو خزانے عطا کئے گئے اورمیں نے اپنے رب سےاپنی امت کے لیے دعا مانگی کہ وہ انہیں عمومی قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور اپنےعلاوہ ان پر کوئی ایسا دشمن بھی مسلط نہ کرے جو ان سب کی جانوں کی ہلاکت کو مباح سمجھے۔ میرے رب نے فرمایا:اے محمد! جب میں کسی بات کا فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا اور بے شک میں نے آپ کی امت کے لیے فیصلہ کرلیا ہے کہ انہیں عام قحط سالی کے ذریعہ ہلاک نہ کروں گا اور نہ ہی ان کے علاوہ ان پر ایسا کوئی دشمن مسلط کروں گا جوان سب کی جانوں کو مباح وجائز سمجھ کر انہیں ہلاک کر دے اگرچہ ان کے خلاف زمین کے چاروں اطراف سے ہی لوگ جمع کیوں نہ ہو جائیں یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو خود ہی قیدی بنائیں گے۔ امام برقانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الصحیح میں اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”مجھے اپنی امت پر گمراہ کن ائمہ (حکمران، علماء اور پیشواؤں) کا خوف ہے اور جب میری امت میں ایک بار تلوار چل پڑے گی تو قیامت تک نہیں رکے گی۔ اور اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ میری اُمت کا ایک قبیلہ مشرکین کے ساتھ نہ مل جائے اور یہاں تک کہ ان میں سے کچھ گروہ بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں اور عنقریب میری اُمت میں تیس کذاب اٹھیں گے جن میں سے ہرایک کا یہی دعوی ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور میری اُمت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آن پہنچے گی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔یہ ایک بہت جلیل القدر حدیث ہے جس میں بہت سے اہم امور اور سچی خبریں ہیں۔ نبی صادق و مصدوق ﷺ اس حدیث میں خبر دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے ساری زمین کو سمیٹ دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے مشرق بعید سے لے کر مغرب بعید تک وہ سارا علاقہ دیکھ لیا جو آپ ﷺ کی امت کی ملکیت میں آئے گا۔ یہ ایک ایسی خبر ہے جس کا مصداق وجود میں آ چکا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کا دائرہ اقتدار اتنا وسیع ہوا کہ وہ مغرب بعید سے لے کر مشرق بعید تک پھیل گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کو دو خزانے دیے گئے۔ آپ ﷺ نے جیسے بتایا ویسے ہو چکا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کو کسری و قیصر کی سلطنت پر غلبہ حاصل ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ سونا و چاندی اور جواہرات بھی ان کے ہاتھ آئے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ آپ ﷺ نے اپنے رب سے اپنی امت کے حق میں دعا کی کہ وہ انہیں کسی عمومی قحط سے ہلاک نہ کرے اور یہ کہ کفار میں سے ان پر کوئی ایسا دشمن نہ مسلط کر دے جو ان کے علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں بیخ و بن سے اکھاڑ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے ان کی پہلی دعا قبول کر لی اور دوسری بھی جب تک کہ امت اختلافات و تفرقہ اور باہمی لڑائے جھگڑے سے پرہیز کرتی رہے گی۔ جب یہ سب کچھ ہونے لگ جائے گا تو پھر اللہ ان پر کفار میں سے دشمن کو مسلط کر دے۔ جب امت تفرقے کا شکار ہو گئی تو یہ سب کچھ بھی واقع ہو گیا۔ آپ ﷺ نے امت کے سلسلے میں حکام اور خود گمراہ اور گمراہ کن علما کے خوف کا اظہار کیا۔ کیونکہ لوگ بھی ان کے گمراہی میں ان کی اقتدا کریں گے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ جب امت میں فتنہ اور قتل و غارت گری کا آغاز ہو جائے گا تو پھر یہ قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ سب کچھ ویسے ہی ہو چکا ہے جیسے آپ ﷺ نے خبر دی۔ جب سے عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل سے فتنہ پیدا ہوا ہے تب سے لے کر آج تک ویسے ہی جاری ہے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ آپ ﷺ کی امت کے بعض لوگ مشرکین کے علاقوں میں چل جائیں گے اور ان کا دین اختیار کر لیں گے اورامت کے کچھ گروہ شرک کی طرف راغب ہو جائیں گی۔ یہ سب کچھ جیسے آپ ﷺ نے بتایا ویسے ہو چکا ہے۔ چنانچہ قبروں، درختوں اور پتھروں ساری چیزوں کی پوجا کی گئی۔ آپ ﷺ نے نبوت کے دعوے دار ظاہر ہونے کے خبر دی اور فرمایا کہ جو بھی نبوت کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا ہوگا کیونکہ آپ ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ آپ ﷺ نے خوشخبری دی کہ آپ ﷺ کی امت میں سے ایک گروہ اسلام پر قائم رہے گا حالانکہ بہت المناک واقعات اور مصائب کا ظہور ہو گا اور یہ کہ یہ گروہ باوجود اپنی قلت کے اپنے دشمنوں اور مخالفین سے بالکل بھی زک نہیں اٹھائے گا۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ غار میں تھے، میں نے مشرکین کے پاؤں کی طرف دیکھا، وہ ہمارے سروں پر تھے، میں نے کہا اے اللہ کے رسول! ان میں سے کوئی اگر اپنے پاؤں کے نیچے دیکھ لے تو ہم انہیں نظر آ جائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اے ابو بکر! ان دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔
متفق علیہیہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب آپ ﷺ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ جب آپ ﷺ نے اعلانیہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، لوگوں کو بلایا اور لوگوں نے آپ کی اتباع کی۔ مشرکین ڈر گئے اور آپ کی دعوت کے خلاف کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ پر سختی کی اورقول و فعل کے ذریعہ آپ ﷺ کو تکلیفیں پہنچائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دی۔ آپ ﷺ کے ساتھ صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ، راہبر اور خادم تھے۔پس آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے سے ہجرت کی اور آپ ﷺ کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہو لیے، جب مشرکین نے آپ ﷺ کی مکہ سے روانگی کی خبر سنی تو آپ ﷺ کو پکڑ کر لانے والے کو دو سو (200) اونٹ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پکڑ لانے پر سو (100) اونٹ انعام رکھا، لوگ آپ دونوں کو پہاڑوں، وادیوں اور غاروں اور ہر جگہ تلاش کرنے لگے، یہاں تک کہ اس غار پر آ رُکے جس میں نبی ﷺ اور ابوبکر پناہ گزین تھے۔ یہ غار ثور ہے جہاں تین دنوں تک چھپے رہے یہاں تک کہ آپ دونوں کی تلاش کا معاملہ نرم پڑگیا، چنانچہ اسی موقعہ سے ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا اے اللہ کے رسول ﷺ! ان میں سے کوئی اگر اپنے پاؤں کے نیچے دیکھ لے تو ہم انہیں نظر آ جائیں۔ اس لیے کہ ہم ان کے قدموں کے نیچے غار میں ہی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:اے ابو بکر! ان دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا﴾ (سورۃ التوبۃ: 40) ترجمہ: غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ممکن ہے کہ آپ ﷺ نے یہ دونوں جملے بھی کہے ہوں یعنی ”مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا“ اور ”لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا“۔ آپ ﷺ کا یہ کہنا: ”ان دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے“ یعنی کیا کوئی ان دونوں کو اذیت وغیرہ پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے؟ اور جواب ہے: نہیں کوئی یہ طاقت نہیں رکھ سکتا ہے۔ اس لیے کہ جسے اللہ دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ روکنا چاہے اسے کوئی دینے والا نہیں، اس کو کوئی رسوا نہیں کرسکتا جسے اللہ تعالی عزت دے اور جسے اللہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، (فرمان الٰہی ہے) ﴿قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ (آل عمران: 26) ترجمہ: ”آپ کہہ دیجیے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے“۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز(تہجد) پڑھی۔ آپ نے سورۂ بقرۃ پڑھنی شروع کی۔ میں نے دل میں کہا کہ آپ ﷺ سو آیات پڑھ کر رکوع میں چلے جائیں گے، لیکن آپ پڑھتے رہے ۔ پھر میں نے دل میں کہا کہ آپ ﷺ اسے ایک رکعت میں ختم کریں گے ۔ مگر آپ ﷺ پڑھتے رہے ۔ میں نے سوچا کہ آپ ﷺ اسے پڑھ کررکوع کریں گے ۔ لیکن آپ ﷺ نے سورۃ النساء شروع کردی اور اسے پورا پڑھ ڈالا۔ پھر آپ ﷺ نے آل عمران شروع کی اور اسے بھی پورا پڑھ ڈالا۔ آپ ﷺ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کررہے تھے۔ جب آپ ﷺ کا گزر کسی ایسی آیت پر ہوتا، جس میں تسبیح (اللہ کی پاکی) کا بیان ہوتا، تو آپ ﷺ تسبیح کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے، جس میں (اللہ سے ) مانگنے کا ذکر ہوتا، تو مانگتےاور اگر کسی ایسی آیت سے گزرتے، جس میں پناہ مانگنے کا ذکر ہوتا، تو پناہ مانگتے۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا اور ”سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيم“ پڑھنے لگے۔ آپ ﷺ کا رکوع آپ ﷺ کے قیام کے بقدر تھا۔ پھر آپ نے «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“ کہا اور طویل وقت تک قیام کیا، جو رکوع کے لگ بھگ تھا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور”سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى“ پڑھنے لگے۔ آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے بقدر تھا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ قیام اللیل پڑھنے کےلیے کھڑے ہوئے۔ نبی ﷺ نے نماز لمبی کر دی۔ ایک رکعت میں سورۃ البقرۃ پھر سورۃ النساء پھر سورۃ آل عمران پڑھی۔ آپ ﷺ اپنی قراءت کے درمیان جب کسی ایسی آیت سے گزرتے، جس میں (اللہ سے ) مانگنے کا ذکر ہوتا، تو مانگتے اور جب آپ ﷺ کا گزر کسی ایسی آیت سے ہوتا، جس میں تسبیح (اللہ کی پاکی) کا بیان ہوتا، تو تسبیح کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے، جس میں پناہ مانگنے کا ذکر ہوتا، تو پناہ مانگتے ۔ آپ ﷺ کی نماز لمبائی میں بالکل ترتیب وار تھی؛ رکوع کا طول قیام کے قریب اور سجدے کا طولرکوع کے قریب۔