





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "مومن کے لیے جنت میں ایک ایسے موتی سے بنا خیمہ ہو گا جو اندر سے خالی ہوگا، جس کی لمبائی ساٹھ میل ہو گی۔ اس میں مومن کی بیویاں ہوں گی، جن کے پاس وہ آنا جانا کرے گا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکیں گی"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں جنت کی کچھ نعمتوں کے بارے میں بتایا۔ آپ نے بتایا کہ جنت کے اندر مومن کو ایک بہت بڑا اور بہت کشادہ خیمہ ملے گا، جو اندر سے خالی ایک ہیرے سے بنا ہوگا۔ اس کی لمبائی وچوڑائی 60 میل کی ہوگی۔ اس کے چاروں زاویوں میں سے ہر زاویے میں کچھ بیویاں ہوں گی، جو ایک دوسری کو دیکھ نہیں سکيں گی۔ وہ مومن ان کے درمیان گردش کرتا رہے گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "بلاشبہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔"
رواه البخاري في الأدب المفرد وأحمد والبيهقياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی نے آپ کو عمدہ اور اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا ہے۔ آپ پہلے آنے والے تمام رسولوں کے اختتام اور عرب کے اخلاق حسنہ کی تکمیل کرنے والی کی حیثیت سے بھیجے گئے تھے۔ کیوں کہ عرب خیر سے محبت اور شر سے نفرت کرتے تھے۔ وہ با مروت، دریا دل اور خود دار تھے۔ ایسے میں آپ ان کے اخلاق میں پائی جانے والی کمیوں، جیسے حسب نسب پر فخر کرنا اور تکبر کرنا اور مالی اعتبار سے کم تر لوگوں کو حقیر جاننا وغیرہ، کو دور کرکے اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لیے بھیجے گئے تھے۔
ابو رقیہ تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "دین خیر خواہی کا نام ہے"۔ ہم نے عرض کیا: کس کی خیر خواہی کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم حکمرانوں کی اور عام مسلمانوں کی۔“
رواه مسلماللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ دین اخلاص اور صدق کی بنیادوں پر قائم ہے۔ یعنی دین پر عمل مکمل طور پر اسی طرح ہونا چاہیے، جیسے اللہ نے حکم دیا ہے۔ اس میں نہ کوئی کمی ہو اور نہ فریب۔ چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ خیرخواہی کس کی ہونی چاہیے؟ تو آپ نے جواب دیا: 1- اللہ سبحانہ و تعالی کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسی کی خاطر عبادت کی جائے، کسی کو اس کا ساجھی نہ بنایا جائے، اس کی ربوبیت، الوہیت اور اس کے اسما وصفات پر ایمان رکھا جائے، اس کے حکم کى تعظیم کی جائے اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے۔ 2- اللہ کی کتاب یعنی قرآن پاک کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کا کلام مانا جائے، اسے اللہ تعالیٰ کی آخری اور پچھلی تمام شریعتوں کو منسوخ کرنے والی کتاب تسلیم کیا جائے، اس کی کما حقہ تعظیم اور تلاوت کی جائے، اس کی محکم آیتوں پر عمل کیا جائے، اس کی متشابہ آیتوں کو تسلیم کیا جائے، اس کی آیتوں کے غلط مطالب بیان کرنے والوں کی غلط بیانیوں کو سامنے لا کر اس کا دفاع کیا جائے، اس کی موعظتوں سے عبرت حاصل کی جائے، اس کے علوم کو پھیلایا جائے اور اس کی دعوت دی جائے۔ 3- اللہ کے رسول ﷺ کے لیے: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے آخری رسول ہونے پر یقین رکھا جائے، آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کی تصدیق کی جائے، آپ کے حکموں کی تعمیل کی جائے، آپ کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے، آپ کے بتائے ہوئے طریقے ہی کے مطابق اللہ کی عبادت کی جائے، اس بات کو مانا جائے کہ ہمارے اوپر آپ کا بہت بڑا حق ہے، آپ کی عزت کی جائے، آپ کی دعوت کو عام کیا جائے، آپ کى لائی ہوئی شریعت کو پھیلایا جائے اور آپ پر لگائے جانے والے الزامات کا رد کیا جائے۔ 4- مسلم حکمرانوں کی خیر خواہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق پر ان کی مدد کی جائے، ان سے ٹکرانے سے اجتناب کیا جائے اور نیکی کے کاموں میں ان کی بات سنی اور مانی جائے۔ 5- عام مسلمانوں کی خیر خواہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے، ان کو اچھے کاموں کی دعوت دی جائے، ان کو تکلیف دینے سے گریز کیا جائے، ان کا بھلا ہو اس بات سے محبت رکھی جائے اور نیکی اور تقوی کے کاموں میں ان کے ساتھ باہمی تعاون کا رشتہ رکھا جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ تمہارا دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، کسی آدمی کو اس کی سواری پر بٹھانے یا اس کا سامان اٹھا کر اس پر رکھوانے میں اس کی مدد کرنا بھی صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، نماز کی جانب اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے اور راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی صدقہ ہے۔“
اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہےاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہر مکلف مسلمان کو ہر روز اس کی ہڈی کے ہر جوڑ کے بدلے میں ایک ایک نفلی صدقہ اس بات کے شکر کے طور پر کرنا ہے کہ اللہ نے اسے عافیت دی اور اس کی ہڈیوں میں جوڑ بنائے، جن کی وجہ سے اعضاے جسم کو سمیٹنا اور پھیلانا ممکن ہو سکا۔ یہ صدقہ تمام طرح کی نیکی کے کاموں سے ادا ہو سکتا ہے۔ مال دینے پر موقوف نہيں ہے۔ مثلا : دو جھگڑ رہے لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اور صلح کرا دینا صدقہ ہے۔ کسی ایسے شخص کو جو سواری پر چڑھ نہ پا رہا ہو، سواری پر چڑھا دینا یا اس کا سامان لاد دینا صدقہ ہے۔ اچھی بات، جیسے ذکر، دعا اور سلام وغیرہ صدقہ ہیں۔ نماز کے لیے جاتے وقت اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ راستے سے کسی تکلیف دہ چيز کو ہٹا دینا صدقہ ہے۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ مشکل اور آسانی میں، چستی وسستی میں اور خود پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اصحاب اقتدار سے تنازع نہیں کریں گے، ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کریں گے۔"
متفق عليهاس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں سے اس بات کا عہد لیا ہے کہ وہ آسان اور مشکل حالت اور مال داری اور غربت میں، حکام کے فرمان ان کو پسند ہوں یا نہ ہوں، یہاں تک کہ حکمراں عوامی دولت اور عہدوں وغیرہ کی تقسیم کے معاملے میں ان پر کسی کو ترجیح ہی کیوں نہ دیتے ہوں، حکمرانوں کی بات مان کر چلیں گے اور ان کے خلاف بغاوت کا پرچم نہيں اٹھائیں گے۔ کیوں کہ ان سے لڑنے کے نتیجے میں جو فتنہ و فساد برپا ہوگا، وہ ان کے ظلم کے نتیجے میں ہونے والے فتنہ و فساد سے زیادہ بڑا ہوگا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے اس بات کا بھی عہد لیا کہ وہ جہاں بھی رہیں گے، اللہ کی رضا جوئی کے لیے حق بات کہیں گے اور کسی کی سرزنش کی پرواہ نہیں کریں گے۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مستقبل میں ایسے حکمراں سامنے آئیں گے، جن کے کچھ کام تمہیں بھلے لگیں گے اور کچھ برے۔ ایسے میں جو ان (کے برے کاموں) کو برا جانے گا، وہ گناہ سے بری رہے گا اور جو ان کے برے کاموں کو برا کہے گا، وہ سلامت رہے گا۔ لیکن جو (ان کے برے کاموں پر) مطمئن رہے گا اور ان کی پیروی کرے گا، (وہ ہلاکت میں پڑے گا۔)" لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا : "نہیں، جب تک کہ وہ نماڑ پڑھتے رہیں۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہماری حکمرانی کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آ جائے گی، جن کے کچھ کام شریعت کے مطابق ہونے کی وجہ سے ہمیں صحیح لگیں گے اور کچھ کام شریعت مخالف ہونے کی وجہ سے ہمیں غلط لگیں گے۔ اس طرح کے حالات میں جو شخص ان کے غلط کاموں کو اپنے دل سے برا جانے گا اور اس حیثیت میں نہیں ہوگا کہ ان کی تردید کر سکے، تو وہ گناہ اور نفاق سے بری مانا جائے گا۔ اس کے برخلاف جس کے پاس ہاتھ سے روکنے یا زبان سے تردید کرنے کی طاقت ہوگی اور وہ اپنی ذمے داری ادا کرے گا، تو وہ گناہ کرنے اور اس میں شریک ہونے سے محفوظ رہے گا۔ لیکن جو ان کے ان برے کاموں سے مطمئن رہے گا اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان گناہوں میں شریک ہوگا، وہ انہی کی طرح ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔ پھر صحابہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کیا ہم اس طرح کے حکمرانوں سے جنگ نہ کریں، تو آپ نے ان کو ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ نہیں، ایسا اس وقت تک نہ کرنا، جب تک وہ تمھارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں۔
ابو موسى اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بندہ جب بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے، تو اس کے لیے ان عبادتوں کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، جنھیں وہ حالتِ اقامت یا صحت میں ادا کیا کرتاتھا“۔
