





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو خُبیب عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جنگ جمل کے موقع پر جب زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا۔ میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے کہا بیٹے! آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے۔ کیا تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ رہے گا؟ پھر انہوں نے کہا: بیٹے! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے میرا قرض ادا کر دینا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی وصیت کی اور اس تہائی کے تیسرے حصے کی وصیت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بچوں کے لیے کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے مال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کے تہائی کا تیسرا حصہ تمہارے بچوں کے لیے ہو گا۔ہشام راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعض لڑکے زبیر رضی اللہ عنہ کے لڑکوں کے ہم عمر تھے۔ جیسے خبیب اور عباد۔ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے اس وقت نو لڑکے اور نو لڑکیاں تھیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر زبیر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے قرض کے سلسلے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ بیٹا! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو میرے مولا سے اس کی ادائیگی میں مدد چاہنا۔ عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں ان کی بات نہ سمجھ سکا (کیونکہ مولا کا لفظ ذومعنی ہے) میں نے پوچھا کہ ابا جان! آپ کے مولا کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ! عبداللہ رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ اللہ کی قسم! ان کا قرض ادا کرنے میں جب بھی دشواری پیش آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی کہ اے زبیر کے مولا! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے اور اللہ قرض کی ادائیگی کی صورت پیدا فرما دیتا۔ چنانچہ جب زبیر رضی اللہ عنہ (اسی موقع پر) شہید ہو گئے تو انہوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ اراضی کی صورت میں تھا اور اسی میں غابہ (جنگل) کی زمین بھی شامل تھی اس کے علاوہ گیارہ مکانات مدینہ میں تھے، دو مکان بصرہ میں تھے‘ ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا سارا قرض ہو گیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے کہ میں امانت نہیں رکھ سکتا البتہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمے بطور قرض رہے (نہ کہ بطور امانت کیونکہ امانت کی ضمان نہیں ہوتی)۔ اس لیے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ ضائع نہ ہو جائے۔ زبیر رضی اللہ عنہ کسی علاقے کے امیر کبھی نہیں بنے تھے۔ نہ ہی وہ ٹیکس اور خراج وصول کرنے پر کبھی ان کا تقرر ہوا اور نہ کبھی کوئی دوسرا عہدہ ان کے پاس رہا تھا۔ البتہ انہوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ اور ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ جہاد میں ضرور شرکت کی تھی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب میں نے اس رقم کا حساب کیا جو ان پر قرض تھی تو یہ بائیس لاکھ بنی۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ملے تو دریافت کیا: بیٹے! میرے (دینی) بھائی پر کتنا قرض ہے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے چھپانا چاہا اور کہہ دیا کہ ایک لاکھ۔ اس پر حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں تو نہیں سمجھتاکہ تمہارے پاس موجود سرمایہ سے یہ قرض ادا ہو سکے گا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ اگر قرض بائیس لاکھ ہو تو پھر آپ کی کیا رائے ہو گی؟ انہوں نے فرمایا پھر تو یہ اسے ادا کرنا تمہاری برداشت سے بھی باہر ہے۔ خیر اگر کوئی دشواری پیش آئے تو مجھ سے مدد طلب کرنا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے غابہ کی جائیداد ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی لیکن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وہ سولہ لاکھ میں بیچی۔ پھر انہوں نے اعلان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ پر جس کا قرض ہو وہ غابہ میں آ کر ہم سے مل لے۔ چنانچہ عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے جن کا زبیر رضی اللہ عنہ پر چار لاکھ روپیہ قرض تھا۔ انہوں نے تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو پیش کش کی کہ اگر تم چاہو تو میں یہ قرض چھوڑ سکتا ہوں۔ لیکن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میرے قرض کو تم آخر میں دے دینا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس پر بھی یہی کہا کہ تاخیر کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ آخر انہوں نے کہا کہ پھر اس زمین میں میرے حصے کا قطعہ مقرر کر دو۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ یہاں سے یہاں تک لے لیجئے۔ (راوی کا ) بیان ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس جائیداد کو فروخت کر کے زبیر رضی اللہ عنہ کا سارا قرض ادا کر دیا۔ اور اس میں سے ساڑھ چار حصے پھر بھی بچ رہے۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں (شام) تشریف لے گئے۔ وہاں ان کے پاس عمرو بن عثمان ‘ منذر بن زبیر اور ابن زمعہ بھی موجود تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کہ غابہ کی جائیداد کی قیمت کتنی لگی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ ہر حصے کی قیمت ایک لاکھ مقرر ہوئی تھی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ اب باقی کتنے حصے رہ گئے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ساڑھے چار حصے۔ اس پر منذر بن زبیر نے کہا کہ میں ایک حصہ ایک لاکھ میں لیتا ہوں۔ عمرو بن عثمان نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ کے عوض میں لیتا ہوں۔ ابن زمعہ نے کہا کہ ایک لاکھ میں ایک حصہ میں بھی لیتا ہوں۔ اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اب کتنے حصے باقی بچے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ حصہ! معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر اسے میں ڈیڑھ لاکھ میں لے لیتا ہوں۔ راوی کا بیان ہے کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنا حصہ بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھ لاکھ میں بیچ دیا۔ پھر جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما قرض کی ادائیگی کر کے فارغ ہو چکے تو زبیر رضی اللہ عنہ کی اولاد نے کہا کہ اب ہماری میراث ہم میں تقسیم کر دیجیے۔ لیکن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: اللہ کی قسم! میں تب تک تمہارے مابین میراث تقسیم نہیں کروں گا جب تک چار سال تک ایامِ حج میں اعلان نہ کرا لوں کہ جس شخص کا بھی زبیر رضی اللہ عنہ پر قرض ہو وہ ہمارے پاس آئے، ہم اس کا قرض ادا کریں گے۔ چنانچہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اب ہر سال ایام حج میں اس کا اعلان کرانا شروع کیا اور جب چار سال گزر گئے تو انہوں نے ان کے مابین میراث تقسیم کر دی اور تہائی حصہ ادا کردیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ کی چار بیویاں تھیں جن میں سے ہر بیوی کے حصے میں بارہ لاکھ کی رقم آئی اور زبیر رضی اللہ عنہ کی کل جائیداد پانچ کروڑ دو لاکھ مالیت کی ہوئی۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔جنگ جمل کے موقع پر جو کہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے کے معاملے پر ہوئی تھی، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: "میں سمجھتا ہوں کہ میں مظلوم شہید کر دیا جاؤں گا۔ مجھے جس چیز کی پرواہ ہے وہ میرے قرض ہیں جو میرے اوپر چڑھے ہوئےہیں، لھٰذا تم انھیں میری طرف سے ادا کر دینا۔" زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے قرض اتنے زیادہ تھے کہ وہ ان کے سارے مال کو محیط تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے بیٹے کے بچوں (پوتوں) کے لیے وصیت کی۔ اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ وراثت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ ان کا بیٹا زندہ ہے۔ اس لیے انہوں نے تہائی مال کی وصیت کا ایک تہائی حصہ ان کے لئے مختص کر دیا جو سارے مال کا نواں حصہ بنتا ہے۔ لوگ اپنا مال ان کے پاس بطور امانت رکھنے کے لیے آتے، تو وہ اس اندیشے کے تحت بطور امانت اسے لینے سے انکار کر دیتے کہ کہیں وہ ضائع نہ ہو جائے اور فرماتے: "یہ امانت نہیں بلکہ مجھ پر قرض ہے۔" زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ایک زاہد و امانت دار شخص تھے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی حکومتی عہدہ یا کسی بھی شے کی ذمے داری نہیں اٹھائی تھی۔ جب ان کی وفات ہو گئی اور ان کے بیٹے نے ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کر دیا اور ان کا کچھ مال بچ بھی گیا تو ورثاء نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ باقی ماندہ کو ان کے مابین تقسیم کر دیں۔ لیکن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ کہتے ہوئے اسے تقسیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ ایام حج میں اعلان کرانے کے بعد ہی اسے تقسیم کریں گے۔ اگر یہ بالکل واضح ہو گیا کہ کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہا جس کا ان کے والد پر قرض ہو تو وہ اسے ان میں تقسیم کر دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ جب سارا قرض ادا کر چکے تو آٹھواں حصہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی بیویوں کو دے دیا جو ترکے میں ان کا حصہ بنتا تھا۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی اس وقت چار بیویاں تھیں۔
ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ لوگ جب سفر میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو مختلف گروہوں اور وادیوں میں بکھر جاتے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارا ان گروہوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے“۔ اس کے بعد جب بھی پڑاؤ ڈالتے تو سب ایک دوسرے سے مل جل کر اکٹھے رہتے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔لوگ جب سفر میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو مختلف گروہوں اور وادیوں میں بکھر جاتے ۔ تو نبئ کریم ﷺ نے انھیں بتلایا کہ ان کا یوں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، کہ وہ اللہ کے دوستوں کو ڈرائے اور اس کے دشمنوں کو بھڑکائے پھر اس کے بعد وہ جب بھی کہیں پڑاؤ ڈالتے تو سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر اکٹھے رہتے، یہاں تک کہ اگر ان پر چادر ڈال دی جائے تو ان کی شدید قربت کی بناء پر چادر بھی کشادہ ہو جائے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مالدار شخص كا (قرض كی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور اگر تم میں سے کسی کو (قرض کی وصولی کے لیے) کسی مالدار شخص کی طرف منتقل کر دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس منتقلی کو قبول کر لے“۔
متفق علیہاس حدیث شریف میں اچھے انداز سے باہمی معاملہ کرنے کے آداب میں سے ایک ادب کی تعلیم دی گئی ہے۔ نبی ﷺ قرض دار کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی کرے اور قرض خواہ کو تلقین فرما رہے ہیں کہ وہ اچھے انداز میں قرض کا مطالبہ کرے۔ نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ قرض خواہ جب قرض کا مطالبہ کرے یا پھر اشارے کنائے یا قرینہ سے معلوم ہو کہ وہ قرض کی ادائیگی چاہ رہا ہے تو اس صورت میں اس مالدار شخص کا ٹال مٹول کرنا جو قرض کی ادائیگی کی قدرت رکھتا ہے سرا سر اس قرض خواہ کے ساتھ ظلم ہے اور بلا عذر اس کی حق کی ادائیگی میں آڑے آنا ہے۔ یہ ظلم اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب قرض دار، اپنے قرض خواہ کو کسی ایسے مال دار آدمی کی طرف منتقل کر دے جس سے اپنا حق وصول کرنا اس کے لیے آسان ہو۔ اس صورت میں قرض خواہ کو چاہیے کہ وہ اس منتقلی کو قبول کر لے۔ یہ اس کی طرف سے حسن تقاضا ہے اور اس میں قرض کی ادائیگی میں بھی آسانی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے وہ ظلم بھی دور ہو رہا ہے جو ٹال مٹول کرنے والے قرض دار کے ذمہ قرض باقی رہنے کی وجہ سے ہوتا۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یمن والے آئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں‘‘، اور یہی وہ لوگ ہیں جو پہلے پہل مصافحہ کرنے کا طریقہ لائے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔آپ ﷺ کا فرمان: ”تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں“ یہ اہلِ یمن کی شان کو بلند کرنا اور ان کی فضیلت کو ظاہر کرنا ہے۔ انہی میں سے اشعری لوگ بھی ہیں جو کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے قبیلہ کے لوگ ہیں۔ اس فضیلت کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جسے امام احمد نے اپنی مسند (3/155) میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کل تمہارے پاس ایسے لوگ آئیں گے جن کے دل اسلام کے لیے تم سے زیادہ نرم ہوں گے“۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چنانچہ اشعری لوگ آئے، ان میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب وہ لوگ مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے: غداً نلقى الأحبه ...محمداً وحزبه یعنی کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔ جب یہ لوگ آئے تو انہوں نے مصافحہ کیا۔ چنانچہ یہی وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے مصافحہ کا رواج ڈالا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”انسان کانوں کی طرح ہیں جیسے سونا اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں، جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں۔ روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ الگ الگ تھے۔ پھر وہاں جن روحوں میں آپس میں پہچان تھی، ان میں یہاں بھی محبت ہوتی ہے اور جو وہاں غیر تھیں یہاں بھی وہ ایک دوسرے ناآشنا رہتی ہیں“۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم انسانوں کو کان کی طرح پاؤ گے، جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں۔ اور تم حکومت اور سرداری کے لائق اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو، اور آدمیوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دورخہ (دوغلا) ہو، جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہے اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہے“۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔رسول اللہ ﷺ کا لوگوں کو معادن (کانوں) سے تشبیہ دینے میں کئی دلالتوں کی طرف اشارہ موجود ہے، جن میں سے کچھ یہ ہیں کہ لوگوں کی طبیعتیں اور ان کی اخلاقی اور نفسیاتی خوبیاں مختلف قسم کی ہوتی ہیں اور اس بات کو کانوں (معادن) کے فرق سے سمجھا جاسکتا ہے نیز یہاں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اصلاح و درستگی کو قبول کرنے میں لوگوں کے مابین فرق پایا جاتا ہے، چنانچہ بعض لوگ آسانی سے اصلاحی باتوں کو قبول کرلیتے ہیں جب کہ بعض کے تئیں صبر و تحمل کی ضرورت پیش آتی ہے اور بعض میں تو اصلاح کو قبول کرنے کا مادہ ہی نہیں ہوتا اور یہی حال کانوں کا ہوتا ہے، کانوں سے تشبیہ دینے میں اس پہلو پر بھی توجہ دلائی جارہی ہے کہ لوگ، اپنے نسب کے اشرف و افضل ہونے اور اس کے گھٹیا ہونے کے اعتبار سے بھی مختلف ہوتے ہیں اور یہ بات معادن کی نفاست و عمدگی کے فرق سے سمجھی جاسکتی ہے، چنانچہ بعض سونا اور چاندی جیسے قیمتی نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور بعض لوہا اور قلعی شدہ ٹین جیسے معمولی قیمت رکھتے ہیں۔ معادن سے تشبیہ دینے میں اس پہلو پرتوجہ مبذول کی جارہی ہے کہ معادن کی طرح لوگوں میں کسی امر کو اپنانے کی قوت بھی جداگانہ ہوتی ہے، پس عرب کے معادن سے مُراد ان کی اصل اور ان کےحسب و نسب ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان: ”جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں“ یعنی زمانۂ جاہلیت میں حسب و نسب، خاندان اور اصل کے نقطہ نظر سے سب سے زیادہ قابلِ عزت لوگ ہی بہتر اور اچھی صفات کے مالک ہیں بشرطیکہ وہ دین میں بھی خوب سمجھ بوجھ حاصل کریں، جیسے خاندانِ بنی ہاشم ، نسب اور اصل کے اعتبار سے زمانہ جاہلیت میں قریش کا سب سے زیادہ بہترین قبیلہ رہا جیسا کہ صحیح حدیث کی نص اس بات پر دلالت کرتی ہے، اسی طرح وہ اسلام میں بھی بدستور سب سے بہترین رہیں گے بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کا تفقہ حاصل کریں اور اس دین کا علم حاصل کریں، اگر اُن میں دین کی سمجھ نہ ہو تو بہترین عربی النسل ہونے کے باوجود، اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی مکرم مخلوق کا درجہ نہیں پاسکتے اور نہ ہی بہترین مخلوق ہوسکتے ہیں۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان، اپنے نسب کی بنیاد پر اشرف و افضل اسی شرط پر ہوتا ہے کہ اس کو دین کی سوجھ بوچھ حاصل ہو، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نسب کی بڑی تاثیر ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ نسب کے اعتبار سے بنوہاشم لوگوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ اور شرف والی قوم تھی اور انھیں میں سے ساری مخلوق میں اشرف و افضل ذات گرامی، رسول اللہ ﷺ ﴿اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ﴾ ”اس موقع کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وه اپنی پیغمبری رکھے؟