





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زبیر میری پھوپھی کا بیٹا ہے اور میری امت میں سے میرا حواری ہے“۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی کریم ﷺ بتا رہے ہیں کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی پھوپھی صفیہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور آپ ﷺ کی امت میں آپ ﷺ کے مدد گار ہیں۔
عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہانئ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو بہت روتے یہاں تک کہ (آنسوؤں سے) اپنی داڑھی کو ترکر لیتے۔ ان سے عرض کیا گیا کہ کیا بات ہے کہ آپ جنت و دوزخ کے تذکرہ پر نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر اس قدر روتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، اگر بندہ اس سے نجات پاگیا تو آگے کی منزلیں اس سے زیادہ آسان ہوں گی اور اگر اس منزل سے نجات نہ پاسکا تو بعد کی منزلیں اس سے زیادہ سخت ہوں گی۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ آنسوؤں سے ان کی داڑھی تر ہو جاتی۔ آپ سے پوچھا گیا کہ جنت اور دوزخ کا ذکر ہوتا ہے تو آپ نہیں روتے جب کہ قبر کو دیکھ کر آپ اس قدر روتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے اولین منزل ہے۔ اگر انسان قبر اور اس کےامتحان، سختی اور عذاب سے نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے آسان ہوں گی کیوں کہ اگر اس پر کوئی گناہ ہوا تو عذاب قبر کی وجہ سے وہ معاف ہو جائے گا اور اگر وہ قبر سے نجات نہ پا سکا اور عذابِ قبر سے اس کی خلاصی نہ ہوئی اور اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف نہ ہو ئے اور اس کے ذمہ ایسی چیزیں باقی رہیں جن کی وجہ سے وہ عذاب کا حق دار ہوا تو پھر اس کے بعد آنے والی منزلیں اس سے زیادہ سخت ہوں گی کیوں کہ دوزخ کا عذاب تو بہت ہی شدید ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو دعوتِ ولیمہ پر بلایا جائے، تو وہ اس میں ضرور شریک ہو“ـ
متفق علیہاس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مسلمان کو اس کھانے کی دعوت دی جائے، جس کا اہتمام شب زفاف کے موقعے پر رکیا جاتا ہے، خواہ دخول سے قبل ہو، دخول کے ساتھ ہو یا دخول کے بعد، تو اس پر واجب ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی دل جوئی اور اس کی خوشی میں شریک ہونے کی خاطر اس کی دعوت قبول کرے۔ جمہور علماء اس دعوت کو واجب کہتے ہیں؛ کیوں کہ دیگر احادیث میں اس دعوت کے چھوڑنے والے کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا عاصی و نافرمان کہا گیا ہے اور ایسا ایک واجب کو ترک کرنے کی بنا پر ہی ہوسکتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں صرف مال داروں کو اس کی دعوت دی جائے اور محتاجوں کو چھوڑ دیا جائے اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی‘‘۔
متفق علیہابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس اثر ــــــــــ جو کہ مرفوع کے حکم میں ہے جیسے یہ قول خود نبی ﷺ ہی سے یہ قول مروی ہو ــــــــــ سے یہ فوائد مستفاد ہوتے ہیں کہ یقیناً بدترین کھانا، اس ولیمہ کا کھانا ہے جو دلہن کی زفاف کے موقعہ پر تیار کیا جاتا ہے لیکن یہ (وعید) اسی صورت میں ہے جب اس میں محض صاحبِ حیثیت افراد ہی کو مدعو کیا جائے اور محتاجوں و فقیروں کو پوچھا بھی نہ جائے۔ کیونکہ ایسا کرنے میں ان محتاجوں و فقیروں کو حقیر و کمتر سمجھا جاتاہے اور ان مال داروں کو دعوت دینے کا مقصود محض دکھاوا، نام و نمود اور شہرت طلبی ہوتا ہے لہذا اس مقصد کے تحت کھلایا جانے والا کھانا بدترین ہوگا لیکن اگر اس دعوت میں دونوں فریق بھی شریک ہوجائیں تو اس ولیمہ سے بدترین ہونے کی صفت ختم ہوجائے گی، ورنہ ولیمہ کی اصل یہ ہے کہ وہ مشروع و جائز عمل ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نکاح کی اس نعمت پر شکر کا اظہار ہو۔ نیز اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جس نے بلاکسی عذر، ولیمہ کی دعوت کو قبول نہ کیاتو وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا نافرمان ہوگا، کیونکہ دعوت کو قبول کرنے میں پائے جانے والی مصلحتوں کی بناء پر یہ حکم حتمی نوعیت (وجوب) کا حامل ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی چاہیے، اگر وہ روزہ سے ہو تو اس (دعوت دینے والے) کے حق میں دعا کرے اور اگر روزہ سےنہ ہو تو کھا لے۔"
