





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کے دن نکاحِ متعہ اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
متفق علیہنکاح سے شریعت کا مقصد اجتماعیت، دائمی بقا، محبت اور خاندان کی تعمیر و ترقی ہے۔ اسی لیے نکاح کی بعض صورتیں جو شریعت میں مقصدِ نکاح کے خلاف ہیں ان کو حرام قرار دیا گیا ہے۔بنابریں آپ ﷺ نے غزوۂ خیبر کے موقع پر نکاحِ متعۃ کو حرام کردیا۔ نکاحِ متعۃ یہ ہے کہ کوئی مرد کسی عورت سے ایک خاص وقت تک کے لیے شادی کرے۔ شروعِ اسلام میں یہ ضرورت کے پیشِ نظر جائز تھا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ان گدھوں کو کھانے سے بھی منع فرمایا جس کے مالک ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کی طرف رجوع کرتے ہیں، برخلاف وحشی گدھوں کے کہ ان کو کھانا جائز ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انھوں نےرسول اللہ ﷺ کو سنا کہ جب آپ ﷺ فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھاتے تو ”سَمِعَ الله لمن حَمِدَه“ اور”رَبَّنا ولك الحَمْدُ“ کہنے کے بعد فرماتے:”اللهمَّ الْعَنْ فُلانًا وفُلانًا“(اے اللہ فلاں اور فلاں پر لعنت فرما)۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ...﴾ ”اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں...“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: آپ ﷺ صفوان بن امیہ، سہیل بن عَمرو اور حارث بن ہشام کے لیے بد دعا کرتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ...﴾۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس حدیث میں ہمیں بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ جب فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر کو اٹھاتے، تو ”سمع الله لمن حمده“ کہنے کے بعد مشرکین کے کچھ سرکردہ افراد کے خلاف دعا کرتے۔ بسا اوقات آپ ﷺ ان کے نام بھی لیتے۔ ان لوگوں نے جنگ احد میں آپ ﷺ کو اذیت دی تھی۔ آپ ﷺ ان کا نام لے کر ان پر لعنت کرتے۔ اس پر اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی سرزنش کرتے ہوئے ایک آیت نازل فرمائی، جس میں آپ کو ایسا کرنے سے منع کیا گیا تھا: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ ”اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں“۔ منع اس لیے کیا گیا، کیوںکہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ عنقریب اسلام قبول کر کے بہت اچھے مسلمان بن جائیں گے۔
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص نے انہیں طلاق بتّہ ( تیسری طلاق) دے دی، اور وہ خود غیر حاضر تھے، (اور ایک روایت میں ہے کہ انھوں نے تین طلاقیں دے دیں) ان کے وکیل نے ان کی طرف سے کچھ جَو بھیجے، تو وہ اس پر ناراض ہوئیں، اس (وکیل) نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، اور یہ بات آپ کو بتائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب تمہارا خرچ اس کے ذمے نہیں“۔ اور آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں عدت گزاریں، پھر فرمایا: ”اس عورت کے پاس میرے صحابہ آتے جاتے ہیں، تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزار لو، وہ نابینا آدمی ہیں، تم اپنے کپڑے بھی اتار سکتی ہو۔ تم جب عدت گزار لو تو مجھے بتانا۔“ جب میں (عدت سے) فارغ ہوئی، تو میں نے آپ ﷺ سے بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہم دونوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابوجہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتے، اور رہے معاویہ تو وہ بہت فقیر ہیں، اس کے پاس کوئی مال نہیں، تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو“۔ میں نے اسے ناپسند کیا، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”اسامہ سے نکاح کرلو“۔ تو میں نے ان سے نکاح کرلیا، اللہ نے اس میں خیر ڈال دی اور اس کی وجہ سے مجھ پر رشک کیا جانے لگا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی فاطمۃ بنت قیسرضی اللہ عنہا کو طلاقِ بتّہ دی، یہ ان کی طرف سے اپنی بیوی کو آخری طلاق تھی۔ اور مبتوتہ (جس عورت کو شوہر نے طلاقِ بتّۃ دی ہو) کے لیے شوہر پر نفقہ واجب نہیں ہوتا، پھر بھی ابوعمرو رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے جَو بھیجا، فاطمہ رضی اللہ عنہا کا خیال تھا کہ عدت کے دوران ابو عمرو پر ان کا نفقہ واجب ہے، اس لیے انہوں نے اس جَو کو کم سمجھا اور ناپسند کیا۔ وکیل نے قسم کھائی ہم پر آپ کا کوئی حق لازم نہیں ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ ابو عمرو پر تمہارا نہ تو نفقہ (خرچ) ہے اور نہ ہی رہائش کی ذمہ داری ہے، اور انہیں حکم دیا کہ وہ ام شریک کے گھر میں عدت گزاریں۔ جب نبی ﷺ کو یہ بات یاد آئی کہ ام شریک کے یہاں تو صحابہ کا آنا جانا لگا رہتا ہے تو انہیں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے یہاں عدت گزارنے کو کہا کیوں کہ وہ نابینا ہیں، ان کا اپنے کپڑے نکال رکھنے کو نہیں دیکھیں گے، اور انہیں یہ حکم دیا کہ عدت کے ختم ہوجانے پر آپ ﷺ کو خبر دیں۔ جب انھوں نے اپنی عدت گزار لی تو معاویہ اور اور ابو جہم رضی اللہ عنہما نے انھیں نکاح کا پیغام بھیجا چنانچہ انھوں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق مشورہ کیا۔ چوں کہ جس سے مشورہ لیا جائے اُسے مشورہ لینے کے حق میں خیر خواہ ہونا چاہیے اس لیے آپ ﷺ نے دونوں میں کسی سے بھی شادی کرنے کا مشورہ نہیں دیا اس لیے ابوجہم عورتوں پر بہت سخت گیر تھے اور معاویہ رضی اللہ عنہ فقیر تھے اُن کے پاس مال نہیں تھا، اس لیے آپ ﷺ نے انھیں اسامہ سے نکاح کرنے کا مشورہ دیا جسے پہلی دفعہ انھوں نے ناپسند کیا، اس لیے کہ اسامہ ایک آزاد کردہ غلام تھے، تاہم انھوں نے نبی ﷺ کا حکم مانتے ہوئے اس رشتے کو بالآخر منظور کر لیا، جس کی برکت کے نتیجہ میں (لوگ) ان پر رشک کرنے لگے، اور اللہ تعالی نے ان (کے نکاح) میں خیرِ کثیر رکھ دیا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیّہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے ان کی آزادی کو ان کا مہر بنا دیا۔
متفق علیہصفیہ بنت حُيی کے والد بنو نضیر کے سردار تھے۔ ان کی بیٹی صفیّۃ كنانة بن ابی حقيق کی بیوی تھیں۔ ان کا شوہر خیبر کی لڑائی میں مارا گیا اور آپ ﷺ نے خیبر کو فتح کر لیا۔ عورتیں اور بچے مسلمانوں کے غلام بن گئے۔ ان میں صفیۃ بھی تھیں۔ وہ دِحیہ بن خلیفہ الكلبي رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔ آپ ﷺ نے انھیں صفیہ کے بدلے میں دوسری باندی دے دی اور ان (صفیہ) کی دل دہی نیز شوہر کے انتقال پر شفقت کا برتاؤ کرتے ہوئے انھیں اپنے لیے چن لیا۔ آپ ﷺ کی شرافت و احسان مندی تھی کہ آپ نے انھیں ایک حقیر باندی کی حیثیت سے فائدہ نہیں اٹھایا؛ بلکہ غلامی کی ذلت سے بچایا۔ عزت افزائی کی اور امہات المؤمنین میں شامل کر لیا۔ اس لیے کہ آپ نے انہیں آزاد کرکے ان سے شادی کی اور آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے کھجور اور غلہ کی نصف پیداوار کے بدلے (بٹائی کا) معاملہ کیا۔
متفق علیہخیبر کا شہر کاشتکاری کا شہر تھا، کچھ یہودی اس میں آباد تھے۔ جب آپ ﷺ نے سن سات (7) ہجری میں خیبر کو فتح کیا اور اس کی زمینیں اور کھیتیاں غنیمت حاصل کرنے والوں کے درمیان تقسیم کردیں، مسلمان کھیتی باڑی اور زراعت کے بجائے اللہ کے راستے میں جہاد اور دعوت وتبلیغ میں مصروف تھے اور خیبر کے یہودی ایک طویل عرصے سے مشقت اٹھانے اور تجربے کی وجہ سے زراعت کے کاموں کو زیادہ بہتر جانتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے خیبر کے گزشتہ مالکوں کو اسی زراعت اور درختوں کی دیکھ بال پر قائم رکھا، اس شرط پر کہ وہ اپنے کام کے عوض آدھے پھل اور کھیتی کی پیداوار میں سے آدھی پیداوار لیں گے اور دوسرا نصف حصہ اصل مالک ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کو دیں گے۔
عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور اس کے بچہ کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے دونوں کو حکم دیا تو ان دونوں نے لعان کیا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے بیٹے کا فیصلہ عورت کے حق میں کیا اور دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کرا دی۔
متفق علیہاس حدیث میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی اور اس کے بچے کے نسب کا انکار کیا اور اس سے براءت ظاہر کی، عورت نے اس کے دعوے میں اس کی تکذیب کی اور زنا کا اقرار نہیں کیا۔ دونوں نے لعان کیا یعنی شوہر نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر چار مرتبہ یہ کہا کہ وہ اس تہمت لگانے میں سچا ہے اور پانچویں دفعہ اپنے اوپر لعنت کی۔ پھر بیوی نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر چار مرتبہ کہا کہ شوہر جھوٹا ہے اور پانچویں دفعہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے غصے کا دعویٰ کیا۔ جب ان کے درمیان لعان پوری ہوگئی، تو اللہ کے نبی ﷺ نے ان کے درمیان ہمیشہ کے لیے جدائی کرا دی اور بچے کا نسب عورت سے ثابت کرتے ہوئے اس کے تابع بنایا اور مرد سے نسب ختم کر دیا۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: فلان بن فلان نے كہا: اے اللہ کے رسول! یہ بتائیں کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو زنا کرتا ہوا پا لےتو اسے کیا کرنا چاہیے؟ اگر وہ کچھ بولے گا تو اس کا بولنا بہت بڑی بات ہو گی اور اگر چپ رہے گا تو اتنی ہی بری بات پر خاموش رہے گا؟ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا۔ بعد ازاں وہ شخص دوبارہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے جو بات آپ سے پوچھی تھی میں خود اس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔ اس پر اللہ عز و جل نے سورۂ نور کی یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُم...الخ﴾ ”جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں...مکمل آیت“ آپ ﷺ نے یہ آیات اس کے سامنے تلاوت فرمائی اور اسے وعظ و نصیحت کیا اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ (اس لیے اگر تم نے جھوٹ بولا ہے تو تسلیم کرلو اور تہمت کی سزا برداشت کر لو)۔ لیکن اس نے جواب دیا کہ: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں نے اس پر بہتان نہیں لگایا۔ پھر آپ ﷺ نے اس عورت کو بلایا اور اسے نصیحت کی اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ وہ کہنے لگی: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! یہ شخص جھوٹا ہے۔ آپ ﷺ نے مرد سے شروع کیا اور اس نے اللہ کی قسم اٹھا کر چار دفعہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں دفعہ اس نے کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد آپ ﷺ عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور اس نے بھی چار دفعہ اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے گواہی دی کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں دفعہ اس نے کہا کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب ہو۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ان دونوں کے مابین جدائی کرا دی۔ پھرفرمایا: اللہ تعالی جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنا چاہتا ہے؟ آپ ﷺ نے ایسا تین دفعہ فرمایا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: تمہارا اب اس عورت پر کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا مال؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں۔ اگر تم اس کے معاملہ میں سچے ہو تو وه تمہارے اس کی شرم گاہ کو حلال کرنے کے بدلے ميں ہے اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو وہ (مال) تمہارے ليے اس عورت سے اور بھی زيادہ دور ہے۔
