Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر عائد ہونے والے کچھ حقوق بتا رہے ہیں۔ پہلا حق : سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دینا۔ دوسرا حق : مریض کی عیادت اور زیارت کرنا۔ تیسرا حق : جنازے کے پیچھے پیچھے گھر سے نماز گاہ اور وہاں سے قبرستان تک جانا اور تدفین کا کام پورا ہو جانے تک ساتھ رہنا۔ چوتھا حق : دعوت قبول کرنا، جب کوئی شخص شادی کے ولیمہ وغیرہ کی دعوت دے۔ پانچواں حق : چھینکنے والے کا جواب دینا۔ یعنی جب چھینکنے والا الحمد للہ کہے تو جواب میں یرحمک اللہ کہنا۔ پھر اس کے جواب میں چھینکنے والا يهديكم الله ويصلح بالكم کہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر اس شخص کے لیے رحمت کی دعا کی ہے، جو کچھ خریدتے بیچتے وقت نرمی اور فراخی سے کام لے چنانچہ خریدنے والے کے ساتھ سامان کی قیمت کے سلسلے میں سختی سے کام نہ لے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ اور اسى طرح خریدتے وقت بھی نرمی‘ سخاوت اور فراخی سے کام لے اور سامان کا بھاؤ کم نہ دے۔ اسی طرح قرض کا مطالبہ کرتے وقت بھی نرمی‘ سخاوت اور فراخی سے کام لے اور کسی تنگ دست اور محتاج کے ساتھ سختی سے کام لینے کی بجائے نرمی سے قرض کا مطالبہ کرے اور نادار ہونے پر مہلت بھی دے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک ایسے شخص کے بارے میں بتا رہے ہیں، جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا یا سامان ادھار بیچا کرتا تھا‘ اور قرض کی وصولی کے لیے لوگوں کے پاس جانے والے اپنے کارندے سے کہا کرتا تھا کہ: جب تم ایسے قرض دار کے یہاں جاؤ، جس کے پاس قرض چکانے کے لیے کچھ نہ ہو، تو اس کے ساتھ درگزر سے کام لو۔ یعنی یا تو اس سے اصرار کے ساتھ مطالبہ نہ کرو اور کچھ مہلت دے دو‘ یا پھر اس کے پاس کم و بیش جو بھی ہو لے لو۔ اپنے کارندے کو اس طرح کا حکم وہ اس امید میں دیا کرتا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ اس کے ساتھ درگزر سے کام لے اور اسے معاف کر دے۔ چنانچہ جب اس کی وفات ہوئی تو اللہ نے اس کے ساتھ درگزر سے کام لیا اور اس کے گناہ معاف کر دیے۔
حدیث کا مفہوم: جو شخص اپنےگھر یا اپنے شہر سے شرعی علم کے حصول کے لیے نکلتا ہے وہ اس شخص کی مانند ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹ آئے۔ کیونکہ ایسا شخص دین کے احیاء، شیطان کو نیچا دکھانے اور اپنے آپ کو مشقت میں مبتلا کرنے میں ایسے ہی ہے جیسے جہاد کرنے والا ہوتا ہے۔
اس حدیث میں اللہ کے نبی ﷺ تین باتوں کا حکم دے رہے ہيں: پہلی بات : تقوی اختیار کیا جائے۔ تقوی اختیار کرنے کا مطلب ہے، واجبات ادا کرنا اور حرام چیزوں کو ترک کرنا۔ خواہ زمان ومکان اور حالات جو بھی ہوں، سری طور پر بھی اور علانیہ طور پر بھی، امن و سکون کے وقت بھی اور آزمائش کی گھڑی میں بھی۔ دوسری بات : اگر کوئی برا کام ہو جائے، تو اس کے بعد کوئی اچھا کام کرو، جیسے نماز پڑھنا، صدقہ کرنا، بھلائی کرنا، صلہ رحمی کرنا اور توبہ کرنا وغیرہ۔ یہ چیزیں برائی اور گناہ کو ختم کر دیتی ہيں۔ تیسری بات : لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ جیسے مسکرا کر ملنا، نرم برتاؤ کرنا، بھلائی کرنا اور تکلیف نہ دینا وغیرہ۔
اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہيں کہ جب دو مسلمان اپنے اپنے ہاتھ میں تلوار لے کر ایک دوسرے کے مد مقابل آ جائیں اور دونوں ایک دوسرے کی جان لینے پر آمادہ ہوں، تو قاتل اپنے بھائی کا قتل کرنے کی وجہ سے جہنمی ہوگا۔ صحابہ کو حدیث میں کہی گئی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ مقتول کیوں جہنم میں جائے گا؟ چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ وہ جہنمی اس لیے ہوگا کہ وہ بھی اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ تھا اور وہ اپنے ارادے میں کام یاب اس لیے نہيں ہو سکا کہ اس کا مد مقابل اپنے ارادے میں کام یاب ہو گیا اور اس پر سبقت لے گیا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سارے اعمال کا اعتبار نیت کی بنیاد پر ہے۔ یہ حکم عبادات اور معاملات جیسے سبھی اعمال کے لیے عام ہے۔ جو شخص کسی منفعت کے پیش نظر کوئی کام کرے گا، اسے ثواب نہیں، بلکہ بس وہی منفعت حاصل ہوگی اور جو اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کوئی کام کرے گا، اسے اپنے عمل کا ثواب ملے گا، چاہے وہ عمل کھانے اور پینے جیسا معمول کے مطابق کیا جانے والا کام ہی کیوں نہ ہو۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اعمال پر نیت کے اثر کو بیان کرنے کے لیے ایک مثال پیش کی، جس میں ہم دیکھتے ہیں کہ عمل کی ظاہری شکل ایک ہونے کے باوجود ملنے والا نتیجہ الگ الگ ہے۔ آپ نے بتایا کہ جس نے ہجرت اور اپنا وطن چھوڑنے کے پیچھے نیت یہ رکھی کہ اللہ کی خوش نودی حاصل ہوجائے، اس کی ہجرت دینی ہجرت ہے اور اسے اس کی صحیح نیت کی وجہ سے ثواب ملے گا۔ اس کے برخلاف جس نے ہجرت کرتے وقت دنیوی منفعت، جیسے مال و دولت، عہدہ و منصب، تجارت اور شادی وغیرہ کو پیش نظر رکھا، اسے بس وہی منفعت حاصل ہوگی، جسے حاصل کرنے کی اس نے نیت کی تھی۔ اجر و ثواب اور نیکی اس کے حصے میں نہيں آئے گی۔
ایک صحابی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے گزارش کی کہ ان کو کوئی ایسی بات بتائيں، جو ان کے لیے سودمند ثابت ہو۔ لہذا آپ نے ان سے کہا کہ وہ غصہ نہ کیا کریں۔ یعنی ایک تو غصہ دلانے والی چیزوں سے بچیں اور دوسرا جب غصہ آجائے، تو اپنے اوپر قابو رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ غصے میں آکر قتل کر دیں، مار دیں یا گالی گلوج وغیرہ کرنے لگیں۔ اس صحابی نے کئی بار اپنی بات دہرائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ہر بار بس اتنا کہا کہ تم غصہ نہ کیا کرو۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ ہم دنیا اور دین سے متعلق تمام کاموں میں نفع حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کے معاملے میں اللہ پر بھروسہ کریں۔ کیوں کہ عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، فائدہ پہنچانے والا اور نقصان کرنے والا بس اللہ ہی ہے۔ اسی طرح ہم اللہ پر بھروسہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے اسباب اختیار کریں، جن سے منفعتیں حاصل ہوں اور مضرتوں سے بچا جا سکے۔ جب ہم ایسا کریں گے تو اللہ ہمیں اسی طرح روزی دے گا، جس طرح پرندوں کو روزی دیتا ہے، جو صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس ہوتے ہيں۔ دراصل پرندوں کا صبح کے وقت نکلنا طلب رزق کی سعی کی ایک شکل ہی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ وہ اللہ پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں یا سستی سے کام لیں اور ان کو روزی مل جائے۔