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث سے یہ فوائد مستفاد ہوتے ہیں کہ جب مسلمان کو اس کا بھائی، نکاح کے ولیمہ کی دعوت دے تو اس پر ضروری ہے کہ وہ اس کی دعوت کو قبول کرے تاکہ اس کی خوب دلجوئی کا سامان ہو اور اپنے اس بھائی کی خوشی و مسرت کے اس موقع پر باہم شریک ہوسکے اور اگر وہ قضاء اور نذر جیسا کوئی فرض روزہ رکھ رہا ہو تو دعوت میں حاضر تو ہوجائے تاہم کھانے میں شریک نہ ہو، البتہ ان کے حق میں خیر اور برکت کی دعاء کرے اور اگر نفلی روزہ سے ہو تو روزہ توڑ کر دعوت دینے والے کے ساتھ کھانا سکتا ہے یا چاہے تو اپنا روزہ مکمل کرسکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ میزبان کو اپنے روزہ سے رہنے یا نہ رہنے کی خبر پہنچادے تاکہ اس کے لیے تنگی و پریشانی کا باعث نہ ہو، لیکن دعوت میں اس کا جانا اور شرکت کرنا ایک تاکیدی حکم کی حیثیت رکھتا ہے چاہے وہ روزہ سے نہ ہو یا روزے ہی سے ہو۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”برکت، کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اس لیے تم لوگ اس کے کنارے سے کھاؤ، بیچ سے مت کھاؤ“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں کسی بڑے برتن ('قصعۃ' دس افراد کے کھانے کے بڑےبرتن کو کہتے ہیں) یا کھانے کے بڑے قاب وغیرہ میں اجتماعی طور پر بیٹھ کر کھانے کے آداب میں سے ایک اہم ادب کی جانب رہنمائی کی گئی ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے برتن کے اطراف و اکناف سے کھانے کی ہدایت فرمائی اور برتن کے بیچ سے کھانے سے منع فرمایا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کھانے کے بیچ میں برکت اور خیر نازل ہوتا ہے اور کھانے کی برکت یہ ہے کہ کھانا، مقدار میں کم ہونے کے باوجود سب کے لیے کافی ہوجاتا ہے، اور کچھ برکت اور خیر کے پہلو یہ بھی ہیں کہ کھانے میں پسندیدگی و شکم سیری کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر کچھ کھانا باقی رہ بھی جائے تو کسی کا ہاتھ نہ لگنے کے سبب، وہ حصہ صاف ستھرا رہے گا اور کھانے سے فارغ ہوجانے والوں کے بعد دیگر آنے والےافراد بھی اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، اگر کھانے کے بیچ سے کھانا شروع کیا جائے تو سارے کھانے کی حالت ابتر ہوجائے گی اور وہ بعد میں آنے والوں کے کھانے لائق نہ رہے گا اور نتیجہ میں کوڑے دان کی نذر ہوگا، چاہے وہ وافر مقدار ہی میں کیوں نہ ہو۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ مرض الموت میں رسول اللہ ﷺ پوچھتے رہتے تھے کہ ”کل میرا قیام کہاں ہو گا، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“ آپ ﷺ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی باری کے منتظر تھے، پھر آپ کی بیویوں نے آپ کی چاہت کےمطابق قیام کی اجازت دے دی، پھر آپ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کے ہاں مقیم رہے یہاں تک کہ انہیں کے پاس آپ ﷺ نے وفات پائی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ ﷺ کی وفات اسی دن ہوئی جس دن قاعدہ کے مطابق میرے یہاں آپ کے قیام کی باری تھی، وفات کے وقت سرِ مبارک میرے گردن و پیٹ کے درمیان یعنی سینے پر تھا اور میرا لعاب آپ ﷺ کے لعاب کے ساتھ ملا تھا۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن ابو بکر داخل ہوئے اور ان کے ساتھ (ہاتھ میں) مسواک تھی جس سے وہ مسواک کر رہے تھے۔ آپ نے ان کی طرف دیکھا تو میں نے کہا: اے عبدالرحمٰن! یہ مسواک مجھے دے دو۔انہوں نے مسواک مجھے دے دی۔ میں نے اسے تراشا پھر اچھی طرح چبا کر (نرم کیا) اور آپ ﷺ کو دی، پھر آپ ﷺ نے اس کے ذریعہ مسواک کیا، اس وقت آپ ﷺ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
