





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”جس بندے کو اللہ کسی رعایا کا نگران بناتا ہے اور مرنے کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ اپنی رعیت کے ساتھ دھوکا کر رہا ہوتا ہے، تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے“۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ہر وہ شخص جسے اللہ نے لوگوں کا والی اور ذمے دار بنایا، ولایت چاہے عام ہو، جیسے امیر اور حاکم یا خاص ہو، جیسے ایک مرد یا ایک عورت پر عائد ہونے والی گھر کی ذمے داری، پھر اس نے اپنے ماتحت لوگوں کا حق ادا کرنے میں کوتاہی کی، ان کو دھوکہ دیا، خیر خواہی سے کام نہیں لیا اور ان کے دینی و دنیوی حقوق کو ضائع کر دیا، وہ اس سخت سزا کا مستحق ہو گیا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جو (امیر کی) اطاعت سے نکل جائے اور (مسلمانوں کی) جماعت چھوڑ دے اور اسی حال میں اس کی موت ہو جائے، تو ایسی موت جاہلیت کی موت ہے۔ جو شخص ایسے جھنڈے تلے لڑائی لڑے، جس کا مقصد واضح نہ ہو، وہ عصبیت کی بنا پر غصے میں آتا ہو، يا عصبیت کی دعوت دیتا ہو یا عصبیت کا تعاون کرتا ہو، پھر اسی حالت میں مارا جائے، تو اس کی موت جاہلیت والی موت ہے۔ جو میری امت کے خلاف لڑائی کے لیے نکلے اس طور پر کہ امت کے نیک و برے لوگ سبھی کو مارے، نہ مؤمن کو چھوڑے نہ معاہد کے عہد کو نبھائے، ایسا شخص مجھ میں سے نہيں ہے اور میں اس میں سے نہیں ہوں۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جو شخص حکمرانوں کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکل گیا اور امام کی بیعت پر اتفاق رکھنے والی جماعت اسلام سے الگ ہو گيا، پھر اسی علاحدگی اور عدم اطاعت کی حالت میں مر گیا، تو وہ زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کی موت مرا، جو نہ کسی امیر کی اطاعت کرتے تھے اور نہ ایک جماعت سے جڑے ہوئے تھے۔ بلکہ الگ الگ ٹولیوں اور جتھوں میں بٹے ہوئے تھے اور ایک دوسرے سے بر سر پیکار تھے۔ اسی طرح آپ نے بتایا کہ جس نے کسی ایسے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر جنگ کی، جس کے بارے میں یہ واضح نہ ہو کہ وہ حق کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے یا باطل کی بنیاد پر، پھر وہ اللہ کے دین کے لیے نہیں، بلکہ اپنی قوم یا اپنے قبیلے کے تعصب میں طیش میں آتا ہو اور علم و بصیرت سے خالی ہو کر محض تعصب کی بنیاد پر جنگ میں شریک ہوتا ہو اور اسی حالت میں مر جائے، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔ اسی طرح جس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کے خلاف بغاوت کی، وہ اس کے نیک و بد سبھی لوگوں کی گردن ناپنے لگے، اپنی ان حرکتوں کی کوئی پرواہ نہ رکھے، ایمان والوں کے قتل کے انجام سے خوف نہ کھائے، معاہد غیر مسلموں اور حکمرانوں سے کیے گئے وعدے کو پورا نہ کرے، تو وہ اپنے ان گناہوں کی وجہ سے، جو کبیرہ گناہوں کے ضمن میں آتے ہیں، اس شدید ترین وعید کا حق دار بن گیا۔
عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "جو شخص تمھارے پاس اس حال میں آئے کہ تم لوگ بالاتفاق کسی کو خلیفہ مان کر اس کی اطاعت کر رہے ہو، وہ تمھارے اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہے یا تمھاری جماعت کے شیرازے کو منتشر کرنا چاہے، تو اسے قتل کر دو۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب مسلمان بالاتفاق کسی کو حکمراں مان چکے ہوں اور ایک جماعت کی شکل میں رہ ہے ہوں اور پھر کوئی آکر ان کے حکمراں سے اس کی حکمرانی چھیننا چاہے یا مسلمانوں کی جماعت کو ایک سے زیادہ جماعتوں میں بانٹنا چاہے، مسلمانوں پر اسے روکنا اور اس سے جنگ کرنا واجب ہوگا، تاکہ اس کی برائی سے بچا جا سکے اور مسلمانوں کی خوں ریزی سے تحفظ فراہم ہو سکے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جہاد کی ایک بہت بڑی شکل ظالم حکمراں کے سامنے انصاف کی بات کرنا ہے۔"
