





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے، تو اسے دہرا ثواب ملے گا“۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو غلام اپنے رب کی عبادت احسن طریق سے بجا لائے اور اپنے آقا کے جو اس پر خیر خواہی اور فرماں برداری کے حقوق ہیں، انھیں ادا کرتا رہے، اسے دوگنا ثواب ملتا ہے“۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔غلام جب اپنے آقا کی خدمت، معروف میں فرماں برداری اور اس کے لیے خیر خواہی کے واجب حقوق ادا کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے؛ بایں طور کہ اس کے فرائض کی پابندی اور اس کے منہیات سے اجتناب کرتا رہے، تو اس کے لیے قیامت کے دن دوہرا اجر ہے؛ کیوں کہ وہ دو چیزوں کا مکلف ہے: اوّل: مالک کا حق، جب وہ مالک کا حق ادا کرے، تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ دوم: اپنے رب کی اطاعت کا اجر، پس جب غلام اپنے رب کی اطاعت کرے، تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔
عمر بن تغلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال یا قیدی لائے گئے، جسے آپ نے تقسیم کردیا۔ کچھ لوگوں کو آپ نے ان میں سے دیا اور کچھ کو نہیں دیا ۔ پھرآپ ﷺ تک یہ بات پہنچی کہ آپ ﷺ نے جن کو نہیں دیا، انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: اما بعد، اللہ کی قسم ! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کو چھوڑ دیتا ہوں۔ جب کہ جسے میں چھوڑ دیتا ہوں وہ مجھے اس شخص سے زیادہ محبوب ہوتاہے، جسے میں دیتا ہوں ۔میں کچھ لوگوں کے دلوں میں جو بے صبری پاتا ہوں، اس کی وجہ سے انہیں دیتاہوں اور کچھ لوگوں کو اس بے نیازی اور بھلائی کے سپرد کردیتا ہوں، جو اللہ نے ان کے دلوں میں رکھی ہے۔ عمرو بن تَغلِب انہی لوگوں میں سے ہیں۔ عمرو بن تَغلِب کہتے ہیں کہ : اللہ کی قسم! مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اس بات کے بدلے میں مجھے سرخ اونٹ مل جائیں۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال یا قیدی لائے گئے۔ "سبی" سے مراد دشمن کے وہ قیدی ہیں، جنہیں جنگ میں گرفتار کرکے غلام باندی بنا لیا جاتاہے۔ آپ ﷺ نے انہیں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہیں دیا؛ یعنی کچھ لوگوں کو ان کی تالیف قلب کے لیے دیا اور کچھ لوگوں کو اللہ تعالی نے جو قوت ایمانی اور یقین عطا کیا تھا، اس پر اعتماد کرتے ہوئے دیے بغیر ہی چھوڑ دیا۔ پھرآپ ﷺ تک یہ بات پہنچی کہ جن کو آپ ﷺ نے نہیں دیا تھا، انھوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ یعنی انھوں نے آپس میں آپ ﷺ کے اس عمل پرکچھ ناگواری کے انداز میں باتیں کیں، یہ گمان کرتے ہوئے کہ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو ان کے کسی خاص دینی امتیاز کی وجہ سے دیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے انھیں جمع کرکے خطبہ دیا۔ اللہ تعالی کے شایان شان حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کودیے بغیرہی چھوڑ دیتاہوں۔ جسے میں دیے بغیر چھوڑ دیتا ہوں، وہ مجھے اس شخص سے زیادہ محبوب ہے، جسے میں دیتاہوں“۔ یہ مراد نہیں کہ جب بعض لوگوں کو دوں اور بعض کو نہ دوں، تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ میں دوسروں کے مقابلے میں، ان سے محبت کرتا ہوں۔ بلکہ جن کو میں دیے بغیر چھوڑ دیتاہوں، وہ مجھے ان لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں، جنھیں میں دیتا ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے بعض کودینے اور بعض کو نہ دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں بعض لوگوں کو ان کے دلوں میں پائی جانے والی بےصبری اور پریشانی کی وجہ سے دیتا ہوں، جو انہیں اس وقت لاحق ہوتی ہے، جب انھیں مال غنیمت میں سے حصہ نہ دیا جائے۔ چنانچہ میں ان کی تالیف قلب اور انھیں خوش کرنے کے لیے دیتا ہوں۔ ”بعض لوگوں کو میں اس بے نیازی کے حوالے کردیتا ہوں، جو اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں رکھی ہے“ یعنی کچھ لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالی نے جو قناعت اور بے نیازی رکھی ہے، انھیں اس کے سپرد کرتے ہوئے نہیں دیتا۔ ”بھلائی“ سے مراد قوت ایمان و یقین ہے۔ ”عمرو بن تغلب انہیں لوگوں میں سے ہیں“ یعنی وہ لوگ جن کے ایمان پر تکیہ کرتے ہوئے میں انھیں نہیں دیتا، ان میں سے ایک عمرو بن تغلب ہیں۔ ایک اور حدیث میں آتاہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کسی شخص کو دیتا ہوں، جب کے دوسرا شخص مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتاہے۔ ایسا میں اس اندیشے کی وجہ سے کرتا ہوں کہ کہیں وہ اوندھے منہ آگ میں نہ ڈال دیا جائے“۔ (صحیح مسلم) عمرو رضی اللہ نے جب رسول اللہ ﷺ کو اپنی تعریف کرتے ہوئے سنا تو کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اس بات کی بجائے مجھے سرخ اونٹ مل جائیں۔ یعنی اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس ثنا کی بدولت میری جو تکریم کی، اس کا کوئی بدیل مجھے پسند نہیں ہے، چاہے مجھے عرب کا سب سے نفیس مال، سرخ اونٹ ہی کیوں نہ دیے جائیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی بچہ اپنے والد کا بدلہ نہیں چکا سکتا ہاں (ایک صورت ہے) اگر وہ اسے کسی کی غلامی میں پائے تو اسے خریدے اور آزاد کردے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔کوئی بھی بچہ اپنے والد کا بدلہ نہیں چکا سکتا اور نہ ہی اس کے احسان کا بدلہ دے سکتا الّا یہ کہ اگر وہ اسے کسی کی غلامی میں پائے تو اسے آزاد کرا دے۔
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضر رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں غیرحاضر رہے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول پہلی جنگ جو آپ نے مشرکوں سے لڑی میں اس میں شریک نہ تھا البتہ آئندہ اگر اللہ نے مشرکین سے لڑائی کا موقع مجھےعطا فرمایا تو میں جو کچھ کروں گا اللہ اسے دکھائے گا۔ پس جب احد والا دن ہواتو مسلمانوں نے اپنے مورچے چھوڑ دئے اور شکست کھا گئے، تو انہوں نے کہا: اے اللہ میں تجھ سے اس حرکت کی عذر خواہی کرتا ہوں جو ان مسلمانوں نے کی ہے،اور میں تیرے سامنے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، اس حرکت سے جو ان مشرکوں نے کی ہے۔ پھر وہ آگے بڑھے تو ان کا سامنا سعد بن معاذ سے ہوا، آپ نے ان سے کہا: اے سعد بن معاذ! جنت،رب کعبہ کی قسم ! میں اس کی خوشبو احد پہاڑ سے بھی زیادہ قریب محسوس کر رہا ہوں۔ سعد نے کہا: اے اللہ کے رسول! انھوں (انس بن نضر) نے جو کیا مجھ سے وہ نہیں ہوسکا! انس بن مالک کہتے ہیں کہ ہم نے ان کے جسم پر اسی (80) سے زیادہ تلوار کی چوٹیں یا نیزے کے زخم یا تیر کے نشان پائے۔ اور ہم نے انھیں دیکھا کہ وہ قتل (شہید) کر دیے گئے تھے اور مشرکوں نے ان کا مثلہ کردیا تھا (یعنی انکے کان ناک وغیرہ کاٹ ڈالے تھے) اس سبب سے ان کی بہن کے سوا کسی نے ان کو نہیں پہچانا، انہوں نے ان کو انکی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ انس بن مالک نے فرمایا: ہم خیال کرتے تھے کہ یہ آیت ان کے اور ان جیسے مسلمانوں ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ...﴾ [الأحزاب: 23] ”مومنوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے وہ عہد سچ کر دکھایا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا...“ آخر آیت تک۔