متفق علیہعائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے آخری ایام کو بیان کر رہی ہیں کہ آپ ﷺ اس مرض میں تھے جس میں آپ کی وفات ہوئی تھی، آپ ﷺ سوال کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ”کل میرا قیام کہاں ہو گا؟، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“یہ سوال اپنی بیویوں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانے کے لیے اجازت لینے کا اشارہ تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ یہ بات سمجھ گئیں اور آپ ﷺ کو اس کی اجازت دے دی، آپ ﷺ انہیں کے حجرے میں رہے یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی روح قبض کرلی اس حال میں کہ آپ ﷺ کا سر ان کے سینے پر تھا، (بین سحرھا) یعنی سینہ کے بالائی یا پیٹ کے نچلے حصے کے مابین اور ”ونحرھا“ یعنی گردن میں ہار پہننے کی جگہ، پھر انہوں نے بیان کیا ہے کہ مسواک کے ذریعہ ان کا تھوک رسول اللہ ﷺ کے تھوک کے ساتھ مل گیا تھا، وہ اس طرح کہ اسی وقت حالتِ نزع میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبد الرحمٰن بن ابو بکر نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور ان کے پاس ایک تر مسواک تھا، جس سے اپنے دانتوں سے رگڑ رہے تھا، جب نبی ﷺ نے عبد الرحمٰن کے ہاتھ میں مسواک دیکھا تو اس جانب نگاہ اٹھائی گویا اس کی رغبت رکھتے ہوں، عائشہ رضی اللہ عنہ اسے سمجھ گئیں اور اپنے بھائی سے مسواک کو لے لیا، اور مسواک کے بنے ہوئے سرے کو تراشا، اور نیا سرا بنایا، اسے چبا کر خوب نرم کیا، پھر نبی ﷺ کو پیش کیا جس سے آپ ﷺ نے مسواک کیا، تو گویا عائشہ رضی اللہ عنہا قابل رشک اور خوش قسمت تھیں اور ان کے لیے یہ لازم تھا، کہ نبی ﷺ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ ﷺ کا سر مبارک ان کے سینے پر تھا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا حاضر کرے، تو اگر اسے اپنے ساتھ نہیں بیٹھاتا تو اسے ایک دو لقمہ ضرور دے دے۔ کیونکہ اس نے اسے تیار کرنے کی ذمے داری نبھائی ہے"۔
متفق علیہاس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ خادم یا غلام جب اپنے آقا کے لیے کھانا تیار کرے، تو مروت اور حسن سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ آقا اسے اس کھانے کا کچھ حصہ کھانے کو دے، اسے بالکل محروم نہ رکھے۔ یہ مروت، شرافت اور حسن اخلاق کی بات نہیں ہوگی کہ جس نے اسے محنت سے تیار کرکے حاضر کیا، وہ اسے چکھنے سے رہ جائے۔ اس لیے اس کا دل رکھنے اور خواہش پوری کرنے کی خاطر کـچھ ضرور دینا چاہیے۔
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "ایک عورت کو ایک بلی کى وجہ سے عذاب دیا گیا، جسے اس نے قید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ تو وہ اس کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی، کیونکہ قید کرنے کے بعد نہ اسے کھانے کو دیا، نہ پینے کو دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑوں کو کھاتی"۔
متفق علیہاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ایک عورت کے بارے میں بتایا ہے، جو جہنم ( اللہ ہمیں اس سے بچائے!) میں داخل ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ اس نے ایک بلی کو باندھ کر رکھ دیا اور وہ بھوک پیاس سے بے تاب ہوکر مر گئی۔ اس نے نہ تو اسے کچھ کھانے کو دیا، نہ پینے کو دیا اور نہ چھوڑا کہ خود دوڑ بھاگ کرکے زمین کے کیڑے مکوڑوں کو کھا لیتی۔ جب جانوروں کے بارے میں یہ وعید ہے، تو بیوی، بچے اور نوکر چاکر وغیرہ جیسے بے گناہ ماتحت لوگوں کی ذمے داری ادا نہ کرنا کتنا بڑا گناہ ہو سکتا ہے؟