





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جوتا پہننا، کنگھی کرنا، طہارت حاصل کرنا اور اپنے سبھی کاموں کو دائيں سے کرنا پسند کرتے تھے۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم لائق تکریم کاموں کو دائيں جانب سے شروع کرنا پسند کرتے تھے۔ مثلا : جوتا پہنتے وقت پہلے دائيں پاؤں میں پہننا، سر اور داڑھی کے بالوں کو کنگھی کرتے، سنوارتے اور تیل لگاتے وقت دائيں جانب سے شروع کرنا، وضو کے دوران دائيں ہاتھ اور دائيں پیر کو بائیں ہاتھ اور بائيں پیر پر مقدم رکھنا چاہیے۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: میں نے اللہ کے نبی ﷺ کو کبھی اس طرح قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے گلے کے کوے کو دیکھ سکوں۔ آپﷺ تو بس مسکرایا کرتے تھے۔
متفق عليهحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ خبر دی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس طرح کھلکھلاکر نہيں ہنستے تھے کہ کوا دکھ جائے۔ بس مسکرا دیا کرتھے تھے۔ کوا حلق کے اوپری حصے میں موجود گوشت کے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر شادی شدہ پردہ نشیں عورت سے بھی زیادہ با حیا تھے۔ چنانچہ جب کوئی ایسی چيز دیکھتے، جو ناپسند ہوتی، تو ہم اس ناپسندیدگی کو آپ کے چہرے کی رنگت سے پہچان لیتے تھے۔
متفق عليهابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر شادی شدہ لڑکی، جو مردوں کے ساتھ نہ رہی ہو اور گھر کی چہاردیواری کے اندر رہتی ہو، سے بھی زیادہ باحیا تھے۔ آپ کے حد درجہ باحیا ہونے کی ایک مثال یہ ہے کہ جب آپ کسی چيز کو ناپسند کرتے، تو کچھ بولتے نہيں تھے۔ بس آپ کا چہرہ بدل جاتا تھا۔ آپ کا چہرہ دیکھ کر صحابہ سمجھ جاتے تھے کہ آپ اس چیز کو ناپسند کر رہے ہیں۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سفر میں تھے۔ آپ ﷺ نے نمازِ عشاء ادا کی تو ایک رکعت میں ’وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ‘ پڑھی۔ میں نے آپ ﷺ سے زیادہ اچھی آواز والا یا آپ ﷺ سے اچھا پڑھنے والا کبھی نہیں سنا۔
متفق علیہنبی ﷺ نے نمازِ عشاء کی پہلی رکعت میں سورہ ’’تین‘‘ اور سورہ ’’زیتون‘‘ کی تلاوت فرمائی کیوں کہ آپ ﷺ سفر میں تھے اور سفر کی مشقت و کلفت کے پیش نظر اس میں تخفیف اور سہولت کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ نبی ﷺ سفر میں تھے لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے اس بات کو نہیں چھوڑا جو خشوع و خضوع پیدا کرتی ہے اور جس کی وجہ سےقرآن کی سماعت کرتے ہوئے دل یکسو ہوتا ہے اور یہ نماز میں خوبصورت آواز سےتلاوت سے عبارت ہے۔
عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر کشادہ کرتے کہ آپ ﷺ کی دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب سجدہ کرتے تو سجدے کے دوران دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے اس قدر الگ رکھتے کہ دونوں بغلوں کی چمڑی کی سفیدی نظر آتی۔ یہ دراصل دونوں بازوؤں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے میں مبالغہ ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ کے مرض کی شدت میں اضافہ ہوگیا، تو آپ ﷺ پر (سکرات) کی سختی طاری ہونے لگی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ہاے میرے ابا جان کو کیسی بے چینی لاحق ہو گئی ہے! اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج کے بعد پھر تمھارے ابا جان کو کوئی تکلیف نہیں لاحق گی!“۔ پھر جب آپ ﷺ کی وفات ہو گئی، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ہائے ابا جان! آپ نے اپنے رب کے بلاوے پر لبیک کہا، ہائے اباجان! آپ اپنے مستقر یعنی جنت الفردوس میں چلے گئے، ہائے ابا جان! ہم جبریل علیہ السلام کو آپ کی وفات کی خبر دیتے ہیں! جب آپ ﷺ کی تدفین ہو چکی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم لوگوں نے آخر یہ کیسے گوراہ کرلیا کہ رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈال دو ؟
