





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔یہ دعا تمام دعاؤں کا مجموعہ اور سب سے نفع مند دعا ہے کہ جو دین و دنیا کی تمام بھلائیوں پر مشتمل ہے۔ ’ہدی‘ (ہدایت)، علم نافع کو کہتے ہیں، ’تقویٰ‘ عملِ صالح اور ان چیزوں کو چھوڑنے کا نام ہے جن سے اللہ اور اس کے رسولﷺ نے روکا ہے۔ ’عفاف‘ (پاک دامنی) مخلوق اور برے معاملات سے رک جانے کا نام ہے۔ اور غنی یعنی اللہ اور اس کے دیے ہوئے رزق کو کافی سمجھنے، جو کچھ میسر ہو اس پر قناعت کرنے اور اُس پر قناعت کرنے اور جو رزق حاصل ہو، اس پر دل کے مطمئن ہونے کو کہتے ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (دعا کرتے ہوئے) فرمایا کرتے تھے ”اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ“ اے اللہ! میں تیرے لیے فرماں بردار ہو گیا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے (کفر کے ساتھ) مخاصمت کی۔ اے اللہ! میں اس بات سے تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں کہ تو مجھے سیدھی راہ سے ہٹا (گمراہ کر) دے ۔تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے۔
متفق علیہابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ کہتے تھے: ”اللهم لك أسلمت“ (اے اللہ !میں تیرے لیے فرماں بردار ہو گیا) یعنی ظاہری طور پر تیرا فرماں بردار، تیرے علاوہ کسی اور کا نہیں۔”وبك آمنت“ (اورتجھ پرایمان لایا) یعنی باطنی طور پر تصدیق کی۔ ”وعليك توكلت“ (اورتجھ پر بھروسہ کیا) یعنی اپنے تمام امور کی تدبیر تیرے سپرد کر دی اور میں اپنے کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔”وإليك أنبت“ (تیری طرف رجوع کیا) یعنی میں نے نافرمانی سے اطاعت کی طرف اور غفلت سے ذکر کی طرف رجوع کرلیا۔ ”وبك“ یعنی تیری مدد کے ساتھ۔ ”خاصمت“ (مخاصمت کی) یعنی تیرے دشمنوں سے جنگ کی۔ ”اللهم إني أعوذ بعزتك“ (اے اللہ میں تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں) یعنی تیرے غلبے کے ساتھ کیوں کہ عزت ساری کی ساری اللہ کے لیے ہے۔ ”لا إله إلا أنت“ (تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں) یعنی تیرے علاوہ معبود برحق کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جس سے سوال کیا جائے اور تیرے علاوہ کسی کی پناہ بھی نہیں لی جا سکتی۔ ”أن تضلني“ (یہ کہ تو مجھے سیدھی راہ سے ہٹا دے) یعنی میں اس بات سے پناہ چاہتا ہوں کہ ہدایت کے بعد تو مجھے گمراہ کر دے جب کہ تو نے مجھے ظاہری و باطنی طور پر اپنے حکم و قضاء کی فرماں برداری اور اپنی جناب میں جھکنے، دشمن سے مخاصمت اور ہر حال میں اپنی عزت و نصرت کی التجاء کرنے کی توفیق بخشی۔ ”أنت الحي الذي لا يموت والجن والإنس يموتون“ تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے۔
ابو جرّی الہُجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا یا رسول اللہ !عليك السلام۔ آپ ﷺ نے فرمایا: عليك السلام نہ کہو۔ عليك السلام سے تو مُردوں کو سلام کیا جاتا ہے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔مفہوم حدیث : ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر ان الفاظ کے ساتھ سلام کیا: ”عليك السلام يا رسول الله“۔ نبی ﷺ نے اسے اس انداز میں سلام کرنے سے منع کردیا اور اس پر ناپسندیدگی کی وجہ سے اس کا جواب بھی نہ دیا ۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ اس طرح سے تو مُردوں کو سلام کیا جاتاہے ۔ پھر آپ ﷺ نے اسے سلام کرنے کا شرعی طریقہ بھی بتایا جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں آتاہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”السلام عليك“ کہو۔ آپ ﷺ کا فرمان کہ ”ایسے تو مُردوں کو سلام کیا جاتا ہے“ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ زیارت قبور کے موقع پر ان الفاظ کے ساتھ سلام کیا جاتاہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ زیارت قبور کے موقع پر آدمی کو کہنا چاہیے ”السلام عليكم أهل دار قوم مؤمنين“۔ آپ ﷺ کے ایسا فرمانے کا مقصد اس طریقے کی طرف اشارہ کرنا تھا جو مُردوں کو سلام کرنے کے لیے اہلِ جاہلیت کے مابین رائج تھا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں کس طرح ہنسی خوشی رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا (فرشتہ) صور کو منہ میں لیے ہوئے ہے اور اللہ کی اجازت پر کان لگائے ہوئے ہے کہ کب اسے (صور) پھونکنے کا حکم دیا جائے اور وہ صور پھونکے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر گویا گراں گزری، چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: کہو: ”حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں کیسے فرحت اندوز ہو سکتا ہوں جب کہ صورت حال یہ ہے کہ وہ فرشتہ جو صور پھونکنے پر مامور ہے اس نے اپنے منہ کو اس پر رکھا ہوا ہے اور اجازت کا منتظر ہے کہ کب اسے حکم دیا جائے اور وہ صور پھونک دے۔ توگویا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر یہ بات بہت گراں گزری۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم یوں کہا کرو: ”حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“ یعنی ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے ليے کھڑے ہوتے تو تشہد اور سلام کے مابین آخر میں یہ کلمات پڑھتے تھے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَ أَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“ اے اللہ! میرے وہ گناہ معاف فرما دے جو میں نے پہلے کیے اور وہ بھی جو بعد میں کیے، جو چھپ کر کیے اور جو علانیہ کیے اور جو میں نے زیادتی کی اور وہ گناہ جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی (برحق) معبود نہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اللہ کے رسول ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تشہد وسلام کے درمیان سب سے آخر میں یہ دعا پڑھتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ“ اے اللہ! میرے وہ گناہ معاف فرما دے جو میں نے پہلے کیے۔ ”وَمَا أَخَّرْتُ“ اور وہ بھی جو مجھ سے عمل میں کوتاہی ہوئی ہے۔ یعنی جو بھی مجھ سے گناہ کرکے زیادتی اور عمل سے کوتاہی سرزد ہوئی ہے ان سب کو معاف فرما۔ ”وَمَا أَسْرَرْتُ“ اور جو گناہ جو چھپ کر کیے ”وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ“ اور جو علانیہ کیے اور جو میں نے حد سے تجاوز کیا۔ يہاں مختلف انواع کے گناہوں اورنا فرمانيوں کو ذکر کرکے بخشش طلب کرنے ميں مبالغہ سے کام لیا گیا ہے۔ ”وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي“ اور ان گناہوں کو بھی معاف فرما جن کو تو مجھ سےزيادہ جانتا ہے اورمیں ان کی تعداد اورحکم کو نہیں جانتا۔ ”أَنْتَ الْمُقَدِّمُ“ تو ہی آگے کرنے والا ہے يعنی بعض بندوں کو اطاعت کی توفيق دے کر۔ ”وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ“ اور تو ہی پيچھے کرنے والا ہے یعنی بعض بندوں کو ان کی مدد نہ کرکے۔ يا جسے تو چاہے اس کے درجات بلند کرکے اسے آگے کرنے والا ہے اور جسے تو چاہےاسے بلند امور سے پستی کی طرف گراکر پيچھے کرنے والا ہے،”لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“ تيرے سوا کوئی معبود برحق نہيں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا تو جنت نے کہا کہ میرے اندر کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے اور دوزخ کہنے لگی: میرے اندر بڑے بڑے سرکش اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: اے دوزخ! تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعے میں جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا۔ اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ تیرے ساتھ میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا“۔
معنی کے لحاظ سے یہ حدیث متفق علیہ ہے۔نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ جنت اور دوزخ نے اپنے رب کے سامنے ایک دوسرے سے جھگڑا کیا۔ یعنی ان میں سے ہر ایک نے اپنی فضیلت اور برتری کے دلائل پیش کیے۔ ان میں سے ہر ایک کا دعوی تھا کہ وہ دوسری سے برتر ہے۔ یہ سب کچھ غیبی امور سے تعلق رکھتا ہے جس پر ایمان لانا ہم پر واجب ہے اگرچہ عقل انہیں بعید ہی کیوں نہ جانے۔ جنت نے دوزخ کے خلاف دلیل دیتے ہوئے کہا کہ میرے اندر کمزور اور فقیر قسم کے لوگ آئیں گے۔ یہ عموما وہ لوگ ہوتے جو حق کے معاملے میں نرم خو اور اس کے تابع ہوتے ہیں۔ دوزخ نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سرکش یعنی سخت اور درشت مزاج اور متکبر قسم کے لوگ یعنی اپنی بڑائی اور برتری جتلانے والے آئیں گے جو لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حق کو جھٹلاتے ہیں۔