متفق علیہانس بن مالك بیان کرتے ہیں کہ ان کے چچا انس بن نضر جنگ بدر میں رسول اللہ ﷺ كے ساتھ نہیں تھے۔ اس لئے کہ جنگ بدرمیں نبیﷺ لڑائی کے ارادے سے نہیں نکلے تھے۔ صرف آپ کے پیش نظر قریش کے قافلہ کا تعاقب تھا۔ آپ کے ساتھ کل تین سو کچھ آدمی تھے جن کے پاس ستر اونٹ اور صرف دو گھوڑےتھے جن پر وہ لوگ باری باری سوار ہوتے تھے۔ انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے کہا کہ میں مشرکین سے ہونے والی پہلی لڑائی میں شریک نہ هو سكا تھا، البتہ آئندہ اگر اللہ نے مشرکین سے لڑائی کا موقع مجھےعطا فرمایا تو میں جو کچھ کروں گا اللہ اسے دکھائے گا (لوگوں کے سامنے ظاہر فرمادے گا)۔ پس جب جنگ احد والا دن ہوا اور وہ جنگ بدرکے ایک سال ایک ماہ بعد پیش آیا تو لوگ نکلے اور نبی ﷺ کے ساتھ مل کرجنگ لڑی۔ دن کے آغاز میں مسلمانوں کا پلڑہ بھاری رہا، لیکن تیراندازوں نے اپنے وہ مورچے چھوڑ دیے جن پر نبی ﷺ نے انہیں تعینات کیا تھا اور انھیں وہاں سے ہٹنے سے منع فرمایا تھا۔ جب مشرکین پیچھے ہٹنے لگے اور شکست کھا گئےتو بعض تیراندازوں نے وہ جگہ چھوڑدی اور مشرکین کے لڑاکوں نے اس جانب سے مسلمانوں پر حملہ کردیا اور ان سے مل گئے۔ یہصورت حال دیکھ کر مسلمان منتشر ہوگئے اور ان میں سے کچھ بھاگ کھڑے ہوئے۔ مگر انس بن نضر رضی اللہ عنہ کفار کے سمت آگے بڑھے اور فرمایا: اے اللہ میں تجھ سے اس حرکت کی عذر خواہی کرتا ہوں جو ان بھگوڑے مسلمانوں نے کی ہے،اور میں تیرے سامنے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، اس حرکت سے جوان لوگوں یعنی مشرکوں نے کی ہے نبی ﷺ اور آپ کے ساتھی اہل ایمان سے جنگ ٹھان کر۔ اورجب وہ آگے بڑھے تو سعد بن معاذ ان سے ملے اور پوچھا: کہاں کے لئے؟ آپ نے ان سے کہا: اے سعد میں جنت کی خوشبو احد پہاڑ سے بھی زیادہ قریب محسوس کر رہا ہوں۔ جنت کی خوشبوکا ادراک یہ حقیقی ہے وہم یا خیال نہیں اوریہ اللہ کی طرف سے ان کے لئے بطور کرامت ہوئی کہ انہوں نے جنت کی خوشبو اللہ کی راہ میں شہید ہونے سے پہلے ہی سونگھ لی تاکہ وہ اقدام کریں پیچھے نہ ہٹیں۔ چنانچہ وہ آگے بڑھے اور قتال کیا یہاں تک کہ وہ شھید ہوگئے۔ سعد رضي الله عنه کہا کرتے تھے، یا رسول اللہ! اس نے جو کیا وہ میں نہیں کر سکتا،یعنی ان جیسی قربانی دینے کی قابلیت مجھ میں نہیں ہے۔ میدان جنگ میں وہ مقتول پائے گئے اس طورپر کہ ان کے جسم پر اسی(80) سے زیادہ تلوار کی چوٹیں یا نیزے کے زخم یا تیر کے نشان پائے گئے۔ یہاں تک کہ ان کا جسم پھٹ چکا تھا۔ ان کی بہن کے سوائے کسی نے ان کو نہیں پہچانا، انہوں نے ان کو انکی انگلیوں سے پہچان لیا۔رضي الله عنه. اسی ناطے مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ یہ آیت ان کے اور ان جیسے مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾(الأحزاب: 23) ”مومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی“، اور بلا شبہ وہ اور ان جیسے اس آیت کے اولین مصداق ہیں رضي الله عنهم کیونکہ انہوں نے اپنے رب سے کیا ہوا وعد ہ سچ کر دکھایا۔ بایں طور کہ أنس رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اللہ کی قسم! میں جو کچھ کروں گا اللہ اسے دکھائے گا۔ اور بالفعل انہوں نے ایسا کچھ کر دکھایا جوعام فرد بشر کی بات نہیں ہاں مگر جس پر انہیں جیسی اللہ کی خصوصی عنایت ہو، یہاں تک آپ شہید ہوگئے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا، جس نے ننانوے قتل کیے تھے۔ اس نے پوچھا کہ روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟ چنانچہ اسے ایک راہب کے بارے میں بتایا گیا۔ وہ اس کے پاس گیا اور کہا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں، کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ راہب نے کہا کہ نہیں! (اس کی توبہ قبول نہ ہو گی) تو اس نے اس راہب کو بھی مار ڈالا اور یوں سو (100) قتل پورے کر دیے۔ پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ زمین میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے ایک عالم کے بارے میں بتایا (تو وہ اس کے پاس گیا) اور پوچھا کہ اس نے سو قتل کیے ہیں، کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ وہ بولا کہ ہاں ہے اور آخر توبہ کرنے میں کون سی شے حائل ہو سکتی ہے؟ تو فلاں علاقے میں جا، وہاں کچھ لوگ ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ تو بھی جا کر ان کے ساتھ عبادت کر اور اپنے علاقے میں واپس نہ جانا؛ کیوں کہ وہ بری جگہ ہے۔ چنانچہ وہ اس علاقے کی طرف چل پڑا، جب آدھا سفر طے کر لیا، تو اس کو موت آ گئی۔ اب عذاب کے فرشتوں اور رحمت کے فرشتوں میں جھگڑا ہوگیا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ توبہ کر کے صدق دل کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو کر آ رہا تھا۔ جب کہ عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی! آخر ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں آیا اور دونوں فرشتوں نے اسے حکم مان لیا۔ اس نے کہا کہ دونوں طرف کی زمین ناپو، یہ جدھر سے قریب ہوگا، اسے ادھر ہی کا مان لیا جائے گا۔ سو انھوں نے زمین کو ناپا تو اسے اس زمین سے زیادہ قریب پایا، جس کا اس نے ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ رحمت کے فرشتے اس کو لے گئے"۔ ایک اور روایت میں ہے: ”وہ اس صالح بستی سے ایک بالشت کی مقدار زیادہ قریب تھا۔ چنانچہ اسے انہی لوگوں میں شامل کر دیا گیا“۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالی نے اس زمین کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ تو دور ہو جا اور اس زمین کو حکم دیا کہ تو قریب ہو جا۔ اور کہاکہ ان دونوں کے مایبن کی مسافت کو ناپو۔ جب انھوں نے ناپا تو معلوم ہوا کہ وہ اس زمین سے ایک بالشت کی مقدار زیادہ قریب ہے۔ چنانچہ اس کی مغفرت کر دی گئی۔ ايک دوسری روایت میں ہے: اس نے اپنے سینے کو کھینچ کر اس زمین کی طرف کر دیا۔
متفق علیہنبی ﷺ نے فرمایا کہ ہم سے پہلی امتوں میں سے کسی امت میں ایک آدمی تھا، جس نے ننانوے لوگوں کو قتل کر رکھا تھا۔ احساس ندامت سے مغلوب ہو کر اس نے لوگوں سے علاقے کے سب سے زیادہ علم رکھنے والے شخص کے بارے میں پوچھا، تاکہ اس سے اپنے بارے میں دریافت کر سکے کہ کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ اس کی رہ نمائی ایک شخص کی طرف کی گئی، جو تھا تو عابد، لیکن اس کے پاس علم نہیں تھا۔ جب اس نے اس سے پوچھا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں، تو کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ راہب کو یہ گناہ بہت بڑا لگا اور وہ کہنے لگا کہ تیرے لیے کوئی توبہ نہیں ہے۔ اس پر وہ شخص غصہ میں آ گیا اور بے کلی میں اس نے راہب کو بھی قتل کر دیا اور اس طرح سو قتل پورے کر دیے۔ پھر دوبارہ اس نے علاقے کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا۔ اسے ایک عالم شخص کا پتہ بتایا گیا۔ اس نے اس سے پوچھا کہ اس نے سو افراد کو قتل کیا ہے، کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اکیوں نہیں! اس کے اور توبہ کے مابین کون سی شے حائل ہو سکتی ہے؟ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ لیکن فلاں بستی میں جاؤ۔ اس میں کچھ لوگ ہیں، جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ جس علاقے میں تھا، شاید وہ دار الکفر تھا۔ واللہ اعلم۔ اس لیے اس نے اس سے کہا کہ اپنے دین کی خاطر وہ اس بستی کی طرف ہجرت کر جائے، جس میں اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ وہ شخص پشیمان و تائب ہو کر اپنے دین کی خاطر اس علاقے کی طرف ہجرت کر گیا، جس میں اللہ کی عبادت کرنے والے لوگ تھے۔ آدھا راستہ طے کیا تھا کہ اس کی موت آ گئی۔ اب اس کے بارے میں عذاب اور رحمت کے فرشتوں کے مابین اختلاف ہو گیا؛ رحمت کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے توبہ کر لی تھی اور وہ نادم و تائب ہو کر آ رہا تھا (لیکن عذاب کے فرشتے اسے اپنے ساتھ کے جانے پر مصر تھے)۔ اس طرح ان کے مابین جھگڑا ہو گیا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ایک فرشتہ بھیجا؛ تاکہ وہ ان کے مابین فیصلہ کرے۔ اس نے کہا: دونوں جانب کی مسافت کی پیمائش کرو۔ جس علاقے سے وہ زیادہ قریب ہو، اسے اس کے باشندوں میں سے گردانا جائے گا۔ یعنی اگر وہ دار الکفر کے زیادہ قریب ہو، تو عذاب کے فرشتے اس کی روح قبض کریں گے اور اگر دار الایمان کے زیادہ قریب ہو، تو رحمت کے فرشتے اس کی روح قبض کریں گے۔ چنانچہ انھوں نے ان دونوں کی مسافت کو ناپا، تو جس علاقے کی طرف وہ جا رہا تھا، یعنی دارالایمان کی جانب، وہ اس علاقے کی بہ نسبت ایک بالشت قریب نکلا، جہاں سے وہ ہجرت کر کے آ رہا تھا۔ چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اس کی روح قبض کی۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ! سعد کو شفا دے، اے اللہ ! سعد کو شفا دے ۔ اے اللہ ! سعد کو شفا دے۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔سعد بن ابی وقاص کی حدیث یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سعد رضی اللہ عنہ جب بیمار تھے تو ان کی عیادت کی اور دعا فرمائی کہ ”اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے، اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے، اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے“ ایسا آپ ﷺ نے تین دفعہ کہا۔ اس حدیث میں دلیل ہے کہ آدمی کا کسی مسلمان مریض کی عیادت کے لیے جانا سنت ہے۔اس حدیث میں آپ ﷺ کے اپنے صحابہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور انداز معاملت کی بھی وضاحت ہے۔ آپ ﷺ اپنے صحابہ میں سے جو مریض ہوتے ان کی عیادت کے لیے جاتے اور ان کے لیے دعا کیا کرتے تھے ۔ اس حدیث میں اس طرح کی دعا مانگنے کے استحباب کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ”اے اللہ ! فلاں شخص کو شفا عطا فرما “، تین دفعہ نام لے کر ایسا کہیں گے ۔ مریض کے شفایاب ہونے کے اسباب میں سے یہ بھی ایک سبب ہے۔
مقداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ایک آدمی عثمان رضی اللہ عنہ (کے منہ پر ان) کی تعریف کرنے لگا ، تو مقداد رضی اللہ عنہ قصداً اپنے گھنٹوں کے بل بیٹھ گئے اور اس تعریف کرنے والے آدمی کے چہرے پر کنکریاں پھینکنے لگے، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یہ تم کیا کر رہے ہو؟ مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جب تم (روبرو) تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈالو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔مقداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے عثمان رضی اللہ عنہ کی (منہ پر) تعریف کی تو مقداد اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھے اور چھوٹی چھوٹی کنکریاں لیں اور اس تعریف کرنے والے آدمی کے چہرےپر پھینکا ، تو عثمان رضى الله عنہ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو انہوں نےبتایا کہ نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جب ہم (منہ پر) تعریف کرنے والوں