





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کے نزدیک سب سے سرکش وہ ہے, جواللہ کے حرم کے اندر قتل کرے, یا جو اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جو زمانۂ جاہلیت کی عداوت وانتقام کی بنا پر قتل کرے"۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔عبد اللہ بن عمرو بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے کہ قتل کے معاملے میں اللہ کے نزدیک سب سے سرکش لوگ تین ہیں: پہلا وہ جس نے اللہ کے پر امن حرم یعنی مکہ کے اندر کسی کو ناحق قتل کر دیا۔ کیونکہ کسی کو ناحق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے اور قتل کی واردات جب حرم کے اندر ہو، تو اس کی حرمت اور گناہ اور بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : {ومن يُرِدْ فيه بإلحاد بظلم نُذِقْهُ من عذاب أليم } [الحج، آیت نمبر:25] یعنی جو بھی وہاں ظلم کے ساتھ الحاد کا ارادہ کرے گا، ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔ ساتھ ہی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث میں ہے : "بے شک تمھارا خون، تمھاری عزت و آبرو اور تمھارے اموال تمھارے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح تمھارے اس شہر میں تمھارا یہ مہینہ قابل احترام ہے"۔ [اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ حدیث نمبر : 1218] دوسرا وہ آدمی، جو اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : {ولا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أخرى} [الأنعام: 164] یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آدمی اپنے قاتل کو علاوہ کسی اور کا قتل کر دے یا اس کے ساتھ کسی اور کو بھی مار دے۔ دراصل ان تین وجوہات کی بنا پر کسی کا خون بہا دینا دور جاہلیت کی عادت تھی، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ تیسرا وہ آدمی، جو دور جاہلیت کی عداوتوں اور انتقاموں کی وجہ سے، جن کو اسلام نے کالعدم قرار دے دیا ہے، قتل کرے۔ لیکن علما نے دو لوگوں کو اس سے مستثنی قرار دیا ہے۔ ایک وہ شخص جو اپنے بچاو میں کسی کا قتل کر دے، جب قتل کے علاوہ کوئی صورت نہ بچی ہو اور دوسرا وہ شخص جو حرم کے اندر کوئی جرم کرے، جس سے اس کا قتل مباح ہو جائے، جیسے قتل عمد وغیرہ۔ ایسا اس لیے، تاکہ حرم جرائم کا ذریعہ نہ بن جائے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اسلمی کو سنگ سار کرنے کے بعد کھڑے ہوئے اور فرمایا : "اس بدکاری سے بچو، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ لیکن جس سے یہ گناہ سرزد ہو جائے، وہ اللہ کے پردے میں چھپ جائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے۔ کیونکہ جو ہمارے سامنے اپنے گناہ کو ظاہر کرے گا، ہم اس پر اللہ عز وجل کی کتاب میں مذکور حد جاری کريں گے"۔
اسے حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ پر زنا کی حد نافذ کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : اس گندے کام اور اس طرح کے دیگر گندے کاموں سے بچو۔ لیکن اگر کسی سے اس طرح کا کوئی کام سرزد ہو جائے، تو اس پر دو چیزیں واجب ہيں : 1- چوں کہ اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال رکھا ہے، اس لیے اس پردے کو ڈلا ہوا رہنے دے اور کسی کو نہ بتائے۔ 2- فوراً توبہ کر لے اورگناہ پر مصر نہ رہے۔ کیوں کہ جس کا گناہ ہمارے سامنے آ جائے گا، ہم اس پر اللہ کی کتاب میں مذکور اس گناہ کی حد نافذ کریں گے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مسجد میں معتکف تھے، آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے سنا تو پردہ اٹھایا اور فرمایا: ’’خبردار! تم سب کے سب اپنے رب سے مناجات کر رہے ہو، لہٰذا تم میں سے کوئی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے اور نہ کوئی قراءت میں اپنی آواز دوسرے پر بلند کرے۔‘‘ یا فرمایا: ’’نماز میں‘‘۔
رواه أبو داودنبی ﷺ اپنی مسجد کے اندر ایک خیمے میں اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے معتکف تھے، تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو بہت اونچی آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے سنا، جس سے وہ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچا رہے تھے۔ چنانچہ آپ نے خیمے سے پردہ ہٹایا اور ایسا کرنے والے کو ملامت کی اور اس پر عتاب فرمایا۔ پھر فرمایا: ”تم سب قرآن پڑھ کر اپنے رب سے مناجات کرتے ہو، لہٰذا تم میں سے کوئی دوسرے کو ایذا نہ دے، اور نہ کوئی قراءت میں یا نماز میں اپنی آواز دوسرے پر بلند کرے۔“
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم ایک غزوہ میں تھے کہ ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کو پیچھے سے مارا۔ اس پر انصاری نے پکارا: ’’اے انصارو!‘‘ اور مہاجر نے پکارا: ’’اے مہاجرو!‘‘ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ایک مہاجر نے ایک انصاری کو پیچھے سے مارا، جس پر انصاری نے پکارا: اے انصارو! اور مہاجر نے پکارا: اے مہاجرو! تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ ایک بدبودار چیز ہے‘‘۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تھے تو انصار کی تعداد زیادہ تھی، پھر بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔ یہ سن کر عبداللہ بن اُبی نے کہا: کیا انہوں نے ایسا کر دیا ہے؟ اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو عزت والا وہاں سے ذلیل کو ضرور نکال باہر کرے گا۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو، کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں‘‘۔