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث سکرات الموت میں ہمارے نبی ﷺ کے صبر کی منظر کشی کرتی ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ کا مرض شدت اختیار کر گیا، تو تکلیف کی شدت سے آپ ﷺ پر غشی طاری ہونے لگی۔ آپ ﷺ شدید تکلیف اور مرض سے دو چار تھے۔ اس میں ایک بڑی حکمت بھی تھی؛ حکمت یہ تھی کہ آپ کو صبر کے عوض میں اللہ تعالی کے پاس اونچے درجات حاصل ہوں۔ جب آپ پر بے چینی طاری ہوتی، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتیں: ”ہاے میرے ابا جان کو کیسی تکلیف لاحق ہو گئ ہے! انہیں آپ ﷺ کی کرب وتکلیف دیکھ کر دکھ ہو رہا تھا، کیوں کہ وہ ایک عورت تھیں اور عورت میں صبر کی طاقت نہیں ہوتی۔ اس پرنبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آج کے بعد پھر تمہارے ابا جان کو کوئی تکلیف لاحق نہیں ہوگی!“۔ کیوں کہ آپ ﷺ دنیا سے رفیق اعلی کے پاس منتقل ہو گئے۔ جیسا کہ بوقت وفات آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اللهم في الرفيق الأعلى، اللهم في الرفيق الأعلى“۔ ترجمہ: اے اللہ! مجھے رفیق اعلی میں پہنچا دے، اے اللہ! مجھے رفیق اعلی میں پہنچا دے۔ یہ الفاظ کہتے ہوۓ آپ ﷺ گھر کی چھت کی طرف دیکھ رہےتھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا رو رو کر آپ کے کچھ احوال بیان کرنے لگیں۔ تاہم اس کی نوعیت بہت معمولی تھی اور اس میں اللہ کی قضا و قدر پر ناراضگی کا اظہا ر بھی نہیں تھا۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آپ نے اپنے رب کے بلاوے پر لبیک کہا“۔ کیوں کہ ہر شے اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تمام مخلوق کے اوقاتِ مرگ بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اللہ کے بلاوے پر لبیک کہا۔ دراصل آپ ﷺ کی جب وفات ہوگئی تو آپ دیگر ایمان والوں کی طرح ہو گئے۔ آپ ﷺ کی روح مبارک بھی اوپراٹھتی گئی یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر اللہ سبحانہ و تعالی کے حضور جا کر رک گئی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہائے اباجان! آپ اپنے مستقر یعنی جنت الفردوس میں چلے گئے“ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا اس لیے کہا، کیوں کہ جنت میں آپ ﷺ کا مرتبہ سب مخلوق سے اعلی ہو گا، جیسا کہ نبی ﷺ نےفرمایا: ”اللہ تعالی سے میرے لیے وسیلہ مانگو۔ یہ جنت میں ایک ایسا مرتبہ ہے، جس کا سزاوار اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک ہی بندہ ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں گا“۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ﷺ کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔ جنت الفردوس جنت کے درجات میں سب سے اعلی درجہ ہے، جس کے اوپر موجود چھت رب تعالی شانہ کا عرش ہے۔ نبی ﷺ جنت الفردوس کے بھی سب سے اعلی درجے میں ہوں گے۔ ”ہائے ابا جان! ہم جبریل علیہ السلام کو آپ کی وفات کی خبر دیتے ہیں“۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم آپ ﷺ کی وفات کی خبر جبریل علیہ السلام کو دیتے ہیں؛ کیوں کہ یہ جبریل علیہ السلام ہی تھے، جو آپ ﷺ کے پاس آتے اور آپ ﷺ کی حیات میں آپ ﷺ کے ساتھ وحی کا مذاکرہ کرتے تھے اور وحی آپ کی حیات کے ساتھ مربوط ہے۔ جب آپ ﷺ کو لے جا کر دفن کر دیا گیا، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ”تم لوگوں نے آخر یہ کیسے گوراہ کرلیا کہ رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈال دو ؟