





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑا ہو کر جوتا پہنے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں کھڑے ہو کر جوتا پہننے کی ممانعت ہے کیونکہ بیٹھ کر اسے پہننا زیادہ آسان اور ممکن ہے۔ یہ حکم اس صورت کے ساتھ خاص ہے جب جوتے کو پاؤں میں ڈالنے کے لیے ہاتھ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہو کیونکہ انسان اگر کھڑا ہو کر جوتا پہنے اور جوتا ایسا ہو کہ اسے (پاؤں میں) ڈالنے کے لیے ہاتھ کے استعمال کی ضرورت ہو تو امکان ہے کہ جب وہ جوتا درست کرنے کے لئے اپنا پاؤں اٹھائے تو گر جائے۔ جب کہ آج کل کے معروف جوتوں کو کھڑے ہونے کی حالت میں پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ ممانعت کے دائرے میں نہیں آتے کیونکہ ہمارے موجودہ جوتوں کو بیٹھے بغیر آسانی سے اتارا اور پہنا جا سکتا ہے۔ اس حکم میں مرد و عورت کے مابین کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ شرعی احکامات مرد وزن کے مابین کوئی فرق نہیں کرتے سوائے اس کے کہ کوئی ایسی دلیل موجود ہو جو تخصیص پر دلالت کرے۔ تاہم حدیث میں بطور خاص مرد کا ذکر اس لئے ہے کیونکہ عورت کی بنسبت اکثر مرد ہی باہر نکلتے ہیں اس لئے خاص طور پر انہیں کا ذکر کیا۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام سائب یا ام مُسیَّب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے ام سائب (یاپھر یہ فرمایا) اے ام مُسیَّب! تمھیں کیا ہوا ہے، کیوں کانپ رہی ہو؟ انھوں نے جواب دیا کہ بخار کی وجہ سے۔ اللہ اس میں برکت نہ دے! اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”بخار کو برا بھلا مت کہو۔ یہ تو بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے، جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو صاف کردیتی ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔جابر رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بیان کرر ہے ہیں کہ نبی ﷺ ام السائب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، جو کانپ رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا، تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ بخار کی وجہ سے کانپ رہی ہیں۔ ”الحمی“ اس حرارت کو کہا جاتا ہے، جو جسم کو لاحق ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کا مرض ہے، جس کے کئی انواع ہیں۔ ”لا بارك الله فيها“ ام سائب جس بخار کے مرض میں مبتلا تھیں اس کے خلاف یہ بد دعا تھی۔ آپ ﷺ نے بخار کو بر بھلا کہنے سے منع فرمایا، یعنی نبی ﷺ نے بخار کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا؛ کیوںکہ یہ اللہ تعالی کے افعال میں سے ہے اور ہر وہ شے جو اللہ کے افعال میں سے ہو، اسے برا بھلا کہنا انسان کے لیے جائز نہیں ہے۔ کیوںکہ اسے برا بھلا کہنا دراصل اسے تخلیق کرنے والے کو برا بھلا کہنا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا: ”زمانے کو برا بھلا مت کہو؛ کیوںکہ اللہ ہی زمانہ ہے“۔ چنانچہ انسان کو جب کوئی مصیبت لاحق ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اللہ سے اجر کا امید وار رہے۔ پھر فرمایا کہ یہ بخار بنی آدم کے گناہوں کو ایسے صاف کر دیتا ہے، جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو صاف کردیتی ہے۔ مراد یہ ہے کہ بخار کا مرض برائیوں کا کفارہ اور رفع درجات کا سبب بنتا ہے۔ جیسے جب لوہے کو آگ پر تپایا جائے تو میل کچیل اور گندگیاں الگ ہوجاتی ہیں اور صاف ستھرا لوہا باقی رہ جاتا ہے۔ ایسے ہی بخار بنی آدم کے صغیرہ گناہوں کو دور کردیتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان سے صاف ستھرا ہوجاتا ہے۔
جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (کھانے کے بعد) انگلياں اور پليٹ چاٹ لينے کا حکم ديا، اور فرمايا: ”تم نہیں جانتے کہ ان ميں سے کس (کھانے) میں برکت ہے“۔ ایک دوسرى روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا لے اور اس ميں لگی ہوئی گندگی کو صاف کرکے کھالے اور اسے شيطان کے ليے نہ چھوڑے، اور اپنے ہاتھ کو رومال سے نہ پونچھے يہاں تک اپنی انگلياں چاٹ لے، اس لیے کہ وہ نہيں جانتا کہ اس کے کس کھانے ميں برکت ہے“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ شیطان تمہارے پاس تمہارے ہر کام کے وقت حاضر رہتا ہے حتی کہ کھانے کے وقت بھی موجود رہتا ہے۔ لہٰذا اگر تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تواسے (اٹھاكر) اس ميں لگی ہوئی گندگی کو صاف کرکے کھالے اور اسے شيطان کے ليے نہ چھوڑے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم ﷺ سے کھانے کے کچھ آداب نقل کیے ہیں۔ انہيں آداب میں سے ایک یہ ہے کہ: انسان جب کھانے سے فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیوں اور پلیٹ کو اچھی طرح چاٹ لے يہاں تک کہ اس میں کھانے کا کوئی اثر باقی نہ رہ جائے، کيونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے کس کھانے میں برکت ہے۔ اسی طرح کھانے کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ: جب انسان کا لقمہ زمین پر گر جائے تو اسے نہ چھوڑے۔ کيونکہ شیطان انسان کے تمام امور میں موجود رہتا ہے۔ (اگر وہ لقمے کو يوں ہی گرا ہوا چھوڑ دے گا) تو شیطان اسے اٹھا لے گا، ليكن ایسا نہیں ہے کہ وہ اسے اٹھاتے ہوئے ہمیں نظر بھی آئے۔ کیونکہ یہ ایک غیبی معاملہ ہے جس کا ہم مشاہدہ نہیں کرتے، ليكن صادق و مصدوق ﷺ کے خبر دینے سے ہميں یہ بات معلوم ہوئی کہ شیطان اسے اٹھا کر کھا لیتا ہے، اگرچہ ظاہری طور پر وہ (لقمہ) ہمارے سامنے ہی موجود رہتا ہے، لیکن وہ اسے غیبی طور پر کھاليتا ہے۔ یہ ان غیبی امور میں سے ہے جس کی تصدیق کرنا ہم پرواجب ہے۔۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ ﷺ نے اسے کھایا، پھر آپ نے یہ دعا پڑھی: ”أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ“ یعنی تمھارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمھارا کھانا کھائیں اور فرشتے تمھارے لیے دعائیں کریں۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ خزرج کے سردار سعد بن عبادۃ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ ”چنانچہ وہ روٹی اور تیل لے کر آئے“ اس جملے میں اس چیز کو پیش کرنے کا بیان ہے، جو آسانی سے میسر ہو، یہ تہذیب کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے کھایا۔ پھر فرمایا یعنی کھانا کھانے کے بعد: ”أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ“ یعنی اللہ تمھیں اتنا ثواب دے، جتنا روزے دار کو افطار کرانے والے کا ہوتا ہے۔ یہ جملہ دعائیہ ہے۔ ”وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ“ ابرار جمع ہے ”بر“ کی، بمعنی متقی۔ ”وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ“ یعنی تمھارے لیے استغفار کریں۔
عبدالله بن عمرو بن العاص - رضی الله عنہما - سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالی علم کو بندوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا یہاں تک کہ جب اللہ کوئی عالم باقی نہیں چھوڑے گا تو (اس وقت) لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے۔ ان سے جب کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے گا تو وہ علم کے بغیر فتوی دیں گے اور یوں خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے“۔
