





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ: ہم جب رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر سمع و طاعت کی بیعت کرتے تو آپ ﷺ فرماتے: جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے بقدر۔
متفق علیہابن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ جب وہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرتے تو آپ ﷺ انہیں سمع و طاعت کا حکم دیتے اور فرماں برداری کو استطاعت کے ساتھ مقید کر دیتے، کیوںکہ جب مسلمان پر ایسے کام کی ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے، جسے اٹھانے کی استطاعت اس میں نہیں ہوتی، تو اس صورت میں اطاعت کرنا اس پر واجب نہیں ہوتا۔ ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ ”اللہ کسی جان پر اس کی بساط سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا“
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلم بندہ پر (حکمران کی بات) سننا اور ماننا لازم ہےخواہ وہ بات اسے پسند ہو یا نا پسند، الا یہ کہ اسے معصیت (گناہ) کا حکم دیا جائے۔ چنانچہ جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سنے اور نہ اطاعت کرے“۔
متفق علیہاس حدیث میں حکمران جن باتوں کا حکم دے اس میں اس کی سمع و طاعت کے وجوب کا بیان ہے چاہے اس کا حکم ہمیں پسند ہو یا ناپسند، ماسوا اس صورت کے کہ وہ کسی معصیت (گناہ کرنے) کا حکم دے۔ تو صرف اس معصیت (گناہ) کے سلسلے میں اس کی کوئی سمع و طاعت نہیں ہو گی۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو فرماتے ہوئے سنا:”جو شخص بادشاہ کی توہین کرے گا تو اللہ تعالی اس شخص کو ذلیل کرے گا“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں بادشاہ کے احكامات کی تحقير و توہین كرنے کی حرمت آئی ہے، كيونکہ اس پر سخت وعید مترتب ہوتی ہے كہ اللہ تعالی ايسا كرنے والے كو دنیا وآخرت میں ذلت ورسوائى سے دوچار کرے گا، اور بدلہ عمل ہی کے جنس سے ملتا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر کسی حبشی غلام ہی کو حاکم مقرر کر دیا جائے، جس کا سر کشمش کی طرح (چھوٹا سا) ہو“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حکمرانوں کی اطاعت کرو اگرچہ تم پر نسب اور شکل و صورت کے اعتبار سے ایک ایسا حبشی غلام امیر مقرر دیا جائے جس کا سر کشمش کی طرح ہو، اس پیرائے میں مبالغہ کا معنی ہے کہ چاہے یہ حاکم نسب کے اعتبار سے سیاہ فام غلام ہی کیوں نہ ہو۔ ”اگر حاکم مقرر کر دیا جائے“ اس کا اطلاق حکمران کی طرف سے مقرر کردہ گورنر پر بھی ہوتا ہے اور خود حکمران پر بھی۔ ولو بالفرض اگر کوئی حاکم لوگوں پر غلبہ حاصل کرلے، اور ان پر قبضہ واقتدار جمالے اور وہ عرب میں سے نہ ہو، بلکہ ایک سیاہ فام غلام ہو تو پھر بھی ہم پر فرض ہے کہ ہم اس کی بات کو سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حکمرانوں کی اطاعت کرنا فرض ہے ماسوا ان امور کے جن میں اللہ کی معصیت ہو۔ کیونکہ ان کی اطاعت کرنے میں خیر و بھلائی، اور امن و استقرار ہے اور اس کی وجہ سے انارکی نہیں پھیلتی اور ہوائے نفس کی پیروی نہیں ہوتی۔ لیکن اگر کسی معاملے میں حکمرانوں کی نافرمانی کی جائے جس میں ان کی اطاعت لازم ہے، تو انارکی پھیلے گی اور ہر کوئی اپنی من مرضی پر چلنا شروع کر دے گا، امن و امان ختم ہوجائے گا، معاملات بدعنوانی کا شکار ہوجائیں گے، اور فتنوں کی کثرت ہو جائے گی۔
ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی“۔
متفق علیہاللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ﷺ کی اطاعت کرنا ایسا ہے، جیسے اللہ کی اطاعت کرنا۔ اور نبی ﷺ اسی کام کا حکم دیتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کے لیے مشروع فرمایا۔ لہٰذا آپ ﷺ کسی چیز کا حکم دیں، تو وہ اللہ کی طرف سے مشروع ہوتا ہے۔ چنانچہ جو آپ ﷺ کی اطاعت کرے گا، وہ اللہ کی اطاعت کرے گا اور جو آپ کی نافرمانی کرے گا، وہ اللہ کی نافرمانی کرنے والا ہوگا۔ اور جب انسان امیر کی اطاعت کرتا ہے، تو گویا اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کی اور جب وہ امیر کی نافرمانی کرتا ہے، تو گویا اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔ کیوںکہ اللہ کے رسول ﷺ نے کئی ساری احادیث میں امیر کی اطاعت کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ الا یہ کہ امیر نافرمانی کا حکم دے۔ ( تو اس معصیت میں امیر کی اطاعت جائز نہیں)۔
