





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوزید عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور منبر پر چڑھے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت آگیا آپ ﷺ اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا پھر اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو ہمیں آپﷺ نے ان تمام باتوں کی خبر دی جو پہلے ہوچکی ہیں اور جو آئندہ پیش آنے والی تھیں پس ہم میں سب بڑا عالم وہی ہے جس نے ہم میں سے ان باتوں کو زیادہ یاد رکھا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔صحابیٔ رسول بتارہے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک دن فجر پڑھی اور منبر پر چڑھ کر ظہر کی اذان تک لوگوں کو خطبہ دیا، پھر اتر کر ظہر کی نماز پڑھائی، پھر دوبار منبر پر چڑھے اور عصر کی اذان تک خطبہ دیا، پھر اتر کر عصر پڑھی، پھر منبر پر چڑھ کر سورج غروب ہونے تک خطبہ دیا یعنی ایک دن پورا فجر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک خطبہ دیا۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ماضی اور مستقبل کی غیب کی خبریں بتائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو وہ ساری باتیں بتائیں، صحابہ میں اس دن سب سے زیادہ نبی ﷺ کی کہی باتوں کو جاننے والے وہ تھے جنہوں نے اسے یاد کرکے اپنے ذہن میں راسخ کرلیا۔
زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مرغے کو گالی مت دو، کیونکہ وہ نمازِ فجر کے لیے جگاتا ہے“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔زید بن خالد الجُہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مرغے کو گالی دینے سے منع فرمایا ہے اور اس کی علت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ سوئے ہوئے کو اپنی بانگ سے نماز کے لیے جگاتا ہے۔ اور امام احمد اور امام نسائی کی روایت میں ہے کہ وہ ( مرغ) نماز کے لیے آگاہ کرتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اسے گالی دینے سے منع فرمایا، اس لیے کہ لوگوں کو نماز کے لیے جگانا ایک ظاہری مصلحت ہے کہ وہ نیکی کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے اور جو نیکی میں مدد کرتا ہے وہ تعریف کا حقدار ہوتا ہے مذمت کا نہیں۔ مرغے کی بہت عجیب صفت یہ ہے کہ وہ رات کے اوقات جانتا ہے اور فجر سے پہلے نیز اس کے بعد بانگ دیتا رہتا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے مرغے کی اس طرف رہنمائی فرمائی۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی، انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی، اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھکی (اور اس غار کے منہ کو بند کر دیا جس میں یہ تینوں پناہ لیے ہوئے تھے) اب ایک نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے عمل کا جو تم نے کبھی کیا ہو، نام لے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ اس پر ان میں سے ایک نے یہ دعا کی: اے اللہ ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے تھے، میں باہر لے جا کر اپنے مویشی چَراتا تھا، پھر جب شام کو واپس آتا تو ان کا دودھ نکالتا اور برتن میں پہلے اپنے والدین کو پیش کرتا، جب میرے والدین پی لیتے تو پھر بیوی بچوں اور گھر والوں کو پلاتا، اتفاق سے ایک رات مجھے دیر ہو گئی اور جب میں گھر لوٹا تو والدین سو چکے تھے، اس نے کہا کہ پھر میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں، بچے میرے قدموں میں بھوکے پڑے رو رہے تھے، میں برابر دودھ کا پیالہ لیے والدین کے سامنے اسی طرح کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا، تو ہمارے لیے تو اس چٹان کو ہٹا کر اتنا راستہ بنا دے کہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: چناچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا۔ دوسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے اتنی زیادہ محبت تھی جتنی ایک مرد کو کسی عورت سے ہو سکتی ہے، اس لڑکی نے کہا تم مجھ سے اپنی خواہش اس وقت تک پوری نہیں کر سکتے جب تک مجھے سو اشرفی نہ دے دو، میں نے ان کے حاصل کرنے کی کوشش کی اور آخر اتنی اشرفی جمع کر لی، پھر جب میں اس کی دونوں رانوں کے درمیان بیٹھا، تو وہ بولی: اللہ سے ڈر اور مہر کو ناجائز طریقے پر نہ توڑ، اس پر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا، اب اگر تیرے نزدیک میں نے یہ عمل تیری ہی رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے (نکلنے کا) راستہ بنا دے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: چنانچہ وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا۔ تیسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور ایک ’فرق‘ جوار کے عوض کام پر لگایا جب میں اسے دینے لگا تو اس نے لینے سے انکار کردیا میں نے اس جوار کو لے کر بو دیا، (اس میں اتنی برکت ہوئی کہ) میں نے اس سے ایک بیل اور چرواہا خرید لیا، کچھ عرصہ بعد اس نے آکر مزدوری مانگی کہ اے اللہ کے بندے! مجھے میرا حق دیدے، میں نے کہا: اس بیل اور چرواہے کے پاس جاؤ وہ سب تمھارا ہی ہے، اس نے کہا: مجھ سے مذاق کرتے ہو، میں نے کہا: میں مذاق نہیں کرتا واقعی یہ تمھارے ہی ہیں، اے اللہ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے (اس چٹان کو ہٹا کر) راستہ بنا دے، چناچہ وہ پتھر ان سے ہٹ گیا۔
متفق علیہتین لوگ کہیں جا رہے تھے کہ اچانک انہیں بارش نے گھیر لیا، بارش کی شدت سے بچنے کے لیے وہ ایک غار میں داخل ہوئے، اچانک ایک چٹان گری اور غار کا راستہ بند ہو گیا، انھوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: اپنے کیے ہوئے سب سے افضل عمل کے ذریعہ اللہ سے دعا کرو، امید کہ اللہ کشادگی پیدا کرے اور اس چٹان کو ہٹا دے، تینوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے بوڑھے ماں باپ تھے، میں چراہ گاہ جاکر اپنے اونٹ چرایا کرتا تھا، پھر چراگاہ سے واپس آتا اور اونٹنی کو دوہتا، اپنے ماں باپ کو دودھ پیش کرتا اور وہ اسے پیتے، پھر اپنے چھوٹے بچوں، بیوی اور بھائی بہن وغیرہ کو پلاتا تھا، ایک مرتبہ کسی وجہ سے گھر واپس آنے میں تاخیر ہوگئی، واپس آکر کیا دیکھتا ہوں کہ میرے والدین سو چکے ہیں، پہلے کی طرح میں نے دودھ دوہا اور دونوں کے سرہانے کھڑا ہوگیا، انہیں بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور ان کے پینے سے پہلے اپنی آل اولاد کو بھی پلانا مناسب نہیں سمجھا جب کہ میرے بچے بھوک کی شدت کے سبب میرے پیروں کے پاس رو رہے تھے، میں ایسے ہی مستقل کھڑا رہا یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، وہ دونوں بیدار ہوئے دودھ پیا اور پھر میں نے اپنے بچوں کو پلایا، اےاللہ! اگر تیرے نزدیک میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا، تو ہمارے لیے تو اس چٹان کو تھوڑا سا ہٹا دےتاکہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں، اللہ تعالی نے اس پتھر کو اتنا ہٹا دیا کہ وہ آسمان دیکھ سکیں۔ دوسرے شخص نےکہا: اے اللہ! مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے بڑی شدید محبت تھی، میں نے اسے اپنے لیے بہکانا چاہا وہ مجھے روکتی رہی لیکن (مجبوری میں) سو دینار کے عوض وہ راضی ہو گئی، میں نے سو دینار حاصل کیے اور اسے دے دیا، جب میں اس پر قابض ہو گیا اور اس کے دونوں پیروں کے درمیان بیٹھا تو وہ مجھ سے کہنے لگی: اللہ سے ڈرو اور حرام کا ارتکاب نہ کرو اور ناجائز طریقے سے میری بکارت نہ زائل کرو، چنانچہ میں اس کے دونوں پیروں کے درمیان سے اٹھ گیا اور اسے چھوڑ دیا، اے اللہ! تو جانتا ہے اگر میں نے یہ کام تیری رضا پانے کے لیے کیا ہے تو ہم سے اس چٹان کو دور کردے، چنانچہ اللہ نے اس چٹان کو ہٹا کر دو تہائی راستہ بنا دیا۔ اور تیسرے شخص کہا: اے اللہ! میں نے سولہ رطل جوار کے عوض ایک مزدور اجرت پر رکھا، جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوا تو میں نے اس کو اس کی اجرت دے دی جسے اُس وقت لینے سے اس نے انکار کردیا، میں نے اس جوار کو کھیتی میں لگا دیا اور مسلسل اس سے کھیتی اور خرید وفروخت کرتا رہا یہاں تک کہ اس سےایک گائے اور ایک چرواہا خرید لیا، پھر ایک مدت کے بعد وہ مزدور آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے بندے! مجھے میرا حق دے دے۔ میں نے کہا: اس بیل اور چرواہے کے پاس جاؤ وہ تمھارا ہی ہے سب کو لے جاؤ ، مزدور نے کہا: کیا تم مجھ سے مذاق کرتے ہو؟ میں نے کہا: میں تم سے مذاق نہیں کررہا، واقعی یہ تمھارے ہی ہیں، پس اے اللہ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے اس چٹان کو ہٹا کر راستہ بنا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غار کے باقی راستہ کو کھول دیا اور وہ تینوں باہر آگئے۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ریشم کے سبز ٹکڑے میں ان (عائشہ رضی اللہ عنہا) کی تصویر لے کر نبیﷺ کی خدمت میں آئے اور فرمایا: یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی بیوی ہیں۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔جبریل علیہ السلام خواب میں نبی ﷺ کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ سبز رنگ کے ریشمی کپڑے کے ٹکڑے میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی تصویر تھی۔ یہاں مراد خواب میں آنا ہی ہے؛ حقیقت میں نہیں۔ جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے کہا کہ یہ وہ عورت ہے جو دنیا و آخرت میں آپ کی زوجہ ہوگی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو اپنے اہل وعیال پر مہربان اور شفیق نہیں دیکھا۔ انس رضی اللہ عنہ مزید بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ کے بالائی حصے میں دودھ پلانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ آپ ﷺ وہاں جایا کرتے تھے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہو جاتے جو دھویں سے بھرا ہوتا کیونکہ دایہ کا شوہر لوہار تھا۔ پھر آپ ﷺ اپنے بیٹے کو لے کر اسے چومتے اور واپس لوٹ آتے۔ عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابراہیم میرا بیٹا ہے اور وہ شیرخوارگی کی حالت میں فوت ہوا ہے، اس کے لیے دو دایہ مقرر ہیں جو جنت میں اس کی مدتِ رضاعت کو پورا کر رہی ہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو اپنے اہل و عیال اور چھوٹے بچوں پر رسول اللہ ﷺ سے زیادہ شفیق اور مہربان ہو۔ نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو مدینہ کے قریب آباد ایک بستی کی دایہ دودھ پلایا کرتی تھی۔ نبی ﷺ ابراہیم کی زیارت کے لیے وہاں جایا کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کچھ صحابہ بھی ہوتے۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہوتے تو گھر دھویں سے بھرا ہوتا تھا کیونکہ دایہ کا شوہر لوہار تھا۔ نبی ﷺ ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اٹھاتے، انہیں پیار کرتے اور واپس لوٹ آتے۔جب ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابراہیم میرا بیٹا ہے، وہ شِیرْخوارگی کی حالت میں فوت ہو گیا ہے، جنت میں دو دایہ اس کی مدت رضاعت پورا کرنے کے لیے اسے دودھ پلا رہی ہیں تاکہ دو سال مکمل ہو جائیں۔ کیونکہ ابراہیم رضی اللہ عنہ جب فوت ہوئے تو ان کی عمر سولہ یا سترہ ماہ تھی۔ دو سال میں سے جو مدت باقی رہ گئی اسے پورا کرنے کے لیے وہ دونوں دایہ انہیں دودھ پلا رہی تھیں کیونکہ قرآن کی رو سے مدت رضاعت دو سال ہے۔ یہ ابراہیم رضی اللہ عنہ اور ان کے والد ﷺ کے لیے اللہ کی طرف سے بطورِ اکرام تھا۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے، وہ ابھی تک تیار نہ تھی، تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں، آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور فرمایا: ”قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو“ اسے دو بار یا تین بار فرمایا، ایک روایت میں اتنا اضافہ ہے: ”اور وہ (میت) ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں، اس وقت اس سے پوچھا جاتا ہے: اے فلاں! تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟“ ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ کون ہے جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ سمجھا“ جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے: ”اللہ تعالیٰ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا» سے یہی مراد ہے“ (پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو“ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے، اور تا حد نگاہ اس کے لیے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے“۔ اور رہا کافر تو آپ ﷺ نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے نہیں معلوم، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے نہیں معلوم، تو پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے جہنم کا بچھونا بچھا دو اور جہنم کا لباس پہنا دو، اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا (لو) آنے لگتی ہے اور اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہیں“ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”پھر اس پر ایک اندھا گونگا (فرشتہ) مقرر کر دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہو جائے، چنانچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہو جاتا ہے“ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔براء بن عازب رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے میں نکلے، دفن سے پہلے وہ قبر پر پہنچے۔ آپ ﷺ بیٹھ گئے اور صحابہ بھی آپﷺ کے ارد کے گرد خاموش بیٹھ گئے، آپ ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے وہ باتیں نہیں کرتے تھے، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس کے ذریعے آپ زمین کُرید رہے تھے جیسے ایک مہموم اور فکر مند آدمی کرتا ہے۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا تم اللہ تعالیٰ سے قبر کے عذاب سے بچاؤ اور چھٹکارا مانگو، آپ نے یہ دو یا تین مرتبہ فرمایا، پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ مُردہ جنازا خوان کی قدموں کی آہٹ سنتا ہے جب وہ واپس لوٹتے ہیں۔ اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھا دیتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے اللہ میرا رب ہے۔ فرشتے کہتے ہیں تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے۔ فرشتے کہتے ہیں یہ شخص کون ہے جسے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے؟ وہ کہتا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں، فرشتے کہتے ہیں تم اس کے بارے میں کیسے جانتے ہو؟ وہ کہتا ہے میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، تو میں اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔ مُردے کی زبان پر اس جواب کا جاری ہونا وہ ثابت قدمی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بیان فرمایا: ﴿يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ ”ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی“۔ (سورہ ابراهيم: 27) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے کہ میرے بندے نے جو کہا سچ کہا۔ یہ دنیا میں اسی عقیدے پر قائم تھا، چنانچہ وہ اکرام کا مستحق ہے۔ اس کے لئے جنت کا فرش بنا لو، جنتیوں کا لباس پہنا دو اور جنت کا دروازہ اس کے لئے کھول دو، سو جنت کا دروازہ اس کے لئے کھول دیا جائے گا جس سے ہوا اور پاکیزہ خوشبو آئے گی۔ اس کے لئے قبر تاحدِ نگاہ وسیع کردی جائے گی۔ جہاں تک کافر کا تعلق ہے تو آپ ﷺ نے اس کی موت کی حالت، اس کی سختی اور دفن کے بعد جسم میں اس کی روح کا لوٹنا بیان کیا ہے، دو فرشتے آ کر اسے بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں تمہارا رب کون ہے؟ وہ حیران ہو کر کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، فرشتے کہتے ہیں تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، فرشتے کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو جس کو تمہاری طرف بھیجا گیا آیا وہ نبی ہے یا نہیں؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے کہ کافر نے جھوٹ بولا، یہ اس کے ایمان نہ لانے اور اس سے انکار کرنے کی وجہ سے ہے۔ اس لئے کہ اللہ کا دین اور محمد ﷺ کی نبوت زمین کے مشرق و مغرب میں ظاہر اور غالب تھی۔ اس کے لئے جہنم کا فرش بچھا دو، اسے آگ کا لباس پہننا دو، اس کے لئے جہنم کا دروازہ کھول دو، جہاں سے اسے آگ کی گرمی پہنچے گی اور اس کی قبر اس پر اتنی تنگ ہوجائے گی کہ اس کی پسلیاں آپس میں گھس جائیں گی اوروہ اپنی اصل ہیئت جس پر وہ تھی ختم ہوجائے گی، پھر اس پر ایک اندھا اور گونگا فرشتہ مسلط کیا جائے گا، اس کے پاس لوہے کا ایک بڑا ہتھوڑا ہوگا، اگر اس کو پہاڑ پر مارا جائے تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائے، اس کے ساتھ ایک ضرب مارے گا جسے مشرق و مغرب کے درمیان جنات و انسانوں کے سوا ہر چیز سنے گی، وہ مٹی مٹی ہو جائے گا، پھر اس میں روح دوبارہ لوٹائے جائے گی تاکہ وہ عذاب چھکے گا اور قبر میں اسے مسلسل عذاب ہوتے رہے گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے تو ”الحمد اللہ“ کہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی ”يَرْحَمُكَ الله“ کہے۔ جب ساتھی ”يَرْحَمُكَ اللہ“ کہے، تو اس کے جواب میں چھینکنے والا ”يَهْدِيكُم الله ويُصْلِحُ بَالَكُم“ (اللہ تمھیں ہدایت دے اور تمھارے حالات درست فرمادے) کہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب کوئی مسلمان چھینکے، تو اللہ تعالیٰ کی حمد و تعریف بیان کرے؛ کیوں کہ چھینکنے والا چھینک کے ذریعے اپنے دماغ میں موجود گندے بخارات کے نکلنے کی نعمت و منفعت کو حاصل کرتا ہے کہ اگر وہ دماغ میں موجود رہتے، تو اس سے بہتیری تکلیف دہ بیماریاں پیدا ہوتیں۔ اس لیے اس نعمت کے حصول پر اس کے لیے مشروع ہے کہ وہ اللہ کی تعریف و حمد بیان کرے۔ پھر اس کا سننے والا ”يَرْحَمُكَ الله“ کہہ کر اسے دعا دے۔ اور چھینکنے والا ”يَهْدِيكُم الله ويُصْلِحُ بَالَكُم“ کہہ کر اس کا جواب دے۔ اس طرح چھینک کے ذریعے چھینکنے والے اور سننے والے کو فائدہ حاصل ہوتا ہے اور یہ لوگوں پر اس دین کے عظیم فضل و مہربانی کی وجہ سے ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے اللہ تعالی نے اس کے دونوں جبڑوں کے مابین موجود شے اور اس کے دونوں پاؤں کے مابین موجود شے کے شر سے بچا لیا وہ جنت میں داخل ہو گیا“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔جسے اللہ نے ایسے گناہ سے محفوظ رکھا ہے جس سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے اور اسے زنا کرنے سے بھی بچائے رکھا۔ (سمجھو) وہ نجات پا گیا اور جنت میں داخل ہو گیا۔
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فتنوں کے زمانے میں عبادت کرنا ایسے ہے، جیسے میری طرف ہجرت کرنا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: فتنوں کی کثرت کے دور میں اور اس وقت میں جب معاملات گڈ مڈ ہوجائیں اور لڑائی جھگڑا ہو رہا ہو، عبادت کی پابندی کرنے والے شخص کی فضیلت ایسے ہے جیسے اس شخص کی فضیلت جس نے فتح مکہ سے پہلے نبی ﷺ کی طرف ہجرت کی۔کیونکہ اس کا عمل اسی کی طرح ہوتا ہے بایں طور کہ مہاجر شخص اپنے دین کو اس شخص سے بچاتے ہوئے بھاگ اٹھتا ہے جو اسے دین سے روکتا ہے تاکہ وہ نبی ﷺ کو تھام لے۔ اسی طرح اللہ کی عبادت میں مشغول رہنے والا لوگوں سے کنارہ کش ہو کر اپنے رب کی عبادت کی آغوش میں پناہ لیتا ہے۔ ایسا شخص درحقیقت اللہ کی ساری مخلوق سے راہ فرار اختیار کر کے اللہ کی طرف ہجرت کر جاتا ہے۔