متفق علیہعبداللہ بن عمرو - رضی الله عنہما - سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "اللہ علم کو چھین کر نہیں اٹھائے گا۔" اس سے کتاب و سنت اور اس سے متعلقہ علوم مراد ہیں۔ ”انتزاعاً ينتزعه من الناس“ یعنی لوگوں سے علم کو یوں نہیں ختم کرے گا کہ ان کے درمیان سے علم کو آسمان پر اٹھا لے بلکہ علم کو علماء کو موت دے کر اور ان کی روحوں کو قبض کرکے اٹھائے گا۔یہاں تک کہ جب اللہ کسی بھی عالم کو نہیں چھوڑے گا یعنی ہر عالم کی روح قبض کر لے گا تو لوگ ایسے افراد کو اپنا خلیفہ، قاضی، مفتی، امام اور شیخ بنا لیں گے جو جاہل ہوں گے۔ ”جُھّال“ دراصل جاہل جمع ہے۔ ایسے لوگوں سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جائے گا تو وہ بغیر کسی علم کے فتوی دیں گے اور بلا علم فیصلہ کر دیا کریں گے اور یوں خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ اس طرح سے جہالت عام ہو جائے گی۔ اس حدیث میں اشارہ ہے کہ علم عنقریب اٹھا لیا جائے گا اور زمین میں ایک عالم بھی ایسا نہیں رہے گا جو لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف رہنمائی کرے۔ اس طرح سے امت پستی کا شکار ہوجائے گی اور گمراہی میں پڑ جائے گی۔
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیز تیار کر رکھی ہے کہ نہ کسی آنکھ نے اس (جیسی کسی چیز) کو دیکھا ہے، نہ کسی کان نے اس کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا ہے۔ اگر تم اس بات کی تصدیق چاہو تو یہ آیت پڑھو: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ ”کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، وہ جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے“۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی ایک مجلس میں موجود تھا۔ اس میں جنت کا ذکر ہوا۔ جب آپ ﷺ گفتگو پوری فرما چکے، تو آخر میں فرمایا: اس میں وہ کچھ ہے، جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی اس کا خیال ہی کسی آدمی کے دل پر گزرا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے آیت‘ ﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ سے لے کر اللہ تعالی کے فرمان:﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ تک تلاوت فرمائی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہحدیث کا مفہوم: اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں یعنی ان لوگوں کے لیے،جو اس کے احکامات بجا لاتے ہیں اور اس کی منع کردہ باتوں سے اجتناب کرتے ہیں، وہ محاسن اور خیرہ کر دینے والی خوب صورت اشیا تیار کر رکھی ہیں، جنھیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا۔اور ایسی بے خود کردینے والی آوازیں اور من پسند اوصاف تیار کر چھوڑے ہیں،جنھیں کسی کان نے نہیں سنا۔یہاں بطور خاص آنکھ اور سماعت کا ذکر کیا،کیوںکہ انہی دونوں کے ذریعے زیادہ تر محسوسات کاادراک ہوتا ہے۔چکھنے، سونگھنے اور چھونے کے ذریعے ان سے کم ادراک ہوتا ہے۔ ”ولا خَطر على قَلب بَشر“ یعنی ان کے لیے جنت میں جو دائمی نعمتیں تیار ہیں،ان کا خیال تک کسی کے دل پرسے نہیں گزرا۔ہر وہ شے جس کا خیال انسان کے دل میں آتا ہے،جنت میں اس سے بہتر ان کے لیے موجود ہے۔کیوںکہ، انسان کے دل پر صرف انہی اشیا کا خیال آتا ہے،جنھیں وہ جانتے ہیں اور ان کے خیال کے قریب وہی اشیا آتی ہیں،جن کی وہ پہچان رکھتے ہیں۔جب کہ جنت کی نعمتیں ان سے کہیں برتر ہیں۔یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ان کے لیے بطور تکریم ہوگا۔کیوںکہ انھوں نے اللہ کے احکامات کی بجاآوری کی ہوگی،اس کی حرام کردہ باتوں سے اجتناب برتا ہوگا اور اس کے راستے میں مشقت برداشت کی ہوگی۔ چنانچہ بدلہ عمل ہی کی جنس سے سے ملے گا۔ ”واقْرَؤُوا إن شِئْتُمْ“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ:پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ﴿فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ﴾اس میں تمام نفوس شامل ہیں۔ کیوںکہ سیاق نفی میں نکرہ عموم کا معنی دیتا ہے۔یعنی کسی کو یہ معلوم نہیں کہ:﴿مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ یعنی ان کے لیے کیسی خیر کثیر، بے شمار نعمتیں، فرح وسرور اور لذت و خوشی رکھی ہوئی ہے۔جس طرح انھوں نے راتوں کو نماز پڑھی، دعائیں کیں اور اپنے اعمال کو مخفی رکھا،اسی طرح اللہ نے بھی انھیں ان کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا۔بایں طور کہ ان کے اجر کو مخفی رکھا۔اسی لیے فرمایا: ﴿جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾وہ جو کچھ کرتے تھے، یہ اس کا بدلہ ہے۔