“ کی پیدائش ہوئی، اگر آدم علیہ السلام کی اولاد میں یہ قبیلہ سب سے زیادہ شرف کا حامل نہ ہوتا تو اس سے نبی ﷺ نہیں آتے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی بعثت، انتہائی شریف قبیلے اور اعلی ترین نسب ہی میں ہوئی۔ حدیث کے اس خلاصہ میں دونوں حدیثیں برابر کی شریک ہیں۔ پہلی حدیث کا اختتام آپ ﷺ کے فرمان: ”اور روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ الگ الگ تھے۔ پھر وہاں جن روحوں میں آپس میں پہچان تھی، ان میں یہاں بھی محبت ہوتی ہے اور جو وہاں غیر تھیں، یہاں بھی وہ ایک دوسرے سے ناآشنا رہتی ہیں“ پر ہوتا ہے، اور احتمال ہے کہ اس میں یہ اشارہ ہوکہ لوگوں میں خیر و شر والی مختلف اشکال ہوتی ہيں ۔ لہذا بہترین قسم کے لوگ، اپنے جیسے بھلے لوگوں کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور شریر و اوباش قسم کے لوگ، اپنی ہی طرح کے شریر لوگوں کی طرف میلان رکھتے ہیں تو روحوں کی باہمی پہچان، خیر یا شر کے مطابق پیدا کردہ جبلی و فطری تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے اور جب ان فطری تقاضوں میں اتفاق قائم ہو تو وہ ایک دوسرے سے متعارف ہوجاتے ہیں اور اگر ان کے فطری تقاضے مختلف ہوئے تو وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوجاتے ہیں۔ اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ عالم غیب میں ہوئے ابتدائے آفرینش کے تئیں خبر ہو، کہ روحوں کو جسموں سے قبل پیدا کردیا گیا اور وہ ایک دوسرے سے ملتی جلتی رہیں اور جب انھیں اجسام میں ڈالا گیا تو اس پہلے تعارف کی بناء پر ان کے مابین تعارف ہوا اور عالم غیب کے اس گزرے ہوئے زمانہ کے مطابق، ان کے مابین ایک دوسرے کی پہچان اور علیحدگی قائم ہوئی اور اس طرح اچھے لوگ، اچھے افراد کی جانب اور برے، بروں کی جانب مائل ہوئے۔ ابن عبدالسلام کہتے ہیں کہ باہمی پہچان اور اختلاف سے مراد، لوگ اپنی صفات میں ایک دوسرے کی قربت یا تفاوت ہے کیونکہ اگر کسی شخص کی صفات، تم سے میل نہ کھاتی ہوں تو تم اس شخص سے نفرت کا معاملہ کروگے اور کسی انجان شخص سے عدمِ شناسائی کی بنا پر نفرت و ناپسندیدگی کے ساتھ پیش آیا جاتا ہے اور اس کا تعلق تشبیہِ مجازی سے ہے کہ جس میں ناپسندیدہ شخص کو ناشناسا شخص سے اور مانوس شخص کو ایک معروف و شناسا شخص سے تشبیہ دی گئی۔ دوسری حدیث کا اختتام، رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر ہوتا ہے کہ ”اور حکومت اور سرداری کے لائق اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو، اور آدمیوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دورخہ (دوغلا) ہو؛ جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہو اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہو“، چنانچہ آپ ﷺ کے قول: (اس معاملے میں تم لوگوں میں سب سے بہتر پاؤگے ) یعنی خلافت اور سرداری میں مطلب احکام کی باہمی تعمیل میں سرگرداں رہنے والے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو سرداری کے لالچی و حریص نہیں ہوتے اور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں اگر اختیار و اقتدار آجائے تو انہیں راست روی کی رہنمائی اور اصلاحِ قوم کی توفیق میسر ہوتی ہے، جب کہ امارت و سرداری کی حرص و طمع رکھنے والے کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ بُرے لوگ دو رخے و دوغلے ہوتے ہیں، جیسا کہ منافقین کا ایسا ہی طرز عمل ہوتا ہے، قرآن کہتا ہے ہے: ﴿وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ﴾ ”اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ان سے صرف مذاق کرتے ہیں“۔ اور بیشتر افراد میں اس قسم کی بری عادات پائی جاتی ہیں، ایسےکردار سےاللہ تعالیٰ کی پناہ! کیوں کہ اس کا نفاق کے ایک شعبہ سے تعلق ہے۔ آپ ایسے شخص کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کے پاس آکر چاپلوسی کرتا ہے اور آپ کی تعریفیں کرتا ہے اور بسااوقات اس تعریف میں مبالغہ آرائی سے بھی کام لیتا ہے، لیکن جب آپ کے پیٹھ پیچھے ہوتا ہے تو آپ کی کردار کشی کرتا ہے، آپ کی مذمت کرتا ہے، آپ کو گالی گلوچ دیتا ہے اورآپ کے بارے میں ایسی ایسی باتیں بیان کرتا ہے جو آپ میں نہیں ہوتیں۔ ایسے کردار سے اللہ تعالیٰ کی پناہ! یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے کیوں کہ نبی ﷺ نے اس کردار کے حامل کو لوگوں میں سب سے بدترانسان قرار دیا۔