متفق عليهنبی کریم ﷺ ایک غزوہ میں سفر پر تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ مہاجرین وانصار صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، تو ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کی پیٹھ پر اپنے ہاتھ سے ضرب لگائی۔ تو انصاری نے پکارا: اے انصارو! میری مدد کرو، اور مہاجر نے پکارا: اے مہاجرو! میری مدد کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ صحابہ نے بتایا: ایک مہاجر نے ایک انصاری کی پیٹھ پر اپنے ہاتھ سے مارا، تو انصاری نے کہا: اے انصارو، میری مدد کے لیے آؤ۔ اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرو، میری مدد کے لیے آؤ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس جاہلانہ عادت کو چھوڑ دو کیونکہ یہ قبیح، ناپسندیدہ اور تکلیف دہ عادت ہے؛ اور وہ یہ ہے کہ جب آدمی پر اس کا مخالف غالب آجاتا ہے تو وہ اپنی قوم کو پکارتا ہے، پھر وہ لوگ جہالت اور عصبیت کی بنا پر اس کی مدد کے لیے دوڑ پڑتے ہیں، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو انصار کی تعداد زیادہ تھی، پھر بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔ تو نفاق کے سرغنہ عبداللہ بن اُبی بن سلول نے کہا: ”کیا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے؟! اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو عزت والے -یعنی وہ خود اور اس کے ساتھی- وہاں سے ذلت والوں کو -یعنی نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو- نکال باہر کریں گے۔“ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کا سر قلم کر دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے پیروکاروں کو قتل کرتا ہے، خواہ ظاہری طور پر ہی سہی۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: آلِ محمد ﷺ نے ایک دن میں دو کھانے نہیں کھائے، اِلّا یہ کہ ان میں سے ایک کھجوریں ہوتیں۔
متفق عليهام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے اہل بیت نے ایک دن میں دو وقت کھانا نہیں کھایا، الا یہ کہ ان میں سے ایک کھانا کھجوریں ہوتیں۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: محمد ﷺ کے اہل خانہ ، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی۔
متفق عليهام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ کے گھر والوں نے، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات ہوگئی۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا، اور اس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی، مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا وہ تکیہ جس پر آپ ﷺ ٹیک لگاتے تھے، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی۔
متفق عليهام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ کا بستر جس پر آپ آرام فرماتے تھے، دباغت دیے ہوئے چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، اسی طرح آپ ﷺ کا تکیہ بھی تھا جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے۔
عمرو بن حارث، رسول اللہ ﷺ کے سالے اور امّ المؤمنین جویریہ بنت حارث کے بھائی، رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت کے وقت نہ کوئی درہم ودینار چھوڑا‘ نہ کوئی غلام‘ نہ کوئی لونڈی اور نہ کوئی اور چیز۔ البتہ اپنا سفید خچر، اپنے ہتھیار اور ایک زمین چھوڑی جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔
رواه البخارينبی ﷺ نے وفات کے وقت نہ کوئی چاندی کا درہم چھوڑا نہ سونے کا دینار، نہ کوئی غلام نہ لونڈی، نہ بکری نہ اونٹ اور نہ ہی مال میں سے کوئی چیز چھوڑی، سوائے اپنے سفید خچر کے جس پر آپ ﷺ سواری کیا کرتے تھے، اپنے ہتھیار کے، اور اس زمین کے جسے آپ نے اپنی زندگی میں مسافروں کے لیے وقف کردیا تھا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”کیا میں تمھیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سے بہترین کون ہے اور بدترین کون؟“ یہ سن کر لوگ خاموش رہے، تو آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ پھر ایک شخص نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے بہترین اور بدترین لوگوں کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور اس کے شر سے مامون رہا جائے، اور تم میں سے بدترین شخص وہ ہے جس سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور نہ اس کے شر سے مامون رہا جائے۔“
رواه الترمذينبی ﷺ اپنے چند بیٹھے ہوئے صحابہ کے پاس آکر کھڑے ہوئے اور ان سے دریافت فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سے بہتر کون ہے اور بدتر کون ہے؟ اس پر صحابہ کرام اپنے اچھے اور برے میں امتیاز کیے جانے کے ڈر اور رسوائی کے خوف سے خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ان سے تین مرتبہ سوال دہرایا، تو ان میں سے ایک شخص نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! ہمیں ہمارے اچھے اور برے کے بارے میں بتائیے۔ اس پر اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں یہ بات واضح فرمائی: تم میں بہترین شخص وہ ہے، جس سے خیر، احسان اور بھلائی کی امید اور توقع کی جائے اور جس کے شر کا ڈر نہ ہو، چنانچہ اس کی زیادتی، بد سلوکی اور ظلم وتعدی کا ڈر نہ ہو۔ اور تم میں بدترین شخص وہ ہے، جس سے کسی خیر، احسان اور بھلائی کی نہ تو امید کی جائے، نہ توقع رکھی جائے اور نہ ہی اس کی حرص وطمع ہو اور نہ اس کے شر سے امن ہو، بلکہ اس کی زیادتی، بد سلوکی اور ظلم وتعدی کا خوف لگا رہے۔