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کی ایک عظیم ترین اور نفع بخش ترین قسم کسی ظالم و جابر حکمراں کے سامنے انصاف اور حق کی بات کرنا ہے۔ کیوں کہ یہ اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے میں داخل ہے۔ اسے قول، تحریر، فعل یا کسی اور طریقے سے کیا جا سکتا ہے، جس سے مصلحت حاصل ہو جائے اور برائی سے بچا جا سکے۔
ابو سفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہرقل نے پوچھا: وہ شخص یعنی نبی ﷺ تمھیں کس بات کا حکم دیتا ہے؟ ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں نے جواب دیا: وہ کہتا ہے کہ صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، تمھارے آباو اجداد جو کچھ کہتے ہیں، اسے چھوڑ دو۔ اور وہ ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیتاہے اور سچائی اور پاک دامنی اپنانے اور صلہ رحمی کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
متفق علیہیہ ابو سفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کی ہرقل کے ساتھ ہونے والی مشہور گفتگو ہے۔ ابو سفیان اس وقت مشرک تھے۔ کیوں کہ انھوں نے بہت دیر سے صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان اسلام قبول کیا تھا۔ ابو سفیان قریش کے کچھ لوگوں کے ہم راہ شام میں ہرقل کے پاس آئے۔ ہرقل اس وقت عیسائیوں کا بادشاہ تھا۔ اس نے توریت اور انجیل پڑھ رکھی تھی اور سابقہ کتابوں کا علم رکھتا تھا۔ وہ ایک زیرک بادشاہ تھا۔ اس نے جب حجاز سے آنے والے ابو سفیان اور ان کے ہم راہیوں کے بارے میں سنا، تو انھیں بلا بھیجا اور ان سے نبی ﷺ کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا کہ آپ ﷺ کا نسب کیا ہے، آپ ﷺ کے صحابہ کیسے ہیں، وہ آپ ﷺ کی کیسے توقیر کرتے ہیں اور آپ ﷺ کے ساتھ کس حد تک وفادار ہیں؟؟ وہ جو بات پوچھتا، یہ لوگ اسے اس کے بارے میں بتاتے، یہاں تک کہ وہ جان گیا کہ آپ ﷺ وہی نبی ہیں، جس کی خبر سابقہ کتابوں نے دی ہے۔ تاہم حکمتِ الٰہی کے پیش نظر وہ اپنی بادشاہت کی لالچ میں اسلام قبول نہ کیا۔ العیاذ باللہ۔ ابو سفیان سے اس نے جوسوالات کیے، ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ نبی ﷺ انھیں کس بات کا حکم دیتے ہیں؟ ابو سفیان نے اسے بتایا کہ آپ ﷺ انھیں حکم دیتے ہیں کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کے سوا کسی بھی فرشتے، رسول، درخت، پتھر اور سورج و چاند وغیرہ کی عبادت نہ کریں۔ عبادت کی سزاوار صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے۔ تمام انبیا نے اسی بات کی دعوت دی۔ چنانچہ نبی ﷺ بھی وہی پیغام لے کر آئے، جوآپ ﷺ سے پہلے سابقہ انبیا لے کر آئے کہ عبادت صرف اور صرف اللہ کی ہونی چاہیے اور یہ کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اور وہ (یعنی نبی ﷺ )کہتے ہیں کہ: "جس دین پر تمھارے آباو اجداد تھے، اسے چھوڑ دو"۔ یہ حق کا برملا اظہار ہے۔ ان کے آباو اجداد جو بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے، نبی ﷺ نے اسے چھوڑ دینے کا حکم فرمایا۔ تاہم ان کے آباو اجداد میں جو اعلی اخلاقی خوبیاں تھیں، ان کے ترک کر نے کا آپ ﷺ نے حکم نہیں دیا۔ ابو سفیان نے کہا: "اور وہ ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیتا ہے"۔ نماز بندے اور اس کے رب کے مابین تعلق کا نام ہے۔ ارکان اسلام میں توحید و رسالت کی شہادت کے بعد یہ سب سے اہم رکن ہے۔ یہی مؤمن و کافر کے مابین مابہ الامتیاز ہے۔ یہی وہ معاہدہ ہے، جو ہمارے اور مشرکین و کفار کے مابین ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "ہمارے اور ان کے مابین جو معاہدہ ہے، وہ نماز ہے۔ جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے یقینا کفر کیا"۔ ابو سفیان نے کہا: "وہ ہمیں سچائی اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں"۔ نبی ﷺ اپنی امت کو سچائی کا حکم دیتے۔ یہ ایسے ہی جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ" (التوبة: 119) ترجمہ: اے ایمان والو! الله سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ سچائی ایک اعلی اخلاقی صفت ہے، جس کی دو اقسام ہیں: اللہ کے ساتھ سچائی اور اللہ کے بندوں کے ساتھ سچائی۔ اور دونوں ہی اعلی اخلاقی صفات میں سے ہیں۔ ابو سفیان نے کہا: "اور آپ ﷺ ہمیں پاک دامنی اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں"۔ "عفاف" کے معنی ہیں: پاک دامنی۔ عفت (پاک دامنی) کی دو اقسام ہیں: شر م گاہ کی شہوت سے عفت اور پیٹ کی شہوت سے عفت۔ پہلی قسم کی عفت سے مراد یہ ہے کہ انسان زنا اور اس کے وسائل و ذرائع سے دور رہے، جو اس کے لیے حرام ہیں۔ دوسری قسم کی عفت، پیٹ کی شہوت سے عفت ہے۔ یعنی لوگوں کے پاس جو کچھ (سامان دنیا ) ہے، اس سے عفت اختیار کرنا اور ان سے مانگنے سے پرہیز کرنا، بایں طور کہ وہ کسی شخص سے کوئی شے نہ مانگے۔ کیوں کہ مانگنا باعث ذلت ہے اور مانگنے والے کا ہاتھ کم تر اور نچلا ہوتا ہے، جب کہ دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے۔ چنانچہ سوائے اس شےکے جس کے بغیر چارہ ہی نہ ہو، آپ کے لیے کسی سے مانگنا جائز نہیں۔ پانچویں شے جس کے بارے میں ابو سفیان نے بتایا وہ صلہ رحمی ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے جن لوگوں سے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے، انسان ان سے صلہ رحمی کرے اور اس سلسلے میں ان سے اپنی رشتے داری کے درجات کو ملحوظ رکھے۔ رشتے داروں میں سب سے پہلے والدین آتے ہیں، جن کے ساتھ اچھا تعلق رکھنا نیکی بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔ رشتے دار جتنا قریبی ہو، اسی قدر اس سے صلہ رحمی ہو گی۔ چنانچہ چچا کی بہ نسبت بھائی سے صلہ رحمی کی زیادہ تاکید ہے اور باپ کے چچا کی بہ نسبت اپنے چچا سے صلہ رحمی زیادہ اہم ہے۔ صلہ رحمی ہر اس طریقے سے ہو سکتی ہے، جو لوگوں کے نزدیک معروف ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "آنے والے وقت میں ترجیح دیے جانے کے معاملے اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی، جو تمھیں بری لگیں گی۔" صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول! تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہيں؟ فرمایا : "تم اپنی ذمے داریاں ادا کرتے رہنا اور اپنا حق اللہ سے مانگنا۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں مسلمانوں کے حکمراں ایسے لوگ بن جائیں گے، جو مسلمانوں کے اموال وغیرہ کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کریں گے اور مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھیں گے۔ ان کی جانب سے دین سے متعلق کئی ایسی چیزیں سامنے آئيں گی، جو قابل نکیر ہوں گی۔ چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا : ایسی حالت میں ان کو کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے بتایا کہ ان کا عام مسلمانوں کے اموال کو ہڑپ لینا تم کو اس بات پر نہ ابھارے کہ ان کی بات سننے اور ماننے کی جو ذمہ داری تمہارے اوپر عائد ہوتی ہے‘ اس کو ادا کرنے سے دست بردار ہو جاؤ۔ تم صبر سے کام لینا، ان کی بات سننا اور ماننا، ان سے الجھنے کی کوشش مت کرنا، اپنا حق اللہ سے مانگنا اور اس بات کی دعا کرنا کہ اللہ ان کی اصلاح فرمائے اور ان کے شر اور ظلم سے تم کو بچائے۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’اللہ کے حدود پر قائم رہنے والوں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کی مثال ایسے لوگوں کی سی ہے جنہوں نے ایک کشتی میں جگہ کی تعیین کے لیے قرعہ اندازی کی، جس کے نتیجہ میں کچھ لوگوں نے کشتی کے اوپر والے حصے میں اور کچھ لوگوں نے نیچے والے حصے میں جگہ حاصل کی۔ جو لوگ نیچے والے حصے میں تھے، انہیں پانی لینے کے لیے اوپر والوں کے پاس سے گزرنا پڑتا۔ لہذا انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم اپنے ہی حصہ میں ایک سوراخ کر لیں، تاکہ اوپر والوں کو ہم کوئی تکلیف نہ دیں ۔ اب اگر اوپر والے نیچے والوں کو من مانی کرنے دیں گے، تو سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر اوپر والے نیچے والوں کا ہاتھ پکڑلیں گے (اور انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے) تو یہ خود بھی بچ جائیں گے اور باقی لوگ بھی بچ جائیں گے"۔