متفق علیہاسلام نے لعان کو ایک معاشرتی مسئلے کا حل پیش کرنے کے لیے مشروع کیا ہے، اور وه مسئلہ یہ ہے کہ اگر شوہر كسی کو دیکھےكہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر رہا ہے اور اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو وہ لعان کا سہارا لے گا۔ لیکن محض شک اور وسوسے کی صورت میں وہ ایسا نہیں کرے گا، بلکہ ایسا اس وقت ہوگا جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ اس لیے کہ لعان کے بارے میں بڑی وعید آئی ہے۔ جس شخص کا یہ قصہ ہے اسے گویا اپنی بیوی کی حالت مشکوک ومشتبہ محسوس ہوئی اور اسے اندیشہ لاحق ہوا کہ اس سے بدکاری کا ارتکاب نہ ہو جائے۔ چنانچہ وہ اپنے معاملے میں تذبذب کا شکار ہوگیا۔ کیونکہ اس پر تہمت لگانے کی صورت میں اگر وہ گواہ نہ لا سکا تو اس پر حد لاگو ہوتی اور اگر چپ رہتا تو یہ دیوثیت اور باعث عار بات تھی۔ چنانچہ اس نے اپنے ان خیالات کا اظہار نبی ﷺ کے سامنے کیا۔ آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ آپ ﷺ کو یہ ناپسند تھا کہ کسی شے کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کے بارے میں پوچھا جائے اور دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ یہ برائی میں جلدی کرنے اور اس کی ابتداء کرنے کی قبیل سے تھا اور مزید یہ کہ نبی ﷺ پر اس معاملے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ بعدازاں اس سائل کو اپنی بیوی سے جس زنا کا اندیشہ تھا اسے اس نے دیکھ لیا تو اس کے حکم اور اس کی بیوی کے حکم کے بارے میں اللہ تعالی نے سورۂ نور کی یہ آیات نازل فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُم﴾ ”جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں“ (النور: 60)۔ نبی ﷺ نے ان آیات کو اس شخص پر تلاوت فرمائی اور اسے وعظ و نصیحت کی کہ اگر وہ اپنی بیوی پر تہمت لگانے میں جھوٹا ہے تو جان لے کہ دنیا کا عذاب - جو کہ حدِ قذف ہے -، آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ اس شخص نے قسم اٹھائی کہ اس نے اپنی بیوی پر زنا کا جھوٹا الزام نہیں لگایا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی بیوی کو بھی نصیحت فرمائی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب - جو کہ حدِ زنا یعنی رجم ہے - وہ آخرت کےعذاب سے ہلکا ہے۔ اس نے بھی قسم اٹھائی کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے دونوں میں سے اس سے ابتدا کی جس سے اللہ نے ابتدا کی ہے یعنی شوہر سے۔ چنانچہ اس نے چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ اس نے اس عورت پر جو الزام لگایا ہے اس میں وہ سچا ہے اور پانچویں بار میں اس نے کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر آپ ﷺ عورت کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس نے بھی چار دفعہ اللہ کی قسم اٹھا کر گواہی دی کہ وہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں بار میں اس نے کہا کہ اگروہ اپنے دعوے میں سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ان دونوں کے مابین ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدائی کرا دی۔ چوں کہ ان میں سے ایک جھوٹا تھا اس لیے نبی ﷺ نے انہیں توبہ کرنے کی پیش کش کی۔ شوہر نے اپنا حق مہر طلب کیا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: تمہیں حق مہر واپس نہیں ملے گا۔ اگر تم اپنے اس دعوی میں سچے ہو کہ اس عورت نے زنا کیا ہے تو یہ حق مہر تمہارا اس کی شرم گاہ کو حلال کرنے کے عوض ہو جائے گا کیونکہ وطی سے حق مہر ثابت ہو جاتا ہے۔ اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام دھرا ہے تو پھر حق مہر تمہاری دسترس سے اس عورت سے اور بھی زیادہ دور ہے کیونکہ تم نے اس پر یہ بہتان عظیم لگایا ہے۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کا خاوند وفات پا گیا ہے اور اس کی آنکھ دکھتی ہے، کیا ہم اس کی آنکھ میں سر مہ لگا سکتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں، آپ ﷺ نے ایسا دو یا تین دفعہ کہا، اور پھر فرمایا: ”یہ صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں تو تم عورتيں سال کے اختتام پر مینگنی پھینکا کرتی تھيں“۔ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: (زمانہ جاہلیت میں) جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک تنگ وتاریک کوٹھڑی میں چلی جاتی،اور گھٹیا قسم کے کپڑے پہنتی، وہ نہ خوشبو لگاتی اورنہ ہی زیب وزینت کی کوئی اور چیز استعمال کرتی یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ایک سال گزر جاتا۔ پھر کسی جانور - گدھے، یا پرندے یا بکری - کو اس کے پاس لایا جاتا اور وہ (عدت سے باہر آنے کے لیے) اس کے ساتھ اپنا جسم رگڑتی۔ ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ جس سے اپنا جسم رگڑتی تھی وہ مر نہ جائے! پھر وہ باہر آتی اور اسے ایک مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی۔ اس کے بعد وہ خوشبو یا جو بھی شے چاہتی استعمال کرتی۔
متفق علیہاسلام نے آ کر لوگوں کو بارِ جاہلیت سے چھٹکارا دلایا، خاص طور پر عورت کو۔ زمانۂ جاہلیت میں لوگ عورت کے ساتھ بہت برا سلوک کرتے اور اس پر ظلم ڈھاتے تھے۔چنانچہ اسلام نے عورت کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا۔ اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ سے ایک مسئلہ میں شرعی حکم دریافت کرنے کے لئے آئی۔ اس نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اس کی بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا اور وہ اس کی وفات پر سوگ میں بیٹھی ہے۔ سوگ میں بیٹھی عورت زیب و زنیت سے گریز کرتی ہے، لیکن اس کی آنکھوں میں درد ہے۔ تو کیا اس کے لیے سرمہ استعمال کرنے کی رخصت ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: نہیں۔ آپ ﷺ نے بطور تاکید بار بار ایسا فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے اس مدت میں کمی فرما دی جس میں عورت کا اپنے خاوند کی حرمت کے پیش نظر سوگ میں بیٹھنا ضروری ہے، اور وہ چار ماہ اور دس دن ہیں۔ تو کیا وہ اس تھوڑی سی مدت بھی صبر نہیں کر سکتی جس میں کچھ آسانی ہے۔ حالانکہ زمانۂ جاہلیت میں عورتوں کا یہ حال تھا کہ تم میں سے جو عورت سوگ میں ہوتی وہ جنگلی جانور کی بل کی طرح کے ایک چھوٹے سے گھر میں گھس جاتی اور زیب و زینت، خوشبو، پانی کے استعمال اور لوگوں کے ساتھ میل جول سے گریز کرتی تھی۔ اس کی وجہ سے اس پر تہ در تہ میل کچیل اور گندگیاں جم جاتیں۔ وہ پورے ایک سال لوگوں سے الگ تھلگ رہتی۔ جب اس سے وہ فارغ ہوتی تو اسے ایک مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینک دیتی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہوتا کہ اس پر جو تنگی و سختی اور پریشانی آئی ہے وہ خاوند کے حق کے مقابلے میں اس مینگنی کے بھی برابر نہیں۔ اسلام نے آکر اس سختی کو ان کے لیے نعمت اور تنگی کو کشادگی میں بدل دیا۔ کیا اب وہ اپنی آنکھ میں سرمہ لگانے سے صبر نہیں کر سکتی۔ چنانچہاس کے لیے کوئی رخصت نہیں تاکہ کہیں سوگ پر بیٹھی عورت کے لیے اس کی وجہ سے زیب و زینت کا دروازہ نہ کھل جائے۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کتے کی قمیت خبیث ہے، فاحشہ کی مہر (خرچی) خبیث ہے اور پچھنے لگانے والے کی کمائی خبیث ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی کریم ﷺ نے ہمیں ناپاک اور نجس کمائی کے متعلق آگاہ فرمایا تاکہ ہم انہیں چھوڑ کر پاکیزہ ذرائع اختیار کریں۔ خبیث ذرائع آمدنی میں سے کتے کی قیمت، فاحشہ کے زنا کی کمائی اور پچھنے لگانے والے کی کمائی ہے۔