چنانچہ سرکشی اور تکبر سے متصف لوگ دوزخی ہوں گے۔ العیاذ باللہ کیونکہ ایسے لوگ عموما حق کے پیرو نہیں بنتے۔ اللہ تعالی نے جنت و دوزخ کے مابین فیصلہ کرتے ہوئے دوزخ سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے جس کے ذریعے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور تیرے ذریعے سے میں جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا۔ اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ میں تیرے ذریعے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔یعنی جنت ایک ایسا مقام ہے جس کا وجود اللہ کی رحمت کا مرہون منت ہے۔ اس کا یہ مفہوم ہر گز نہیں کہ جنت وہ رحمت ہے جو اللہ کی صفت ہے کیونکہ اللہ کی رحمت تو اس کے ساتھ قائم ایک صفت ہے۔ اس حدیث میں جس رحمت کا ذکر ہے وہ مخلوق ہے۔ ”تو میری رحمت ہے“ سے مراد یہ ہے کہ میں نے اپنی رحمت کی بدولت تجھے پیدا کیا ہےاور تیرے ذریعے میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔ جنت والے اللہ کی رحمت کے مستحقین ہوں گے اور دوزخ والے اللہ کے عذاب سے دوچار ہونے والے لوگ ہوں گے۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنتی اپنے (اوپر کے) بالا خانوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان میں تاروں کو دیکھتے ہو“۔
متفق علیہجنتیوں کے ان کی فضلیت کے اعتبار سے جنت میں مختلف مراتب ہیں۔ یہاں تک کہ نچلے درجے والے جنتیوں کو اوپر کے درجات والے جنتی ایسے دکھائی دیں گے جیسے تارے ہوں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : ”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، خرید و فروخت کی بولی میں قیمت بڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکا نہ دو، آپس میں بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔ اے اللہ کے بندو! تم بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس پر ظلم نہ کرے، اس کو بے سہارا نہ چھوڑے اور اس کو حقیر نہ سمجھے۔ تقویٰ یہاں ہے۔" اور آپ ﷺ نے یہ الفاظ اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمائے۔ "کسی بھی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ۔ہر مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔“
رواه مسلماللہ کے نبی ﷺ نے ایک مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کی ہے اور اس کی کچھ ذمے داریاں اور آداب بیان کیے ہيں۔ مثلا : پہلی وصیت : ایک دوسرے سے حسد نہ کرو کہ ایک دوسرے کی نعمت کے چھن جانے کی تمنا کرنے لگو۔ دوسری وصیت : اگر سامان خریدنے کا ارادہ نہ ہو، تو بیچنے والے کا فائدہ یا خریدنے والے کا نقصان کرنے کے لیے اس کی قیمت نہ بڑھاؤ۔ تیسری وصیت : ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔ بغض نام ہے کسی کا برا کرنے کے بارے میں سوچنے کا۔ بغض محبت کی ضد ہے۔ البتہ اللہ کے لیے بغض اس سے مستثنی ہے۔ اللہ کے لیے بغض رکھنا واجب ہے۔ چوتھی وصیت : ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو۔ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ ایسا برتاؤ روا نہ رکھو کہ تم اپنے بھائی سے منہ موڑو، اعراض کرو اور قطع تعلق کر لو اور وہ بھی تمھارے ساتھ ایسا ہی کرے۔ پانچویں وصیت : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی فروخت پر فروخت نہ کرے۔ مثلا جب کوئی شخص کسی سے کچھ خرید چکا ہو، تو اس سے یہ نہ کہو کہ میں اس سے کم قیمت میں اسی طرح کا سامان یا اسی قیمت پر اس سے بہتر سامان دے دوں گا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے ایک جامع وصیت کی اور فرمایا : مذکورہ منع کردہ امور سے ایسے دور رہو، آپس میں اس طرح محبت، نرم روی، شفقت، ملاطفت، نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے تعاون، صاف دلی اور ہر حال میں خیر خواہی کا معاملہ کرو کہ بھائی کی طرح دکھائی دو۔ اس اخوت کے کچھ تقاضے بھی ہيں، جیسے : اپنے مسلمان بھائی پر ظلم اور دست درازی نہ کرے۔ جب کسی مسلمان بھائی پر ظلم ہو رہا ہو اور آدمی اس کی مدد کر سکتا ہو اور اسے ظلم سے بچا سکتا ہو، تو اسے اکیلا اور بے سہارا نہ چھوڑے۔ اسے حقیر و کم تر نہ جانے اور اسے ہیچ نظر سے نہ دیکھے۔ یہ رویہ دراصل دل میں موجود کبر کی وجہ سے سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے تین بار بتایا کہ تقوی دل کے اندر ہوا کرتا ہے۔ تقوى، جس کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی حسن اخلاق کا پیکر ہو اور اللہ کا خوف اور اس کا دھیان رکھے، اگر وہ کسى کے دل میں جاگزیں جائے تو وہ کسی مسلمان کو حقیر نہیں جان سکتا۔ انسان کے برا اور بد اخلاق ہونے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر جانے، جو دل میں موجود کبر و غرور کا نتیجہ ہوا کرتا ہے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اوپر مذکور باتوں پر مہر لگاتے ہوئے فرمایا کہ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون حرام ہے، نہ اسے جان سے مار سکتا ہے، نہ زخمی کر سکتا ہے اور نہ مار پیٹ کر سکتا ہے اور نہ کوئى دوسری جسمانی اذیت دے سکتا ہے۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا مال حرام ہے، اسے ناحق لے نہیں سکتا۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت و آبرو بھی حرام ہے، اس کى ذات پر یا اس کے حسب نسب پر زبان درازی نہیں کی جا سکتی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کردے گا۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ اس پر دنیا وآخرت میں آسانی کرے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی عیب پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی عیب پوشی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلا اللہ تعالیٰ اس كی وجہ سے اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردیتا ہے۔ جب کوئی قوم اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتی ہے اور اسے آپس میں پڑھتی پڑھاتی ہے، تو ان پر سکینت کا نزول ہوتا ہے، (اللہ تعالیٰ کی) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ اپنے پاس موجود فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔ اور جس کا عمل اسے پیچھے کردے، اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جاسکتا۔“
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک مسلمان کو اسی نوعیت کا اجر وثواب ملتا ہے، جو وہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کرتا ہے۔ جس نے کسی مسلمان سے دنیا کی کوئى بھى پریشانی اور سختى دور کى، تو اللہ تعالیٰ بدلے کے طور پر اسے قیامت کے دن کى پریشانیوں اور مشکلات میں سے کسى ایک پریشانی اور سختى سے نجات عطا فرمائے گا۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اسے سہولت فراہم کی اور اس کی تنگ دستی کو دور کیا، اللہ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانی کی راہیں نکالے گا۔ جو شخص کسی مسلمان سے ہونے والی کسی لغزش سے واقف ہو گیا، جس کا شکار اسے نہيں ہونا چاہیے تھا، پھر اس پر پردہ ڈال دیا، تو اللہ دنیا و آخرت میں اس کی لغزشوں پر پردہ ڈالے گا۔ اللہ بندے کی مدد اس وقت تک کرتا رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کے دینی و دنیوی کاموں میں اس کی مدد کرنے کی راہ پر گام زن رہتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ مدد دعا کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے، بدن کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے اور مال وغیرہ کے ذریعے بھی۔ جو شخص اللہ کی رضا جوئی کی خاطر علم شرعی کی تلاش میں چل پڑا، اس کے بدلے میں اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ جب کچھ لوگ اللہ کے کسی گھر میں جمع ہوتے ہيں، اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے آپس میں پڑھتے پڑھاتے ہيں، تو ان پر وقار و اطمینان کی بارش ہوتی ہے، ان کو اللہ کی رحمت اپنے سایے میں لے لیتی ہے، فرشتے انھیں گھیر لیتے ہيں اور اللہ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے ان کی تعریف کرتا ہے۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کا ذکر اللہ اپنے مقرب فرشتوں میں کر دے۔ جس کا عمل ناقص ہو، اس کا نسب اسے سرگرم عمل رہنے والے لوگوں کے مرتبے تک پہنچا نہیں سکتا۔ لہذا انسان کو اپنے اونچے حسب نسب اور آبا و اجداد کے فضل و شرف پر بھروسہ کر کے عمل کے میدان میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