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارے بہترین حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کريں، تم ان کے حق ميں دعائے خير کرو اور وہ تمہارے حق ميں دعائے خير کریں۔ اور تمہارے بدترین حکمراں وہ ہیں جنہیں تم ناپسند کرو اور وہ تمہیں ناپسند کريں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں“۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم ان کی بيعت توڑ کر ان کے خلاف بغاوت نہ کريں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں‘ جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔ نہیں‘ جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے ہیں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمان حکمرانوں میں سے کچھ تو نیک ہوں گے اور کچھ فاسق اور بے دین ہوں گے۔ اس کے باوجود جب تک وہ شعائرِ اسلام کی حفاظت کرتے رہيں جس میں نمازسب سے اہم ہے، ان کے خلاف خروج وبغاوت جائز نہیں ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس سے ایک ایسے گدھے کا گزر ہوا، جس کے چہرے کو نشان زد کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے اسے (چہرے پر) نشان لگایا“۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چہرے پر مارنے اور اس پر نشان لگانے سے منع فرمایا ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اس بات کی سخت ممانعت اور اس شخص کے لیے سخت وعید ہے، جس نے کسی جانور کے چہرے پر نشان لگایا اور اسی طرح اس کے چہرے پر مارا۔ علماے کرام نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ علماے کرام نے اس ممانعت کی علت یہ بیان کی ہے کہ چہرہ ایک عمدہ عضو ہے، جو تمام محاسن کا مرکز ہوتا ہے۔ چہرے کے اجزا بہت نفیس و نازک ہوتے ہیں اوربیش تر قوائے ادراک چہرے ہی میں ہوتے ہیں۔ چنانچہ چہرے پر مارنے کی وجہ سے یہ ناکارہ ہو سکتے ہیں یا انھیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بسا اوقات چہرے پر مارنے سے چہرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور اس میں پیدا شدہ عیب بہت برا ہوتا ہے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس کا چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔ اور جب بندہ جانور کو چہرے میں مارتا ہے، تو عموما اس میں عیب پیدا ہو ہی جاتا ہے۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی ﷺ نے ایک سرِیّہ بھیجا اور ایک انصاری شخص کو ان کا امیر مقرر فرمایا اور انہیں اس کی اطاعت کا حکم دیا۔ وہ (کسی بات پر) غصہ ہو گیا اور کہنے لگا: کیا نبی ﷺ نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں (یقیناً دیا ہے)۔ اس نے کہا: تو پھر میرے لیے لکڑیاں جمع کرو۔ چنانچہ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں۔ پھر اس نے کہا: آگ جلاؤ۔ تو انہوں نے آگ جلائی۔ پھر اس نے کہا: اس میں داخل ہو جاؤ۔ تو انہوں نے (داخل ہونے کا) ارادہ کیا لیکن ایک دوسرے کو روکنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تو آگ ہی سے (بچنے کے لیے) نبی ﷺ کی طرف بھاگ کر آئے تھے۔ وہ اسی کشمکش میں تھے کہ آگ ٹھنڈی ہو گئی اور اس (امیر) کا غصہ بھی فرو ہو گیا۔ جب یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس سے نہ نکلتے؛ اطاعت صرف نیکی (کے کاموں) میں ہے"۔