رواه البخارياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے فضل و رحمت کے بارے میں بتاتے ہوئے یہ واضح کر رہے ہیں کہ جب ایک مسلمان کا معمول صحت اور اقامت کی حالت میں کوئی نیک کام کرنے کا رہتا ہے اور اس کے بعد کوئی عذر سامنے آ جاتا ہے، مثلا بیماری کی وجہ سے وہ کام کر نہیں پاتا یا سفر میں نکل جانے کی وجہ سے اس کی گنجائش نہیں رہتی یا اس طرح کا کوئی اور عذر پیش آ جاتا ہے، تو اس کے لیے اتنا ہی اجر وثواب لکھا جاتا ہے، جتنا صحت اور اقامت کی حالت میں اس کام کو کرنے پر لکھا جاتا۔
تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : "دین خیر خواہی کا نام ہے"۔ ہم نے عرض کیا: کس کی خیر خواہی کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم حکمرانوں کی اور عام مسلمانوں کی۔“
رواه مسلماللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ دین اخلاص اور صدق کی بنیادوں پر قائم ہے۔ اس کا پاس و لحاظ اسی طرح رکھنا چاہیے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے واجب کیا ہے۔ کامل طریقے سے‘ اس میں نہ کوتاہی ہو اور نہ دھوکہ۔ چنانچہ اللہ کے نبیﷺ سے پوچھا گیا کہ خیرخواہی کس کی ہونی چاہیے؟ تو آپ نے جواب دیا : 1- اللہ سبحانہ و تعالی تعالی کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسی کی خاطر عبادت کی جائے، کسی کو اس کا ساجھی نہ بنایا جائے، اس کی ربوبیت، الوہیت اور اس کے اسما و صفات پر ایمان رکھا جائے، اس کے حکم کى تعظیم کی جائے اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے۔ 2- اللہ کی کتاب یعنی قرآن پاک کے لیے خیر خواہی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کا کلام مانا جائے، اسے اللہ تعالیٰ کی آخری اور پچھلی تمام شریعتوں کو منسوخ کرنے والی کتاب تسلیم کیا جائے، اس کی کما حقہ تعظیم اور تلاوت کی جائے، اس کی محکم آیتوں پر عمل کیا جائے، اس کی متشابہ آیتوں کو تسلیم کیا جائے، اس کی آیتوں کے غلط مطالب بیان کرنے والوں کی غلط بیانیوں کو سامنے لایا جائے، اس کی موعظتوں سے عبرت حاصل کی جائے، اس کے علوم کو پھیلایا جائے اور اس کی دعوت دی جائے۔ 3- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے آخری رسول ہونے پر یقین رکھا جائے، آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کی تصدیق کی جائے، آپ کے حکموں کی تعمیل کی جائے، آپ کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے، آپ کے بتائے ہوئے طریقے ہی کے مطابق اللہ کی عبادت کی جائے، اس بات کو مانا جائے کہ ہمارے اوپر آپ کا بہت بڑا حق ہے، آپ کی عزت کی جائے، آپ کی دعوت کو عام کیا جائے، آپ کى لائی ہوئی شریعت کو پھیلایا جائے اور آپ پر لگائے جانے والے الزامات کو رد کیا جائے۔ 4- مسلم حکمرانوں کی خیر خواہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق پر ان کی مدد کی جائے، ان سے ٹکرانے سے اجتناب کیا جائے اور نیکی کے کاموں میں ان کی بات سنی اور مانی جائے۔ 5- عام مسلمانوں کی خیر خواہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے، ان کو اچھے کاموں کی دعوت دی جائے، ان کو تکلیف دینے سے گریز کیا جائے، ان کا بھلا ہو اس بات سے محبت رکھی جائے اور نیکی اور تقوی کے کاموں میں ان کے ساتھ باہمی تعاون کا رشتہ رکھا جائے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے اس گھر میں فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے، تو تو بھی اس پر سختی فرما- اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنےِ، پھر ان کے ساتھ نرمی کرے، تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما“۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر اس شخص کے لیے بد دعا کی ہے، جو مسلمانوں کی کوئی ذمے داری ہاتھ میں لے، وہ ذمے داری چھوٹی ہو یا بڑی، عام ہو یا خاص، پھر لوگوں کے ساتھ نرمی بھرا سلوک کرنے کی بجائے ان کو مشقت میں ڈالے۔ اس طرح کے آدمی کے حق میں آپ نے بد دعا یہ کی ہے کہ اللہ اسے بھی مشقت میں ڈالے، تاکہ اسے اسی نوعیت کا بدلہ مل جائے، جس نوعیت کا اس کا عمل رہا ہے۔ جب کہ ذمے داری ملنے کے بعد لوگوں کے ساتھ نرمی بھرا سلوک کرنے والے اور ان کے ساتھ آسانی کرنے والے کے حق میں یہ دعا کی ہے کہ اللہ اس کے ساتھ نرمی بھرا سلوک کرے اور اس کا کام آسان کر دے۔