رواه البخارياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے حدود پر قائم رہنے والوں، اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والوں، بھلائی کا حکم دینے والوں اور برائی سے روکنے والوں کی ایک عمدہ مثال پیش کی ہے۔ اور اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے سے گریز کرنے والوں اور غلط کام کرنے والوں اور سماج کی نجات پر مرتب ہونے والے اس کے اثرات کی مثال ایک ایسی قوم سے پیش کی جو کشتی پر سوار ہوئے اور اس بات کے لیے قرعہ اندازی کی کہ کون کشتی کے بالائی حصے میں سوار ہوگا اور کون زیریں حصے میں۔ چنانچہ کچھ لوگوں کے حصے میں بالائی حصہ آیا اور کچھ لوگوں کے حصے میں زیریں حصہ۔ (چوں کہ پانی کا انتظام بالائی حصے میں تھا، اس لیے) زیریں حصے والوں کو پانی حاصل کرنے کے لیے بالائی حصے والوں سے ہوکر گزرنا پڑتا تھا۔ ایسے میں زیریں حصے والوں نے سوچا کہ اگر پانی حاصل کرنے کے لیے زیريں حصے میں ایک سوراخ کر لیں، تو بہتر ہو۔ اس طرح ہم بالائی حصے والوں کو تکلیف میں ڈالنے سے بچ سکتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں بالائی حصے والوں نے اگر زیريں حصے والوں کا ہاتھ نہ پکڑا اور ان کو سوراخ کرنے سے نہ روکا، تو کشتی ڈوب جائے گی اور سارے لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ جب کہ اگر ان کا ہاتھ پکڑ لیا، تو سارے لوگ بچ جائيں گے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”لوگوں سے ایسی بات کرو جنہیں وہ جانتے ہوں، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلا دیا جائے؟“
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رہنمائی فرما رہے ہیں کہ عام لوگوں سے وہی باتیں کرنی چاہئے جو ان کے ہاں معروف ہوں اور جو انہیں ان کے دین کے سلسلے میں فائدہ دیں جیسے توحید اورحلال و حرام کی وضاحت اور جو باتیں ان سے دور رکھنے والی ہوں اور جن کی ضرورت نہ ہو یا پھر وہ باتیں جو حق کو جھٹلانے اور اس کے قبول نہ کرنے کا باعث ہوں اور جن کو سمجھنا ان کے لیے مشتبہ اور جن کا ادراک کرنا ان کے لیے مشکل ہو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا : اے لوگو! تم اس آیت کو پڑھتے ہو: "يَا أَيُّها الَّذِين آمَنُوا عَلَيكُم أَنفسَكُم لاَ يَضُرُّكُم مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيتُم۔" (سورہ مائدہ: 105) (اے ایمان والو! اپنی فکر کرو۔ جب تم راهِ راست پر چل رہے ہو، تو جو شخص گمراه رہے، اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔) میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : "لوگ جب ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان سب پر عذاب نازل ہوجائے۔"
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه وأحمدابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ لوگ اس آیت کو پڑھتے ہيں : {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105]. (اے ایمان والو! اپنی فکر کرو۔ جب تم راهِ راست پر چل رہے ہو، تو جو شخص گمراه رہے، اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔) اور اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی ذمے داری بس اپنی اصلاح کی فکر کرنا ہے۔ اگر کوئی گمراہ ہو رہا ہے، تو ہوا کرے۔ اس سے اس کا کچھ نہيں بگڑنے والا۔ ان پر اچھے باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کی ذمے داری عائد نہيں ہوتی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کی خام خیالی ہے۔ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : لوگ جب کسی کو ظلم کرتے ہوئے دیکھ کر روکنے کی طاقت ہونے کے باجود اسے نہ روکیں، تو اس بات کا امکان بن جاتا ہے کہ اللہ ان سب پر اپنی جانب سے ایک عام عذاب بھیج دے۔ غلط کرنے والے پر بھی اور خاموش رہنے والے پر بھی۔