انس بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مجوس کے چند افراد کے پاس (بیٹھا ہوا) تھا کہ اسی دوران چاندی کے ایک برتن میں فالودہ لایا گیا، تو آپ نے اسے تناول نہیں فرمایا، ان سے کہا گیا: اسے دوسرے برتن میں ڈلوا لیں، چناں چہ انہوں نے اسے لکڑی کے برتن میں ڈلوایا اور پھر آپ کے پاس لایا گیا اور آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ مجوس کی ایک جماعت کے پاس تھے اسی دوران ان کے لئے چاندی کے ایک برتن میں ایک قسم کا حلوہ لایا گیا جس کا نام فالودہ ہے انہوں نے اسے تناول نہیں فرمایا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اسے بدل کر لکڑی کے برتن میں اسے پیش کیا تو آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا۔
سائب بن یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ غزوۂ تبوک سے واپس آئے، تو لوگوں نے آپ ﷺ کا استقبال کیا۔ میں نے بھی بچوں کے ساتھ ثنية الوداع پر آپ ﷺ سے ملاقات کی۔ ایک دوسری روایت میں ہے: ”ہم آپ ﷺ سے ملاقات کرنے بچوں کے ساتھ ثنية الوداع گئے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔سائب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ ﷺ صحابۂ کرام کے ساتھ غزوۂ تبوک سے واپس آ رہے تھے، لوگ ان کے استقبال کے لیے ثنية الوداع تک گئے۔ یہ مدینے کے قریب ایک جگہ ہے۔ مقصد تھا آنے والوں سے محبت کا اظہار، ان کی دل دہی اور جنگ میں شریک نہ ہونے والوں کی ترغیب۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: میرے والد (کی لاش) کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اس حال میں کہ ان کا مثلہ کردیا گیا تھا۔ انہیں آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا گیا۔ میں نے ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانا چاہا تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے منع کردیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ابھی تک فرشتے ان پر اپنے پروں سے سایہ کئے ہوئے ہیں“۔
متفق علیہجابر رضی اللہ عنہ کے والد یعنی عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری جابر بن عبداللہ - رضی اللہ عنہما - (کی لاش) کو جنگ احد کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا۔ کفار نے مسلمانوں کے مقتولین کے جسموں کو بگاڑ کر ان کا مثلہ کر دیا تھا۔ انہیں آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا گیا۔ کفار نے ان کا جو مثلہ کیا تھا اس پر دکھی ہو کر جابر رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ وہ ان کے چہرے سے کپڑا ہٹائیں لیکن ان کی قوم والوں نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ نبی ﷺ نے اس موقع پر فرمایا: فرشتوں نے ان کی تعظیم و تکریم میں ابھی تک ان پر اپنے پروں سے سایہ کر رکھا ہے۔
معرور بن سوید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے بدن پر بھی ایک جوڑا تھا اور ان کے غلام کے بدن پر بھی اسی قسم کا ایک جوڑا تھا۔ ہم نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ عہد رسالت میں ایک دفعہ میری ایک صاحب سے کچھ گالی گلوچ ہو گئی تھی، چنانچہ انہوں نے ان کی ماں کی طرف سے عار دلائی۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دے رکھا ہے۔ اس لیے جس کا بھی کوئی بھائی اس کے قبضہ میں ہو اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ لیکن اگر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالو تو پھر ان کی خود مدد بھی کر دیا کرو“۔
متفق علیہاس حدیث میں غلاموں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے پر زور دیا گیا ہے خاص کر ان کے لباس اور کھانے کے معاملے میں اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان کو ان کی طاقت سے زیادہ انہیں مکلف نہ بنایا جائے، تاہم سونپ بھی دیا تو اس کام میں ان کی مدد کرے۔ اور اس حدیث میں اس شخص کے لیے سخت وعید ہے جو دوسرے کو عار دلائے اور ان کو حقیر جانے، اس لیے کہ وہ ہمارے دینی بھائی ہیں۔