Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دعا کے دوران دونوں ہاتھوں کو اٹھانے کی ترغیب دے رہے ہيں اور بتا رہے ہیں کہ اللہ بہت زیادہ حیا والا ہے۔ وہ نوازنے سے گریز نہيں کرتا۔ وہ بندے کا دامن خوشیوں سے بھر دیتا ہے اور اسے نقصانات سے بچاتا ہے۔ وہ کریم ہے اور بن مانگے بھی نوازتا ہے۔ تو بھلا مانگنے کے بعد کیسے نہیں دے گا!! اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ جب کوئی مومن بندہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کے ہاتھوں کو خالی ونامراد لوٹا دے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے ذکر سے غفلت برتنے سے خبردار کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں سے اللہ کا ذکر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجے بغیر اٹھ گئے، تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے حق میں حسرت، ندامت، خسارہ اور نقصان کا سامان ہوگی۔ ایسے میں اگر اللہ چاہے گا، تو ان کو ان کے سابقہ گناہوں اور بعد میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں کے پیش نظر عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو اپنے فضل و کرم کی بنا پر معاف کر دے گا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایسی جامع دعائيں پسند فرماتے تھے، جو دنیا وآخرت کی بھلائيوں پر مشتمل ہوں، کم الفاظ میں زیادہ معانی کو سمیٹے ہوئے ہوں، ان کے اندر اللہ کی تعریف اور نیک اغراض ومقاصد ہوں۔ جن دعاؤں کے اندر یہ اوصاف نہ ہوں، ان سے آپ گریز کرتے تھے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوا کو گالی دینے یا اس پر لعنت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ ہوا اپنے خالق کے حکم سے چلتی ہے۔ کبھی رحمت بن کر آتی ہے اور کبھی عذاب بن کر۔ اس کو گالی دینا دراصل اس کے خالق کو گالی دینا اور اس کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرنا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوا کے خالق یعنی اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف رجوع کر کے اس سے ہوا کی خیر، ہوا کے اندر موجود چيزوں کی خیر اور ہوا جن چیزوں کے ساتھ بھیجی گئی ہے، جیسے بارش وغیرہ، ان کی خیر طلب کرنے اور اللہ ہی سے اس کے شر، اس کے اندر موجود چيزوں کے شر اور اسے جن چیزوں کے ساتھ بھیجا گیا ہے، جیسے فصلوں اور پیڑوں کا نقصان، مویشیوں کو ہلاک اور گھروں کو منہدم کرنا وغیرہ، ان کے شر سے پناہ مانگنے کی جانب رہنمائی کی ہے۔ دراصل اللہ سے یہ چیزیں مانگنا بھی اس کی بندگی کو بروئے عمل لانا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کو کسی چيز سے، حتی کہ اللہ کی مشیت سے بھی، معلق کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک یقینی بات ہے کہ اللہ اسی وقت معاف کرے گا، جب وہ معاف کرنا چاہے۔ مشیت کی شرط رکھنا اس لیے بھی بے معنی ہے کہ مشیت کی شرط اس کے بارے میں رکھی جاتی ہے، جس سے مشیت کے بغیر بھی فعل کا صدور ہو سکتا ہو۔ جیسے جبر و اکراہ کے ساتھ فعل کا صدور۔ لیکن اللہ کی ذات تو اس سے پاک ہے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی اس حدیث کے اخیر میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کو کوئی مجبور نہيں کر سکتا۔ کوئی بھی چيز دینا اللہ کے لیے دشوار نہيں ہے اور کچھ بھی اس کے بس سے باہر نہیں ہے۔ نیز یہ کہ مشیت سے معلق کر کے مغفرت طلب کرنا ایک طرح سے اللہ کی مغفرت سے استغنا کا اظہار ہے۔ لہذا 'اگر تو دینا چاہے تو دے' کہنا دراصل یہ بتانا ہے کہ اسے یا تو ضرورت نہیں ہے یا پھر سامنے والا بے بس ہے۔ جہاں سامنے والا قادر ہو اور مانگنے والا حاجت مند ہو، وہاں عزم و یقین کے ساتھ مانگا جاتا ہے۔ اس لیے اللہ سے ایسے مانگنا چاہیے، جیسے ایک فقیر وحاجت مند ایک حاجت روا سے اپنی ضرورت مانگ رہا ہو اور اس سے لو لگا رہا ہو کیوں کہ وہ کامل غنی وبے نیاز اور قادر مطلق ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تین قسم کے لوگوں کے حق میں بد دعا فرمائی ہے کہ وہ اتنے ذلیل ہوں اور خسارے میں پڑیں کہ ان کی ناک خاک آلود ہو جائے: پہلی قسم : ایسے لوگ جن کے سامنے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر آئے اور وہ 'صلی اللہ علیہ و سلم' کہہ کر یا اس طرح کے دوسرے صیغے استعمال کر کے آپ پر درود نہ بھیجیں۔ دوسری قسم : ایسے لوگ جن کے سامنے رمضان المبارک کا مہینہ آیا اور گزر بھی گیا، لیکن وہ نیکی کے کام کر کے اپنی مغفرت کا سامان نہ کر سکے۔ تیسری قسم : ایسا شخص جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور ان کی نافرمانی اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے ان کو دخول جنت کا سبب نہ بنا سکا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب دو مسلمان کسی راستے وغیرہ میں ملتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں مصافحہ کرتے ہوئے، تو دونوں کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہيں۔ یاد رہے کہ یہاں الگ ہونے سے مراد جسمانی طور پر الگ ہونا بھی ہو سکتا ہے اور مصافحہ سے فارغ ہونا بھی۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ تمام بنی آدم کے دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں۔ انھیں وہ جیسے چاہتا ہے پھیرتا ہے۔ اگر چاہے تو حق پر قائم رکھے اور چاہے تو حق سے پھیر دے۔ اس کے لیے تمام دلوں میں تصرف کرنا بس ایک ہی دل میں تصرف کرنے کی طرح ہے۔ ایسا نہيں کہ ایک میں تصرف کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا فرماتے ہوئے کہا: اے اللہ! دلوں کو کبھی نیکی کی طرف، کبھی بدی کی طرف اور کبھی غفلت کی طرف پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا میں تازگی و سرسبزی اور آخرت میں سرسبزی وشادابی اور نعمتوں کے حصول کی دعا ہر اس شخص کے لیے فرمائی ہے، جو آپ کی حدیث سنے، اسے یاد رکھے اور دوسروں کو پہنچا دے۔ کیوں کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ناقل حدیث کے مقابلے میں اس سے اخذ کرنے والا ہی کہیں زیادہ یاد رکھنے والا، سمجھنے والا اور استنباط کی صلاحیت رکھنے والا ہوتا ہے۔ ایسے میں پہلا شخص حفظ ونقل کا کام بہتر انداز سے کرتا ہے اور دوسرا فہم واستنباط کا کام بہتر طریقے سے کرتا ہے۔