





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوسعید خدری - رضی اللہ عنہ - سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے، اور برائیوں سے معصوم و محفوظ تو وہی ہوسکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ معصوم و محفوظ رکھے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہےاور برائی کے مشیر کی تاثیر سے وہی شخص بچ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔
شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو ایک مرتبہ وعظ ونصیحت فرمایا کرتے تھے۔ تو ان سے ایک شخص نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! میری بڑی خواہش ہے کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ فرمایا کریں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ مجھے روزانہ وعظ کرنے سے یہ چیز روکتی ہے کہ میں تمہیں اکتاہٹ میں ڈالنا پسند نہیں کرتا، اور میں وعظ میں تمہارا خیال رکھتا ہوں، جس طرح رسول اکرم ﷺ ہمارا خیال رکھتے تھےکہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔
متفق علیہشقیق بن سلمہ رحمہ اللہ نے خبر دی کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو انہیں وعظ ونصیحت کرتے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: ہم لوگ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں ہر روز وعظ کیا کریں۔ انھوں نے جواب دیا: ایسا کرنے سے مجھے ایک ہی بات روکتی ہے کہ میں تمھیں اکتاہٹ اور بیزاری میں مبتلا کردوں۔ میں موقع و محل دیکھ کر تمھیں نصیحت کرتا ہوں جیسا کہ نبی ﷺ اس خیال سے کہ ہم اکتا نہ جائیں نصیحت کرنے میں وقت اور موقع کا لحاظ فرماتے تھے, کیوں کہ اکتاہٹ کے وقت وعظ کا کوئی فائدہ نہیں۔
صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادو گر تھا جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو آپ میرے ساتھ ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا سکوں تو بادشاہ نے ایک لڑکا جادو سیکھنے کے لیے جادوگر کے پاس بھیج دیا، جب وہ لڑکا چلا تو اس کے راستے میں ایک راہب تھا تو وہ لڑکا اس راہب کے پاس بیٹھا اور اس کی باتیں سننے لگا جو کہ اسے پسند آئیں، پھر جب بھی وہ جادوگر کے پاس آتا اور راہب کے پاس سے گزرتا تو اس کے پاس بیٹھتا (اور اس کی باتیں سنتا) اور جب وہ لڑکا جادوگر کے پاس آتا تو وہ جادوگر اس لڑکے کو (دیر سے آنے کی وجہ سے) مارتا، تو اس لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی تو راہب نے کہا کہ اگر تجھے جادوگر سے ڈر ہو تو کہہ دیا کر کہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب تجھے گھر والوں سے ڈر ہو تو تو کہہ دیا کر کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا۔ اسی دوران ایک بہت بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ روک لیا (جب لڑکا اس طرف آیا) تو اس نے کہا: میں آج جاننا چاہتا ہوں کہ جادوگر افضل ہے یا راہب افضل ہے؟ اس نے ایک پتھر لیا اور کہا ”الٰہی اگر راہب کا طریقہ تجھے جادوگر کے طریقے سے زیادہ پسند ہو، تو اس جانور کو قتل کر تاکہ لوگ گزر جائیں“۔ پھر لڑکے نے اس جانور کو پتھر سے مارا تو وہ جانور مر گیا اور لوگ گزرنے لگے۔ پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اس سے یہ حال کہا تو وہ بولا کہ بیٹا تو مجھ سے بڑھ گیا ہے، یقیناً تیرا رتبہ یہاں تک پہنچا جو میں دیکھتا ہوں اور تو عنقریب آزمایا جائے گا۔ پھر اگر تو آزمایا جائے تو میرا نام نہ بتلانا۔ اور وہ لڑکا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کر دیتا تھا بلکہ ہر ایک بیماری کا علاج بھی کر دیتا تھا۔ بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفے لے کر اس کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحفے جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ سارے تمہارے لیے ہوجائیں گے، اس لڑکے نے کہا کہ میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تجھے شفا دے دے۔ پھر وہ (شخص) اللہ پر ایمان لے آیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرما دی۔ پھر وہ آدمی بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا جس طرح کہ وہ پہلے بیٹھا کرتا تھا، بادشاہ نے اس سے کہا کہ کس نے تجھے تیری بینائی واپس لوٹا دی؟ اس نے کہا: میرے رب نے۔ اس نے کہا کہ کیا میرے علاوہ تیرا اور کوئی رب بھی ہے؟ اس نے کہا : میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔ پھر بادشاہ اس کو پکڑ کر اسے عذاب دینے لگا تو اس نے بادشاہ کو لڑکے کے بارے میں بتادیا۔ چنانچہ اس لڑکے کو لایا گیا، تو بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا کہ اے بیٹے! کیا تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اب تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو بھی صحیح کرنے لگ گیا ہے اور ایسے ایسے کرتا ہے؟ لڑکے نے کہا: میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا، بلکہ شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے بادشاہ نے اس کو پکڑا اور مارتا رہا، یہاں تک کہ اس نے راہب کا نام بتلایا۔راہب پکڑ لیا گیا۔ اس سے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جا۔ اس کے نہ ماننے پربادشاہ نے آرا منگوا کراس کے سر کی مانگ پر رکھوایا اور اسے چیر کر دو ٹکڑے کروا دیا پھر بادشاہ کے ہم نشین کو لایا گیا اور اس سے بھی کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا، بادشاہ نے آرا منگوا کراس کے بھی سر کی مانگ پر رکھوایا اور اسے چروا کر دو ٹکڑے کرادیا پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کر دے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا۔ چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا: اے اللہ! تو مجھے ان سے کافی ہے جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا لے، اس پہاڑ پر فورا ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گر گئے اور وہ لڑکاچلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ: تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے کہا: اللہ پاک نے مجھے ان سے بچا لیا ہے، پھر بادشاہ نے اس کو اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اس کو ایک چھوٹی کشتی میں دریا کے اندر لے جاؤ، اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو خیر، ورنہ اس کو دریا میں دھکیل دینا۔ وہ لوگ اس کو لے گئے۔ لڑکے نے کہا کہ اے اللہ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے، پھر وہ کشتی بادشاہ کے ان ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا :تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے، پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ تو مجھے اس وقت تک نہ مار سکے گا، جب تک کہ جو طریقہ میں بتلاؤں وہ نہ کرے۔ بادشاہ نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ اس لڑکے نے کہا کہ سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر کو پکڑو پھر اس تیر کو کمان کے وسط میں رکھو اور پھر کہو:اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر مجھے تیر مارو اگر تم اس طرح کرو تو مجھے قتل کرسکتے ہو پھر بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکا دیا پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا پھر اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھ کر کہا: اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مر گیا تو سب لوگوں نے کہا: ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے! ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے! ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے! بادشاہ آیا اور اس سے کہا گیا کہ جس سے تو ڈرتا تھا وہی ہوا یعنی لوگ ایمان لے آئے۔ بادشاہ نے گلیوں کے دہانوں پر خندق کھودنے کا حکم دیا پھر خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلا دی گئی بادشاہ نے کہا کہ جو شخص اس (لڑکے) کے دین سے نہ پھرے، اسے ان خندقوں میں دھکیل دو، یا اس سے کہا جائے کہ ان خندقوں میں داخل ہو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ عورت آگ میں گرنے سے جھجھکی (پیچھے ہٹی) تو بچے نے کہا کہ اے امی جان! صبر کر کیونکہ تو حق پر ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں ایک عجیب وغریب قصّے کا بیان ہے اور وہ یہ کہ سابقہ زمانہ میں ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا، بادشاہ نے اس جادوگر کو اپنا خاص مشیر بنا رکھا تھا تاکہ اسے اپنے مقاصد میں استعمال کرے گرچہ وہ دین کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ بادشاہ اپنے ذاتی مقاصد کا خاص دھیان رکھتا تھا اور وہ ظالم بادشاہ تھا جو لوگوں کو اپنی عبادت کے لیے بھی مجبور کرتا تھا۔ یہ جادوگر جب بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو آپ میرے ساتھ ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا سکوں۔ جادوگر نے لڑکے کا انتخاب کیا کیونکہ لڑکا تعلیم حاصل کرنے اہل اور زیادہ مناسب ہوتا ہے اور وہ جب کوئی چیز سیکھتا ہے تو جلدی نہیں بھولتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس لڑکے کے ساتھ اچھائی کا ارادہ کیا، چنانچہ اس لڑکے کا گزر ایک دن ایک راہب کے پاس سے ہوا اور اس نے اس کی باتیں سنیں جو اس کو پسند آئیں، کیونکہ یہ راہب یعنی عبادت گزار اللہ کی عبادت کرتا اور صرف اچھی باتیں بولتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی عبادت گزار عالم ہو لیکن اس پر رہبانیت کا غلبہ تھا، اسی لیے اس کا نام راہب پڑا۔ چنانچہ یہ لڑکا جب گھر سے نکلتا اور راہب کے پاس بیٹھتا تو جادوگر کے پاس دیر سے پہنچتا تو جادوگر اس لڑکے کو مارتا کہ تو دیر سے کیوں آتا ہے؟ لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی اور مار سے بچنے کا نسخہ دریافت کیا، راہب نے کہا کہ جب تو جادوگر کے پاس جائے اور مار کا ڈر ہو تو کہہ دیا کرنا کہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اورجب تو گھر والوں کے پاس جائے اور تاخیر کی وجہ پوچھیں تو کہہ دینا کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا، اس طرح تو دونوں کی ڈانٹ سے محفوظ ہوجائے گا ـــــــ اللہ ہی بہتر جانے ــــــــ راہب نے اس لڑکے کو ایسا کرنے کے لیے کہا جب کہ وہ جھوٹ تھا، شاید اس نے یہ سوچا ہوگا کہ اس میں جو مصلحت پوشیدہ ہے وہ جھوٹ کے نقصان پر غالب ہے، یا پھر اس کا ارادہ توریہ اور معنوی طور پر روکنے کا رہا ہے۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا اور اس قابل ہوگیا کہ وہ راہب کے پاس آتا اور اس کی باتیں سنتا اور پھر جادوگر کے پاس جاتا، جب جادوگر اپنے پاس دیر سے آنے پر اس کو سزا دیتا تو کہتا کہ میرے گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور جب گھر لوٹتا اور راہب کے پاس دیر ہوجاتی تو کہتا ہے کہ جادوگر نے روک لیا تھا۔ ایک دن ایک بہٹ بڑا جانور شیر گزرا اور اس نے لوگوں کا راستہ روک لیا، لڑکا اس طرف آیا تو اس نے کہا میں آج آزمانا چاہوں گا کہ جادوگر میرے لیے افضل ہے یا راہب بہترہے، اورپھر ایک پتھر لیا اور کہنے لگا: اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ میرے لیے بہتر ہے تو اس پتھر سے یہ جانور مرجائے، پھر اس کو پتھر سے مارا تو وہ جانور مرگیا اور لوگ گزرنے لگے۔ اور لڑکے نے جان لیا کہ راہب کا معاملہ جادوگر کے بالمقابل اس کے حق میں بہتر ہے۔ پھر لڑکے نے راہب کو اس کی خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا: آج تو مجھ سے افضل ہے، یقیناً تیرا رتبہ یہاں تک پہنچا جو میں دیکھتا ہوں اور تو عنقریب آزمایا جائے گا،اور اگر تو آزمایا جائے تو میرا نام نہ بتلانا۔ (اس لڑکے کا حال یہ تھا کہ) وہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا بلکہ لوگوں کی ہر بیماری کا علاج بھی کردیتا تھا۔ بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفائف لے کراس کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحائف جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ تمہارے لیے ہوجائیں گے، اس لڑکے نے کہا کہ میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تمہیں شفا دے دے، پھر وہ (شخص) اللہ پر ایمان لے آیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرمادی۔پھر اس اندھے آدمی کو لایا گیا جوکہ بادشاہ کا ہم نشین تھا، وہ اللہ پر ایمان لے آیا اور بادشاہ پر ایمان لانے سے انکار کردیا، بادشاہ نے اس سے کہا کہ وہ اپنے دین سے پھر جائے لیکن لڑکے نے انکار کردیا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ (مشکل حالات میں) انسان کو صبر سے کام لینا چاہیے۔ پھر راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھرجا، راہب نے انکار کردیا۔ اس پر بادشاہ نے آرا منگوا کر اس کے سر کی مانگ پر رکھوایا اور اسے چروا کر دو ٹکڑے کروادیا۔ پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا، وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھرجا۔ اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا: اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ، اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کردے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے دھکیل دینا۔ چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا: اے اللہ! تو میرے لیے اُن کے بالمقابل کافی ہے، جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچالے۔ اس پہاڑ پر فوراً ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گرگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے کہا: اللہ پاک نے مجھے ان سے بچالیا ہے۔پھر بادشاہ نے اس کو اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اس کو ایک کشتی میں دریا کے اندر لے جاؤ، اگر اپنے دین سے پھر جائےتو خیر، ورنہ اس کو دریا میں دھکیل دینا۔ وہ لوگ اس کو لے گئے، لڑکے نے کہا کہ اے اللہ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے، چنانچہ وہ کشتی بادشاہ کے ان ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کے پاس پہنچا۔بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے، پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ تو مجھے اس وقت تک نہ مارے سکے گا جب تک کہ جو طریقہ میں بتلاؤں وہ نہ کرے، بادشاہ نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ اس لڑکے نے کہا کہ سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکالو اور اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھو اور پھر کہو: اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر مجھے تیر مارو اگر تم اس طرح کرو تو مجھے قتل کرسکتے ہو! چنانچہ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکادیا، پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھ کر کہا کہ اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا، تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مر گیا، (یہ دیکھ کر) سب لوگوں نے کہا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پرایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ آیا اور اس سے کہا گیا کہ: جس سے ڈر رہے تھے وہی ہوا یعنی لوگ ایمان لے آئے۔ چنانچہ بادشاہ نے راستوں کے دروازوں پر خندق کھودنے کا حکم دے دیا۔ پھر خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلادی گئی، بادشاہ نے کہا: جو شخص اس دین سے (یعنی لڑکے کے دین سے) نہ پھرے اسے خندقوں میں دھکیل دو، یا اس سے کہا جائے کہ ان خندقوں میں داخل ہو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی جس کی گود میں اس کا بچہ بھی تھا، وہ عورت (بچے کی وجہ سے) آگ میں کودنے سے پیچھے ہٹی تو بچے نے کہا کہ: اے امی جان صبر کر! اس لیے کہ تو حق پر ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابو ذر! میں تمھیں کمزور سمجھتا ہوں اور مجھے تمہاری لیے بھی وہی بات پسند ہے، جو خود اپنے لیے پسند ہے۔ دو آدمیوں پر کبھی حاکم نہ بننا اور نہ ہی یتیم کے مال کی دیکھ بھال کی ذمہ داری لینا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کررہے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میں تمھیں کمزور سمجھتا ہوں اور مجھے تمھارے لیے بھی وہی بات پسند ہے، جو خود اپنے لیے پسند ہے۔ دو آدمیوں پر کبھی حاکم نہ بننا اور نہ ہی یتیم کے مال کی دیکھ بھال کی ذمہ داری لینا“۔ یہ تین جملے ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے فرمائے: اول: آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میں تمھیں کمزور سمجھتا ہوں“۔ اس نصیحت کو مبنی پر حقیقت صورت حال پر محمول کیا جائے گا۔ کسی آدمی کا کسی دوسرے شخص کو ایسا کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ مثلا تم میں یہ یہ کمزوریاں ہیں؛ بشرطے کہ اس کا یہ کہنا نصیحت کی غرض سے ہو، نہ کہ برا بھلا کہنے اور عار دلانے کےلیے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں تمھیں کمزور سمجھتا ہوں“۔ دوم: آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تمھارے لیے بھی وہی بات پسند ہے، جو خود اپنے لیے پسند ہے“۔ یہ نبی ﷺ کے حسن اخلاق کا ایک مظہر ہے۔ چوں کہ پہلے جملے میں کچھ دل آزاری کا پہلو تھا، اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تمھارے لیے بھی وہی بات پسند ہے، جو خود اپنے لیے پسند ہے“۔ سوم: ”دو آدمیوں پر کبھی حاکم نہ بننا“۔ یعنی دو آدمیوں پر بھی کبھی امیر نہ بننا۔ اس سے زیادہ پر امیر بننے کی ممانعت تو بطریق اولی ہو گی۔ مفہوم یہ ہے کہ نبی ﷺ نے انھیں امیر بننے سے منع کیا؛ کیوں کہ وہ کمزور تھے، جب کہ امارت کے لیےطاقت ور اور امانت دار شخص کی ضرورت ہوتی ہے۔ طاقت ور اس طرح سے کہ وہ صاحب اقتدار ہو اور اس کی بات میں تیز پن ہو۔ بایں طور کہ جو کہے اسے کر گزرے اور لوگوں کے سامنے کمزوری ظاہر نہ ہونے دے؛ کیوں کہ لوگ جب کسی شخص کو کمزور سمجھنا شروع کردیں، تو ان کے ہاں اس کا احترام باقی نہیں رہتا اور بے وقوف لوگ اس پر جری ہو نے لگتے ہیں۔ تاہم اگر وہ طاقت ور ہو، اللہ کی حدود سے تجاوز نہ کرتا ہو اور نہ اللہ کے عطا کردہ اقتدار میں کوئی کوتاہی برتتا ہو، تو یہ شخص ہی حقیقی امیر ہوتا ہے۔ چہارم: ”اور نہ ہی یتیم کے مال کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھانا“۔ یتیم اس بچے کو کہا جاتا ہے، جس کے بالغ ہونے سے پہلے ہی اس کا باپ فوت ہو جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کو یتیم کے مال کی ذمے داری اٹھانے سے منع فرمایا؛ کیوں کہ یتیم کے مال کو دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ ابو ذررضی اللہ عنہ کمزور شخص تھے، جو اس کی کما حقہ دیکھ بھال نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور نہ ہی یتیم کے مال کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھانا“۔ یعنی یتیم کے مال کا نگران نہ بننا، بلکہ یہ ذمے داری کسی اور کے لیے چھوڑ دینا۔ اس میں ابو ذر رضی اللہ عنہ کی تنقیص نہیں ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ تو بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے۔ ساتھ ہی آپ بہت زاہد اور تقشف اختیار کرنے والے تھے۔ یہ تو بس ایک میدان میں کمزور تھے؛ امارت اور حکومت کا میدان۔
ابو ذر رضی الله عنہ سے روایت ہےکہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟ آپ ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا:”ابوذر! تم کمزور ہو اور یہ (امارت) امانت ہے، قیامت کے دن یہ شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہوگی، سوائے اس شخص کے، جس نے اسے حق کے مطابق قبول کیا اور اس نے متعلقہ ذمہ داری جو اس پر عائد ہوئی تھی اسے (اچھی طرح) ادا کیا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابو ذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے بطورِ خاص انہیں حکومت اور اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے بارے میں نصحیت فرمائی۔ ایسا اس وقت ہوا جب ابو ذر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے کہا کہ آپ ﷺ انہیں کوئی حکومتی ذمہ داری سونپیں۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم کمزور ہو“۔ اس بات میں گو کہ کچھ سختی ہے لیکن امانت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان کو اس کے بارے میں بالکل صراحت کے ساتھ بتا دیا جائے کہ وہ کیسا ہے۔ اگر وہ قوی ہے تو قوی اور اگر کمزور ہے تو کمزور۔ اس میں دلیل ہے کہ حکومتی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان قوی اور امین ہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ”یہ امانت ہے“۔ اگر وہ قوی اور امین ہو تو یہ صفات ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ امیر اور حاکم بننے کا مستحق ہو جاتا ہے۔ اگر قوی تو ہو لیکن امین نہ ہو یا پھر امین ہو لیکن قوی نہ ہو یا پھر کمزور بھی ہو اور امین بھی نہ ہو تو ان تینوں اقسام کی کمزوریوں کے مالک شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ حکمران بنے۔چنانچہ اس بنا پر ہم قوی شخص کو حکمرانی سونپتے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہے۔ لوگوں کو اقتدار اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر قوت نہ ہو خاص طور پراس وقت جب دین بھی کمزور ہو تو اس صورت میں معاملات بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ حدیث حکومتی ذمہ داریوں کو لینے سے اجتناب کرنے کے بارے میں ایک بنیاد ہے خاص طور پر اس شخص کے لیے جس میں اس حکومتی ذمہ داری کے تقاضوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں کمزوری پائی جائے۔ جہاں تک اُس رسوائی اور ندامت کا تعلق ہے جس کا حدیث میں ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ قیامت کے روز رسوائی اور ندامت کے سوا کچھ نہ ہو گی“۔ تو یہ اس شخص کے حق میں ہے جو اس حکومتی ذمہ داری کا اہل نہ ہو۔ یا پھر اہل تو ہو لیکن وہ اس میں انصاف نہ کرے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالی قیامت کے دن ذلیل اور رسوا کر دے گا اور وہ اپنی کوتاہی پر نادم ہو گا۔ جب کہ وہ شخص جو حکومتی ذمہ داری کا اہل ہو اور وہ اس میں انصاف بھی کرے تو یہ وعید اُس پر صادق نہیں آئے گی۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے استثناء کرتے ہوئے فرمایا: ”ماسوا اس شخص کے جس نے اس کا اہل ہونے کی وجہ سے اسے لیا اور اس کے بارے میں اس پر جو ذمہ داری عائد ہوتی تھی اسے پورا کیا“۔ کیونکہ جو اس کا اہل ہو اس کی بہت فضیلت ہے جس کا ذکر بہت سی صحیح احادیث میں آیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ: ”سات لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ اپنے سایہ میں جگہ دے گا“ (جس میں انصاف کرنے والا حاکم بھی ہے)۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ: ”عدل کرنے والے نور کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے“۔ وغیرہ۔
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مدینے میں نبی ﷺ کے پیچھے عصر کی نماز پڑھی۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ ﷺ جلدی سے کھڑے ہوئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے اپنی کسی بیوی کے حجرے کی طرف چلے گئے۔ آپ ﷺ کی جلدی کی وجہ سے لوگ گبھرا گئے۔ جب آپﷺ (حجرے سے) نکل کر ان کے پاس آئے اور دیکھا کہ وہ آپ ﷺ کی سے حیرت زدہ ہیں، تو فرمایا: ”ہمارے پاس موجود سونے کے ایک ٹکڑے کا خیال میرے ذہن میں آیا۔ مجھے یہ برا لگا کہ میری توجہ اس کی طرف لگی رہے۔ چنانچہ میں نے اسے بانٹ دینے کا حکم دے دیا“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”میں گھر میں صدقے کے مال سے سونے کا ایک ٹکڑا چھوڑ آیا تھا۔ مجھے یہ بات اچھی نہ لگی کہ رات میں اسے اپنے پاس رکھوں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک دن نبی ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ نبی ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو جلدی سے کھڑے ہو کر صفوں کو چیرتے ہوئے اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کے حجرے کی طرف چلے گئے۔ اس کی وجہ سے لوگ گبھرا گئے۔ پھر جب آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ آپ ﷺ کے اس عمل سے حیرت میں مبتلا ہیں، تو اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کو کچھ اَن ڈھلا سونا یاد آگیا تھا، جسے تقسیم کرنا ضروری تھا۔ آپ ﷺ کو یہ بات پسند نہ آئی کہ اسے اپنے پاس رکھے رہیں اور اس کی وجہ سے آپ ﷺ کی توجہ اور ذہن اللہ تعالی سے ہٹا رہے۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے چچا کے بیٹوں میں سے دو بیٹے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی تولیت میں جو دیا، اس کے کسی حصے پر ہمیں امیر بنا دیجیے۔ دوسرے نے بھی یہی کہا، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہم کسی ایسے شخص کو اس کام کی ذمے داری نہیں دیتے، جو اس کو طلب کرے اورنہ ہی ایسے شخص کو، جو اس کا خواہش مند ہو“۔