متفق عليهنبی ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا، انصار میں سے ایک شخص کو ان کا امیر مقرر فرمایا اور انہیں اس کی اطاعت کا حکم فرمایا۔ ایسا ہوا کہ وہ امیر ان پر غصہ ہو گئے اور ان سے کہنے لگے: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: تو میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ لکڑیاں جمع کرو، آگ جلاؤ اور پھر اس میں داخل ہو جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی، پھر جب انہوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور کہا: ہم نے تو آگ سے بچنے کے لیے نبی ﷺ کی اتباع کی تھی، تو کیا ہم اس میں داخل ہوں گے؟ وہ ابھی اسی حال میں تھے کہ آگ کا شعلہ بجھ گیا، اور امیر کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا۔ جب نبی ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا: اگر وہ ان کی اطاعت کرتے اور اس آگ میں داخل ہو جاتے جو انہوں نے جلائی تھی، تو وہ اس میں عذاب دیے جاتے اور جب تک دنیا قائم رہتی، اس سے نہ نکل پاتے۔ خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں؛ اطاعت تو صرف بھلائی کے کاموں میں واجب ہے، معصیت میں نہیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ کسی حاکم کے ساتھ خیر کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُسے راست باز (خیر خواہ) وزیر عطا کر دیتا ہے۔ وہ اگر بُھولتا ہےتو وہ (وزیر) اُسے یاد کرا دیتا ہے۔ اور اگر حاکم کو یاد ہو تو وه اس کی مدد کرتا ہے۔ اور جب اللہ اس کے ساتھ بھلائی کے علاوہ كسی اور بات (برائی) کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس کے لیے بُرا وزیر مقرر کر دیتا ہے۔ اگر وہ بھول جائے تو اسے یاد نہیں کراتا، اور اگر اسے یاد ہو تو اُس کی مدد نہیں کرتا“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ کسی حاکم کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے“۔ اس حدیث میں ارادے سے مراد کونی و قدری ارادہ ہے۔ اسی لیے اس میں خیر و شر دونوں ہی اقسام کے ساتھ تعلق کا ذکر ہوا ہے؛ کیونکہ اللہ اسے کبھی پسند کرتا ہے اور کبھی ناپسند کرتا ہے۔ یہ ارادہ اپنی وسعت کے ذریعے شرعی ارادے کو بھی شامل ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے۔ حکمرانوں میں سے جسے راست باز و خیر خواہ وزیر مل جائے اس کو ملنے والی اس خیر کی تفسیر دونوں جہانوں کی بھلائی کی توفیق ملنے سے کی گئی ہے، اسی طرح اس خیر کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد جنت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ راست باز وزیر عطا کر دیتا ہے۔" یعنی جو قول و فعل اور ظاہر و باطن میں سچا ہوتا ہے۔ وزیر کی اضافت سچ کی طرف کی گئی ہے کیونکہ صحبت وغیرہ میں سچائی ہی بنیاد ہوتی ہے۔ ”اگر وہ بھول جائے“۔ یعنی وہ امیراگر اپنی کسی ضرورت کی بات کو بھول جائے – اور بھولنا انسان کی فطرت ہے - ، یا کسی شرعی حکم یا مظلوم کے معاملے یا رعیت کے مفاد کا خیال کرنے سے بھٹک جائے تو ”وہ اس کو یاد دہانی کرا دیتا ہے“۔ یعنی یہ سچا وزیر اسے یاد کرا دیتا ہے اور اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ اگر حاکم کو وہ یاد ہو تو پھر رائے اور قول و فعل کے ذریعے سے اس کی مدد کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ کا اس کے علاوہ کسی اور شے کا ارادہ ہو“۔ یعنی خیر کے بجائے کسی اور شے کا ارادہ ہو جیسے کہ شر کا ارادہ ہو۔ آپ ﷺ نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ اس کو بیان کیا تا کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ شر سے اجتناب کرنے پر ابھارا جا رہا ہے۔ کیونکہ جب آپ ﷺ اس کی قباحت اور شناعت کی وجہ سے اس کے نام یعنی شر کے ذکر سے بھی اجتناب کر رہے ہیں تو اس کے مدلول سے تو بطریق اولی اجتناب کرنا چاہیے۔ خیر کے لئے اسم اشارہ "ذلک" استعمال کیا گیا جو کہ بعید کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ اس میں خیر کی تعظیم اور اس کے علو مرتبت کا بیان ہے اور اسے پانے اورحاصل کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ خیر کے علاوہ کے ارادہ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ”اللہ اس کے لیے برا وزیر مقرر کر دے گا“۔ یعنی ایسا وزیر جو قول و فعل میں برا ہو گا۔ یعنی سابق الذکر وزیر کا الٹا ہو گا۔ ”اگر وہ بھول جائے“۔ یعنی کسی ضروری شے کو چھوڑ دے تو ”وہ اسے یاد نہیں کراتا“ کیونکہ اس کے پاس وہ قلبی نور نہیں ہوتا جو اسے اس کام پر ابھارے۔ ”اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا“ بلکہ وہ اپنی فطری برائی اور بد کرداری کی وجہ سے اسے اس سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