رسول الله ﷺ كے آزاد کردہ غلام زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جو شخص یہ دعا پڑھے: ”أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ“ (میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں) اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اگرچہ وہ میدان جہاد سے ہی فرار کیوں نہ ہوا ہو۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔جو شخص یہ دعا پڑھے: ”أَسْتَغْفِرُ الله الذي لا إله إلا هو الحَيَّ القيَّومَ وأتوب إليه“ اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اگرچہ وہ کفار کے ساتھ جنگ سے فرار ہی کیوں نہ ہوا ہو۔ واضح رہے کہ معرکۂ جہاد سے بھاگنا ان سات ہلاک کر دینے والی اشیا میں سے ہے، جن کا ذکر اس حدیث میں آیا ہے: ”سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو؛ ان میں سے ایک میدان جہاد سے بھاگنا ہے“۔ اس لیے زیر بحث حدیث کا معنی اس وقت درست ہو گا، جب مفہوم یہ ہو کہ وہ تمام گناہوں سے تائب ہوجائے، جن میں سے ایک میدان جنگ سے بھاگنا ہے۔ ورنہ گناہ پر قائم رہتے ہوۓ صرف استغفار کرنا کچھ بھی سود مند نہیں ہو سکتا۔ اس کا فائدہ تو تب ہوتا ہے، جب اس کے ساتھ ساتھ گناہ سے توبہ بھی ہو۔
ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کہا: "آپ نہ بد زبان تھے، نہ گندی باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے، نہ بازاروں میں چیخ اور چلا کر بات کرنے والے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، بلکہ آپ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے"۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ابو عبد اللہ جدلی رحمہ اللہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے بتایا کہ آپ بڑے اونچے اخلاق کے مالک تھے۔ نہ بد زبان تھے کہ بری باتیں منہ سے نکالتے، نہ بہ تکلف اور نہ کم یا زیادہ بری باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے اور نہ بازاروں میں چیخ کر باتیں کرکے بد خلقی کا مظاہرہ کرتے تھے، بلکہ ہر ایک کے ساتھ نرمی اور شفقت کا برتاو کرتے تھے۔ اگر کوئی بد سلوکی سے پیش آ بھی گیا، تو اس کے ساتھ بد سلوکی روا رکھنے کی بجائے معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ احزاب کے دن فرمایا: کون ہے جو دشمن کی خبر لائے گا؟، زبیر نے فرمایا کہ میں۔ پھر آپﷺ نے فرمایا:کون ہے جو دشمن کی خبر لائے گا۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر (بن عوام) ہیں“۔
متفق علیہجب غزوۂ احزاب ہوا اور قریش و دیگر قبائل مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے آئے اور رسول اللہ ﷺ نے خندق کھدوائی تو اس وقت مسلمانوں کو یہ اطلاع ملی کہ یہود کے قبیلہ بنوقریظہ نے عہد شکنی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف قریش کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو بنو قریظہ کی خبر لائے گا؟ تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ ﷺ تک ان کی خبریں پہنچاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے پھر دوسری مرتبہ پوچھا کہ میرے پاس بنو قریظہ کی خبر کون لائے گا؟ تو زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں لاؤں گا۔ اس وقت نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی نہ کوئی ناصر (مدد گار یا حواری) ہوتا ہے اور میرے مددگار زبیر ہیں۔