متفق علیہاس حدیث میں امارت طلب کرنے والے یا اس کی حرص رکھنے والے کو امارت سونپنے سے منع کیا گيا ہے۔ چنانچہ جب نبی کریم ﷺ سے دو آدمیوں نے یہ مطالبہ کیا کہ آپ ﷺ کی تولیت میں اللہ تعالیٰ نے جو معاملات دیے ہیں ان میں سے کسی پر انھیں امیر مقرر فرما دیں، تو آپﷺ نے فرمایا: ”إِنَّا وَاللهِ لا نُوَلِّي هَذَا الأَمْرَ أَحَدًا سَأَلَهُ، أو أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ“ یعنی اللہ کی قسم! ہم کسی ایسے شخص کو اس کام کی ذمے داری نہیں دیتے، جو اسے طلب کرے،اور نہ ایسے شخص کو، جو اس کا خواہش مند ہو۔ کیوں کہ جو شخص کوئی عہدہ طلب کرتا ہے یا اس کی حرص رکھتا ہے، بسا اوقات اس کی غرض صاحب اختیار بننے کی ہوتی ہے۔ چوں کہ اس تہمت سے متہم ہونے کا ڈر تھا، اس لیے نبی کریمﷺ نے منع فرمادیا کہ ایسے شخص کو کوئی عہدہ دیا جائے جو امارت کی طلب رکھتا ہو۔ فرمایا: اللہ کی قسم! ہم کسی ایسے شخص کو اس کام کی ذمے داری نہیں دیتے، جو اسے طلب کرے اور نہ ایسے شخص کو، جو اس کا خواہش مند ہو۔ اس حدیث کے موضوع کی تاکید عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے کہ نبی نے فرمایا: امارت کے طلب گار نہ بنو؛ کیوںکہ بغیر طلب کیے اگر یہ چیز تمھیں ملتی ہے، تواس پر تمھاری مدد کی جاتی ہے اور اگرمانگنے پر دی جاتی ہے، تو تمھیں اس کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ لہذا حاکم کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ جب اس سے کوئی شخص کسی ملک یا کسی بستیوں والے علاقے وغیرہ کی امارت طلب کرے، تو اسے اس کا والی بنادے۔ اگرچہ طلب کرنے والا شخص اس کی اہلیت رکھتا ہو۔ نیز اگر کوئی شخص عہدۂ قضا کا طلب گار ہواور عدلیہ کے حاکم مثلا وزیر انصاف سے کہے کہ مجھے فلاں جگہ کا جج بنادیجیے تو وہ اسے جج نہ بنائے۔ البتہ اگر کوئی شخص ایک شہر سے دوسرے شہر میں تبادلہ وغیرہ کا خواہاں ہو، تو وہ اس حدیث میں داخل نہیں ہوگا، کیوں کہ اسے پہلے ہی سے عہدہ ملا ہوا ہے۔ وہ فقط دوسری جگہ جانا چاہتا ہے۔ البتہ اگر یہ پتہ چلے کہ وہ اس شہر والوں پر کنٹرول کرنا چاہتا ہے، تو ہم اسے روکیں گے، کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اگر کوئی کہے کہ تم یوسف علیہ السلام کے اس قول کے بارے میں کیا کہوگے، جو انھوں نے عزیز مصر کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: مجھے زمین کے خزانوں کا نگراں مقرر کر دیجیے، میں حفاظت کرنے والا اور باخبر ہوں تو ہم اسے دوجوابوں میں سے کوئی ایک جواب دیں گے: پہلا جواب یہ ہے کہ پچھلی شریعت کا ٹکراؤ اگر ہماری شریعت سے ہو، تواعتبار ہماری شریعت کا ہوگا۔ اہل اصول کا مشہور قاعدہ ہے: پچھلی شریعتیں ہمارے لیے اس وقت تک قابل عمل ہیں، جب تک هماری شریعت میں ان کے خلاف نہ آیا ہو" چوں کہ ہماری شریعت میں ان کے خلاف وارد ہے کہ کسی ایسے شخص کو عہدہ نہیں دیا جائے گا، بو اس کا طالب ہو۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اس سے کہا جائے گا کہ یوسف علیہ السلام نے جب مال کا ضیاع، اس کی حفاظت میں کوتاہی اور بندر بانٹ کو محسوس کیا تو آپ نے ملک کو کرپشن سے نجات دلانے کا ارادہ کیا۔ اس طرح کے کام کا مقصد غلط تدبیر اور غلط طریقۂ کارسے چھٹکارا دلانا ہوتا ہے۔ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی شخص کسی علاقے میں کوئی حاکم دیکھے، جس نے امور سلطنت کو تباہ اور مخلوق کو برباد کر رکھا ہو اوراسے نظام سلطنت کو درست کرنے کے لیے کوئی دوسرا آدمی نظر نہ آئے، چنانچہ اس کے مفاسد کو دور کرنےکے لیے سربراہ اعلی سے خود اپنی تقرری کی گزارش کرے، تو قاعدے کی رو سے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عثمان بن ابو العاص کی حدیث، جس میں ہے کہ انھوں نے نبی سے کہا تھا: مجھے اپنی قوم کا نماز میں امام بنادیجیے، تو آپ نے فرمایا: تو ان کا امام ہے، بعض علما کے مطابق خیر کے کاموں میں امامت کی طلب پردلالت کرتی ہے اور یہ ان رحمن کے بندوں کی دعاؤں میں بھی آیا ہے، جنھیں خود اللہ نے اس وصف سے متصف کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں: (ہمیں پرھیزگاروں کا امام بنادیجیے) ناپسندیدہ ریاست کی طلب کے جواز پر نہیں؛ کیوں کہ یہ دنیا کی ریاست سے متعلق ہے، جسے طلب کرنے والے کی نہ تو مدد کی جاتی ہے اور نہ وہ ریاست پانے کا حق دار ہوتا ہے۔
عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا : میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے۔ تو تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہوجاؤ۔ اس نے کہا : آپ بیٹھیے، آپ تو اصحاب محمد ﷺ کا تلچھٹ ہو، انھوں نے کہا: کیا اصحاب رسول ﷺ میں بھی تلچھٹ ہوتا ہے؟ بے شک تلچھٹ تو ان کے بعد یا ان کے علاوہ دوسروں میں ہوگا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس آئے، اس وقت عبید اللہ عراق کا امیر تھا۔ وہ اپنے باپ کے بعد وہاں کا امیر بنا تھا۔ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو کہتے ہوئے سنا کہ بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے۔ ”الحُطَمَة“ یعنی اونٹوں کو ہنکانے اور لانے لے جانے میں سختی کرنے والا، جو بعض کو بعض سے مڈ بھیڑ کرواتا ہے اور سختی برتتا ہے۔ آپ ﷺ نے یہ بُرے والی کے لیے بطور مثال بیان کیا ہے۔ اس سے مُراد بد خلق ہے، جو دوسروں پر ظلم کرتا ہے، نرمی اور رحم کا رویہ روا نہیں رکھتا۔ ”فَإِيَّاك أَن تَكُون مِنهُم“ یہ عائذ رضی اللہ عنہ کا جملہ ہے، جو انھوں نے ابنِ زیاد سے نصیحت کے طور پر کہا۔ ابنِ زیاد نے جواب میں کہا: آپ تو ان کا تلچھٹ ہو یعنی تم صاحب فضل، ذی علم اور اہلِ مرتبہ صحابہ میں سے نہیں ہو، بلکہ کم مرتبہ صحابہ میں سے ہو۔ ”النُّخَالَة“ آٹے کے بھوسے سے استعارہ ہے، جو اس کے چھلکے ہوتے ہیں، النخالة، الحقالة اور الحثالة ایک ہی معنیٰ میں آتے ہیں۔ جلیل القدر صحابی نے جواب میں کہا: ”وهل كَانَت لَهُم نُخَالَة؟ إِنَّمَا كَانَت النُخَالَة بَعدَهُم وَفِي غَيرِهِم“ یہ صحابی کا بڑا عمدہ، سلیس، فصیح اور سچا کلام ہے، جسے ہر مسلمان تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سارے کے سارے تمام لوگوں میں چنندہ، امت کے سردار اور بعد والوں سے افضل ہیں۔ سب کے سب عادل اور اسوہ ہیں۔ ان میں تلچھٹ ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ملاوٹ تو بعد والوں کی طرف سے یا خود بعد والوں میں ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار میں ایک آدمی تھا میں نہیں جانتا کہ کسی اور شخص کا گھر مسجد سے اس سے زیادہ دور تھا، اور اس سے کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی۔ تو اس سے کہا گیا: اگر تو ایک گدھا خرید لے جس پر تو اندھیرے میں اور گرمی کی شدت میں سوار ہو کر آیا کرے؟ اس نے کہا: مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے بغل میں ہو، میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا مسجد کی طرف چل کر جانا اور پھر وہاں سے میرا لوٹنا، جب میں اپنے گھر والوں کی طرف لوٹوں یہ سب کچھ میرے حساب میں لکھا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے یہ سب تیرے لیے جمع کردیا ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔مسجد کی طرف جانا اور وہاں سے واپس لوٹنا۔ اگر انسان اس سے اللہ کے یہاں اجر و ثواب کی امید رکھے تو اسے اس پر اجر دیا جائے گا۔ اس حدیث میں اس شخص کا واقعہ ہے جس کا گھر مسجد سے دور تھا، اور وہ بہت دور سے مسجد کی طرف آتا تھا اور وہ مسجد کی طرف آتے اور وہاں سے واپس لوٹتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتا تھا۔ تو بعض لوگوں نے ان سے کہا اگر آپ ایک گدھا خرید لیں تاکہ اندھیرے میں اور گرمی کی شدت میں اس پر سوار ہو کر آیا کریں، یعنی عشاء اور فجر کی نماز کے اندھیرے میں اور سخت گرمی یعنی گرمی کے موسم میں بالخصوص حجاز میں، جہاں کی فضا بہت گرم ہوتی ہے۔ صحابی نے کہا کہ اگر میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو تو یہ میری خوشی کا باعث نہیں۔ یعنی وہ اس پر خوش ہے کہ اس کا گھر مسجد سے دور ہے اور وہ مسجد تک پیدل چل کر آتا ہے اور پیدل واپس لوٹتا ہے۔ اور اسے اپنے گھر کے مسجد سے قریب ہونے پر خوشی نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر اس کا گھر مسجد سے قریب ہوتا تو اس کے لیے ان قدموں کی نیکی نہیں لکھی جاتی۔ اور اس نے یہ بیان کیا کہ وہ مسجد جاتے آتے ان قدموں پر اللہ کے ہاں نیکیوں کی امید رکھتا ہے۔ اس پر اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ نے یہ سب ثواب تیرے لیے جمع کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسجد تک آتے جاتے جس چیز کی تم امید رکھتے ہو، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اسے لکھ دیا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: ”إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ“ یعنی بلا شبہ تیرے لیے وہ ثواب ہے جس کی تجھے امید ہے۔