“ انھوں نے ان سے یہ سوال اس لیے کیا، کیوں کہ وہ آپ ﷺ کی وفات پر شدید غم زدہ اور آپ ﷺ کی جدائی کے دکھ اور درد میں مبتلا تھیں اور جانتی تھیں کہ اللہ تعالی نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلوں کو اپنے رسول کی محبت سے بھر رکھا ہے۔ تاہم فیصلہ کرنے کا اختیار تو اللہ کے پاس ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا کہ: ”إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ“ (الزمر:30) ترجمہ: یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی گفتگو کے کلمات الگ الگ ہوتے تھے، جسے ہر سننے والا سمجھ لیتا تھا۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی اس حدیث میں بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی گفتگو کے کلمات الگ الگ ہوتے تھے۔ یعنی آپ کی گفتگو جدا جدا ہوتی، بایں طو رکہ حروف و کلمات باہم خلط ملط نہیں ہوتے تھے اور آپ ﷺ کی گفتگو سننے والے کے لیے بالکل واضح اور پیچیدگی و طوالت سے پاک ہوتی تھی۔ آپ ﷺ گفتگو اتنی آہستہ روی سے فرماتے کہ اگر کوئی شمار کرنے والا آپ کی گفتگو کے الفاظ شمار کرنا چاہتا، تو کر سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کو جوامع الکلم عطا کیے گئے تھےاور آپ ﷺ کی گفتگو بہت ہی مختصر ہوتی تھی۔ جوامع الکلم سے مراد یہ ہے کہ تھوڑے الفاظ میں بہت سارے معانی سمو دیے جائیں۔ اس لیے مناسب ہے کہ انسان کی گفتگو اس طرح سے گڈ مڈ نہ ہو کہ وہ سننے والے کو سمجھ ہی میں نہ آئے؛ کیوں کہ گفتگو کا مقصد مخاطب کو بات سمجھانا ہوتا ہے۔ اس لیے گفتگو تفہیم سے جتنی قریب تر ہو گی، اتنا ہی بہتر اور اچھا ہو گا۔ پھر انسان جب یہ طرز عمل اپنائے، یعنی اپنی گفتگو کو جدا جدا، صاف اور واضح رکھے اور جو شخص نہ سمجھ پائے، اس کے لیے اسے تین دفعہ دوہرائے، تو اسے چاہیے کہ وہ اس دوران یہ بات ذہن میں رکھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کر رہا ہے؛ تا کہ اس کی وجہ سے اسے اجر بھی حاصل ہو جائے اور وہ اپنے مسلمان بھائی کو (اپنی بات) بھی سمجھا دے۔ اسی طرح تمام سنتوں میں اپنے ذہن میں یہی رکھیں کہ آپ ان پر کاربند ہو کر رسول اللہ ﷺ کی پیروی کر رہے ہیں؛ تا کہ اتباع بھی ہو جائے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو ثواب بھی مل جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دے دیتا"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اگر آپ کو اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا خوف نہ ہوتا، تو ان پر ہر نماز کے وقت مسواک کو واجب کر دیتے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سوار اور پیادہ (مسجدِ) قباء تشریف لاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ مسجد قباء میں ہر ہفتے کے دن سوار اور پیادہ تشریف لاتے۔ اور ابن عمر بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔قباء کا علاقہ جس میں اسلام کی سب سے پہلی مسجد تعمیر کی گئی مدینہ کے بالائی حصے کے قریب واقع ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ نبی ﷺ سوار اور پیادہ اس کی زیارت کے لیے تشریف لاتے۔ راوی کا یہ کہنا کہ "ہر ہفتے کے دن" تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے بعض ایام کو زیارت کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔ نبی ﷺ کی ہر ہفتے کے دن قباء آنے میں حکمت یہ تھی کہ آپ ﷺ کا انصاری لوگوں سے تعلق قائم رہے اور آپ ﷺ ان کا اور ان لوگوں کا حال جان سکیں جو آپ ﷺ کے ساتھ نمازجمعہ میں حاضر ہونے سے رہ جاتے تھے۔ اور بطور خاص ہفتے کے دن آنے میں یہی راز پنہاں تھا۔