کو دیکهیں تو ان کے چہروں پر مٹی ڈالیں۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے مال تقسیم کیا، تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ان کے علاوہ (جنہیں آپ نے عطا فرمایا) دوسرے لوگ اس کے زیادہ حقدار تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”انھوں نے مجھے ایک چیز اختیار کرنے پر مجبور کردیا کہ یا تو یہ مذموم طریقے (بےجا اصرار) سے سوال کریں یا مجھے بخیل بنادیں تو میں بخیل بننے والا نہیں ہوں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔آپ ﷺ نے آئے ہوئے مال کو کچھ لوگوں میں تقسیم کیا اور دوسروں کو چھوڑ دیا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کاش کہ آپ ان کو دیتے جنہیں آپ نے نہیں دیا ہے اس لیے کہ وہ زیادہ حقدار تھے؟ آپ ﷺ نے ان سے کہا انہوں نے اپنے کمزور ایمان کی وجہ سے مجھ سے مانگنے میں اصرار کیا اور اپنی خستہ حالی کی وجہ سے مجھ سے بے جا چیز کا سوال کیا یا پھر یہ کہ وہ بُخل کی طرف میری نسبت کریں۔ چانچہ آپ ﷺ نے عطا کرنے کو اختیار کیا، اس لیے کہ آپ کے اخلاق میں بُخل نہیں، بلکہ خاطر مدارات اور تالیفِ قلوب کے واسطے آپ نے انہیں دے دیا۔
ابو ربعی حنظلہ بن ربیع اسیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے یہ رسول اللہ ﷺ کے کاتبوں میں سے تھے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا اے حنظلہ تم کیسے ہو میں نے کہا حنظلہ تو منافق ہوگیا انہوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ تم کیا کہہ رہے ہو میں نے کہا ہم رسول اللہ کی خدمت میں ہوتے ہیں اور آپ ﷺ ہمیں جنت و دوزخ کی یاد دلاتے رہتے ہیں گویا کہ ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور جب ہم رسول اللہ کے پاس سے نکل جاتے ہیں تو ہم بیویوں اور اولاد اور زمینوں وغیرہ کے معاملات میں مشغول ہوجاتے ہیں اور ہم بہت ساری چیزوں کو بھول جاتے ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم ہمارے ساتھ بھی اسی طرح معاملہ پیش آتا ہے میں اور ابوبکر چلے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! حنظلہ تو منافق ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا وجہ ہے؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں تو آپ ﷺ ہمیں جنت و دوزخ کی یاد دلاتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ آنکھوں دیکھے ہوجاتے ہیں جب ہم آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ہم اپنی بیویوں اور اولاد اور زمین کے معاملات وغیرہ میں مشغول ہوجانے کی وجہ سے بہت ساری چیزوں کو بھول جاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم اسی کیفیت پر ہمیشہ رہو جس حالت میں میرے پاس ہوتے ہو یعنی ذکر میں مشغول ہوتے ہو، تو فرشتے تمہارے بستروں پر تم سے مصافحہ کریں اور راستوں میں بھی لیکن اے حنظلہ! وقت وقت کی بات ہے۔ آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ آپ ﷺ کے پاس جس حالت میں ہوتے ہیں دوسرے وقت اُس حالت میں نہیں ہوتے؛ آپ ﷺ کے پاس اس حالت میں ہوتے ہیں کہ اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں، لیکن جب اپنے بچوں، عورتوں اور دنیاوی امور میں پڑ جاتے ہیں تو ان کی حالتیں بدل جاتی ہیں، حنظلہ رضی اللہ عنہ نےاسے نفاق خیال کیا۔ اس لیے کہ نفاق کہتے ہیں کہ ایسی حالت کو ظاہر کرنا جو باطن کے خلاف ہو۔ جب انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو بتایا تو کہا اگر مسلسل اس حال پر قائم رہو جس حال میں میرے پاس ہوتے ہو، تو فرشتے اپنے ہاتھوں تم سے ہر حالت میں سلام کرے۔ لیکن اعتدال ضروری ہے ایک وقت اللہ کے لیے اور ایک وقت گھر والوں اور دنیا کے لیے۔