





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔”وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِه“ اس میں آپ ﷺ اللہ کی قسم کھا رہے ہیں، اس لیے کہ تمام لوگوں کی جانیں اس کے ہاتھ میں ہیں، وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے، جسے چاہتا ہے مارتا ہے اور جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے، لہٰذا لوگوں کی جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، ہدایت و گمراہی، زندہ کرنا و مارنا اور ہر چیز میں تصرف اور اس کی تدبیر کرنا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا، فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا﴾ (سورۃ الشمس: 7، 8) ”قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی، پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی“۔ تمام جانیں اللہ کے اختیار میں ہیں، اسی وجہ سے اللہ کے نبی ﷺ قسم اٹھا رہے ہیں، آپ اکثر ’”وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِه“ کی قسم اٹھاتے تھے، اور کبھی اس طرح فرماتے ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ“ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ سب سے پاکیزہ جان ہے۔ اس لئے آپ سب سے پاکیزہ اور اطیب جان کی قسم کھا رہے ہیں۔ پھر جس چیز کی قسم اٹھا رہے ہیں اس کا ذکر فرمایا اور وہ یہ ہے کہ ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قائم کریں ورنہ اللہ ہم پر اپنا عذاب بھیج دے گا اور ہماری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”ہر دن، جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے تمہارا دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، کسی آدمی کو اس کی سواری پر بٹھانے یا اس کا سامان اٹھا کر اس پر رکھوانے میں اس کی مدد کرنا بھی صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، نماز کی طرف جانے کے لیے اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے اور راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی صدقہ ہے۔“
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہر مکلف مسلمان کو ہر روز اس کی ہڈی کے ہر جوڑ کے بدلے میں ایک ایک نفلی صدقہ اس بات کے شکر کے طور پر کرنا ہے کہ اللہ نے اسے عافیت دی اور اس کی ہڈیوں میں جوڑ بنائے، جن کی وجہ سے اعضاے جسم کو سمیٹنا اور پھیلانا ممکن ہو سکا۔ یہ صدقہ تمام طرح کی نیکی کے کاموں سے ادا ہو سکتا ہے۔ مال دینے پر موقوف نہيں ہے۔ مثلا : دو جھگڑ رہے لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اور صلح کرا دینا صدقہ ہے۔ کسی ایسے شخص کو جو سواری پر چڑھ نہ پا رہا ہو، سواری پر چڑھا دینا یا اس کا سامان لاد دینا صدقہ ہے۔ اچھی بات، جیسے ذکر، دعا اور سلام وغیرہ صدقہ ہیں۔ نماز کے لیے جاتے وقت اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ راستے سے کسی تکلیف دہ چيز کو ہٹا دینا صدقہ ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ تمھیں نماز پڑھاتے ہیں، پس اگر صحیح پڑھاتے ہیں، تو تمھیں اس کا ثواب ملے گا اور اگر کوئی غلطی کرتے ہیں، تو تمھیں (تمھاری نماز) کا ثواب مل کر رہے گا اور ان کا گناہ ان کے ذمے ہوگا“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ کچھ ائمہ یعنی حکمران ایسے آئیں گے، جو تمھیں نماز پڑھائیں گے، اگر وہ خیر و خوبی کے ساتھ نماز ادا کریں، تو تمھارے اور ان کے حق میں اجر و ثواب کا باعث ہوگی اور اگر نماز میں بگاڑ پیدا کردیں، تو تمھیں اجر و ثواب حاصل ہوجائے گا اور نماز کی خرابی و بگاڑ کا وبال ان کے سر ہوگا۔ یہ بات گرچہ امرا کے تعلق سے کہی گئی ہے، لیکن مساجد کے ائمہ بھی اس میں شامل ہیں، ان میں سے ہر شخص نماز کو بحسن و خوبی یا بگاڑ کر ادا کرنے کے اعتبار سے بدلے کا مستحق ہوگا۔ اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ امرا و حکمرانوں کی زیادتیوں پر صبر کرنا واجب ہے۔ اگر وہ نماز خراب طریقے سے پڑھائیں اور مقررہ اوقات میں ادا نہ کریں، تو ہم پر واجب یہی ہے کہ ان سے علٰحدگی اختیار نہ کریں اور نماز باجماعت انھیں کے مطابق موخر کرکے پڑھ لیا کریں۔ ہمارا یہ نماز کو اول وقت سے موخر کرکے پڑھنا، جماعت کی موافقت اور علٰحدگی سے بچنے کی وجہ سے عذر پر مبنی ہوگا اور ہمیں اول وقت میں نماز ادا کرنے کا ثواب ملے گا۔ لیکن تاخیر اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ نماز کا وقت ختم نہ ہونے پائے۔ خیال رہے کہ لوگوں اور حکمرانوں سے علٰحدگی اختیار کرنا، لوگوں کو ان کے خلاف بغاوت پر اکسانا اور ان کی برائیوں کو عام کرنا، یہ سارے کام دین اسلام سے دور کرنے کے ذرائع و اسباب ہیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا بيان کرتی ہيں کہ ميں نے رسول اللہ ﷺ كو اپنے اس گھر ميں فرماتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! جو شخص بهى میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی اس پر سختی فرما، اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنےِ، پھر وہ ان کے ساتھ نرمی کرے تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حديث ميں حکمرانی و فرمانروائی اور اقتدار و ذمہ داری سنبھالنے کے معاملے کی اہميت و سنگینی کا بيان ہے۔ نبی کريم صلی اللہ عليہ وسلم نے دعا فرمائی ہے کہ جو شخص لوگوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے تو اللہ تعالی بھی اس کے ساتھ ويسا ہی معاملہ کرے، اور جو لوگوں کے ساتھ عدل وانصاف ،نرمی اور رحم دلی کا معاملہ کرے، اللہ تعالی اسے اس پر (اچھا) بدلہ دے، اور بدلہ عمل ہی کے جنس سے ملتا ہے۔
زبیر بن عدی بیان کرتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی شکایت کی۔ انھوں نے فرمایا: صبر کرو، کیوں کہ تم پر ہر بعد میں آنے والا دور پہلے سے برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمھارے نبی ﷺ سے سنا ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔زبیر بن عدی کچھ لوگوں کے ساتھ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو رسول اللہ ﷺ کے خادم تھے۔ انھوں نے ان سے حجاج بن یوسف ثقفی کی شکایت کی، جو اموی خلفا کا گورنر تھا، وہ بہت ہی جابر اور سر کش تھا اور ظلم و خون ریزی میں مشہور تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے انھیں حکمرانوں کے ظلم پر صبر کرنے کی تلقین کی اور بتایا کہ لوگوں پر آنے والا ہر زمانہ اپنے سے پہلے والے زمانے سے بد تر ہو گا، یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملیں۔ مزید بتایا کہ انھوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ یہاں شر سے مراد مطلق شر نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بعض جگہوں پر تو یہ شر ہو گا اور بعض دوسری جگہوں پر خیر ہو گا۔
وائل حضرمی کہتے ہیں کہ سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: اے اللہ کے نبی! اگر ہم پر ایسے حکمراں مسلط ہو جائیں، جو اپنا حق تو ہم سے وصول کریں، لیکن ہمارا حق ہمیں نہ دیں، تو آپ اس معاملے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے ان سے اعراض کیا۔ انھوں نے دوبارہ سوال کیا، تو بھی آپ ﷺ نے ان کى بات پر توجہ نہ دی، انہوں نے پھر سوال کیا دوسرى بار یا تیسری بار تو ان کو اشعث بن قیس نے کھینچ لیا، اور آپﷺ نے فرمایا: ”سنو اور اطاعت کرو۔ ان پر اس بات کی ذمے داری ہے، جو ان کے اوپر ڈالى گئى ہے اور تم پر اس بات کی ذمے داری ہے جو تم پر ڈالى گئى ہے“۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے حکمرانوں کے بارے میں پوچھا گيا، جو لوگوں سے اپنی بات ماننے اور پیروی کرنے کا مطالبہ کرتے ہيں، لیکن انصاف کرنے، مال غنیمت دینے، ظلم سے بچانے اور برابری کا معاملہ کرنے جیسے اپنے اوپر عائد ہونے والے لوگوں کے حقوق ادا نہيں کرتے۔ ایسے میں ان کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چاہیے؟ یہ سوال سننے کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سائل سے منہ پھیر لیا۔ ایسا لگا کہ آپ کو یہ سوال پسند نہيں آیا۔ لیکن سائل اپنا سوال دوسری بار اور پھر تیسری بار دوہراتا رہا۔ یہ دیکھ کر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے خاموش کرنے کے لیے سائل کو کھینچا۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سوال کا جواب دے دیا۔ فرمایا : تم ان کی بات سنو اور ان کے حکم کی تعمیل کرو۔ کیوں کہ ان کو عدل و انصاف کرنے اور عوام کو ان کا حق دینے جیسی ذمے داریوں کا جواب دینا ہے، جو ان کے سر پر ڈالی گئی ہيں اور تمہیں اطاعت گزاری، حقوق کی ادائیگی اور آزمائش کے موقع پر صبر جیسی ان ذمے داریوں کا جواب دینا ہے، جو تمھارے سر پر ڈالی گئی ہيں۔
عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جسے ہم کسی کام کی ذمہ داری سونپیں، پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی کوئی کم تر چیز چھپائے، تو وہ خیانت ہو گی، جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا“۔ یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری، جنھیں گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں، کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! آپ نے مجھے جو کام سونپا تھا، اس سے مجھے مستعفی ہونے کی اجازت دیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ تمھیں کیا ہو گیا؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے آپ کو ایسے فرماتے ہوئے جو سن لیا ہے! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! میں اب اسے پھر کہتا ہوں کہ جسے ہم کسی کام کی ذمے داری سونپیں، وہ کم یا زیادہ سب کچھ لے کر آئے۔ جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رک جائے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔تم میں سے جس کسی کو ہم نے کسی کام پر لگایا، مثلا زکاۃ یا غنیمت وغیرہ جمع کرنے میں پر مامور کیا اور اس نے ایک سوئی یا اس سے بھی کوئی چھوٹی شے چھپا لی، تو یہ خیانت ہو گی اور وہ قیامت کے دن اسے لے کر آئے گا۔ اس پر آپ ﷺ کے سامنے ایک انصاری شخص کھڑا ہوا اور اجازت چاہی کہ وہ اس کام سے دست بردار ہو جائے، جس کی ذمے دای آپ ﷺ نے اسے سونپی تھی، تو نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تمھیں کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ سب کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے (اس لیے ڈر لگ رہا ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں پھر وہی بات کہتا ہوں کہ ہم تم میں سے جس کو عامل بنائیں، اسے چاہیے کہ وہ کم یا زیادہ سب کچھ لے کر آ جائے۔ پھر اسے جو کچھ بطور اجرت دیا جائے، وہ لے لے اور جو نہ دیا جائے اور وہ اس کا حق بھی نہ ہو، اس کے لینے سے باز رہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "بے شک دین آسان ہے۔ جو شخص دین کے معاملے میں سختی اختیار کرے گا، اس پر دین غالب آ جائے گا۔ چنانچہ اپنے عمل میں راستگی اختیار کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ، اور صبح و شام اور کسی قدر رات میں (عبادت کے ذریعہ) مدد حاصل کرو"۔
رواه البخارياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ مذہب اسلام کی بنیاد تمام معاملات میں آسانی اور سہولت فراہم کرنے پر رکھی گئی ہے۔ یہ آسانی اور سہولت اس وقت کہیں زیادہ فراہم کی گئی ہے، جب عجز و حاجت موجود ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ دینی اعمال میں تعمق اور ترک رفق کا انجام عجز اور انقطاع عمل کی صورت ہی میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے بعد رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے میانہ روی کی ترغیب دی۔ بندہ نہ تو شرعی احکام کی بجا آوری میں کوتاہی سے کام لے اور نہ اپنے اوپر ایسی چیزیں لادے، جنھیں اٹھانے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ اگر کامل ترین پر عمل نہ کر سکے، تو اس سے قریب ترین پر عمل کرے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے شخص کو بڑے اجر و ثواب کی خوش خبری دی ہے، جو کامل ترین پر عمل نہ کر پانے کی وجہ سے تھوڑا سا عمل ہی کرتا ہو، لیکن اس میں تسلسل ہو۔ کیوں کہ عدم استطاعت میں اگر بندے کا عمل دخل نہ ہو، تو اس سے اس کے اجر و ثواب میں کمی نہیں آتی۔ پھر چوں کہ دنیا سفر کی جگہ اور آخرت کی گزرگاہ ہے، اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تین نشاط آمیز اوقات میں تسلسل کے ساتھ عبادت کے ذریعے مدد حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ تین اوقات اس طرح ہیں: 1- الغدوۃ : دن کے پہلے حصے میں چلنا۔ دن کے پہلے حصے سے مراد فجر کی نماز سے لے کر سورج نکلنے کے درمیان کا وقت ہے۔ 2- الروحۃ : زوال کے بعد چلنا۔ 3- دلجۃ : پوری رات یا رات کے کچھ حصے میں چلنا۔ چوں کہ رات میں کام کرنا دن میں کام کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے، اس لیے "وشيءٍ من الدلجة" کہہ کر اس کے کچھ حصے میں کام کرنے کا حکم دیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تنگی اور آسانی، نشاط اور سستی اور دوسروں کو تم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی تم امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا اپنے اوپر لازم کرلو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ مسلمان پر ہر حال میں اپنے حاکموں کو سن کر ان کی اطاعت کرنا کرنا لازم ہے، جب تک وہ اسے گناہ کا حکم نہ دیں یا ایسی چیز کا مکلف نہ بنائیں جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو، اگرچہ یہ اس پر کسی وقت گراں گزرے یا اس کے کسی حق کے ضائع ہونے کے سبب بنے، اس لیے کہ عمومی مصلحت خصوصی مصلحت پر مقدم ہے۔