





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو کبشہ عمرو بن سعد انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین باتیں ہیں، جن کی حقانیت و صداقت پر میں قسم کھا تاہوں اور میں تم سے ایک بات کہتا ہوں جسے تم یاد رکھنا اور اس پر عمل پیرا ہونا؛ بندے کا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ (دوسری بات یہ کہ) جس شخص پر ظلم کیا جائےاور وہ اس ظلم و زیادتی پر صبر کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتا ہے اور جس شخص نے اپنے نفس پر سوال کا دروازہ کھولا (یعنی بلا ضرورت مانگا)، اللہ تعالیٰ اس کے لیے فقر و افلاس کا دروازہ کھول دیتا ہے،-یا اسی طرح کی کچھ بات کہی- اور ایک بات میں تم سے کہتا ہوں، تم اسے یاد رکھنا۔ فرمایا: یہ دنیا بس چار آدمیوں کے لیے ہے۔ ایک تو وہ بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال و زر بھی عطا کیا اور علم کی دولت سے بھی نوازا۔ پس وہ اپنے مال ودولت کے بارے میں اللہ سے ڈرتا ہے۔ اس کے ذریعہ اپنے قرابت داروں اور عزیزوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہے اور اس میں اللہ کا حق ادا کرتا ہے۔ یہ شخص سب سے بلند مرتبے والا ہے۔ دوسرا وہ بندہ ہے، جسے اللہ نے علم دیا۔ مال و دولت محروم رکھا۔ مگر اس کی نیت سچی ہے۔ وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا، تو میں فلاں شخص جیسا کام کرتا۔ ایسے شخص کو اس کی نیت کے مطابق بدلہ ملے گا اوران دونوں کا اجر برابر ہوگا۔ تیسرا بندہ وہ ہے، جسے اللہ نے صرف مال دیا اور علم سے محروم رکھا۔ وہ علم نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مال کے بارے بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے مال کے سلسلے میں نہ تو اپنے رب سے ڈرتا ہے، نہ قرابت داروں سے صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اس میں موجود اللہ کے حق کا پاس و لحاظ رکھتا ہے۔ یہ مرتبے کے لحاظ سے سب سے گھٹیا شخص ہے۔ چوتھا شخص وہ ہے، جسے اللہ نے نہ تو مال دیا اور نہ ہی علم۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں شخص کی طرح کام کرتا۔ اس کا معاملہ اس کی نیت کے مطابق ہوگا اور ان دونوں کا گناہ برابر ہوگا۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے تین خصلتوں پر قسم اٹھائی اور صحابہ کرام کو ایک اور بات بھی بتائی۔ وہ تین خصلتیں یہ ہیں: 1۔ بندے کا مال صدقہ دینے سے کم نہیں ہوتا۔ یعنی صدقہ دینے کی وجہ سے اس کی برکت میں کمی نہیں ہوتی۔ 2۔ جب کسی بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے، تو اللہ تعالی اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے۔ اگر اس ظلم میںک چھ بے عزتی بھی شامل ہو تو اللہ تعالی اسے عزت بخشتا ہے اور ظالم کو ذلیل کرتا ہے۔ 3۔ جب کوئی شخص بلا ضرورت لوگوں سے، صرف مال و دولت میں اضافے کے لیے مانگنا شروع کردیتا ہے، تو اللہ تعالی اسے فقر و فاقہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کے لیے کسی اور ضرورت کا دروازہ کھول دیتا ہے یا اس سے کوئی نعمت چھین لیتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے: 1- وہ جسے اللہ تعالی نے مال اور علم دونوں عطا کیا ہے، پس وہ شخص صحیح جگہ اس مال کو خرچ کرنے میں احتیاط کرتا ہے، اپنے علم پر عمل پیرا ہوتا ہے اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کرتا ہے۔ یہ شخص سب سے بلند مرتبہ والا ہے۔ 2- وہ بدہ جسے اللہ تعالی نے علم تو عطا کیا ہے لیکن مال عطا نہیں کیا، وہ اپنی نیت میں سچا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں اس پہلي آدمی کی طرح اسے خرچ کرتا، پس وہ اپنی تیت کے مطابق ہی ہوگا، پہلا اور دوسرا شخص اجر وثواب میں برابر ہیں۔ 3- تیسرا وہ شخص ہے جسے اللہ تعالی نے مال تو عطا کیا ہے لیکن علم نہیں دیا، پس وہ مال کے معاملہ میں بغیر علم کے بھٹک جاتا ہے، اس مال کے سلسلہ میں اپنے رب سے ڈرتا نہیں، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالی کا کوئی حق وہ جانا ہے، یہ شخص سب سے بدترین مرتبہ کا ہے۔ 4- چوتھا آدمی وہ ہے جسے اللہ تعالی نے نہ ہی مال عطا کیا ہے اور نہ ہی اسے علم سے نوازا ہے، وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں تیسرے شخص کی طرح اسے خرچ کرتا، پس وہ اپنی نیت کے مطابق ہے اور ان دونوں (تیسرے اور چوتھے شخص) کا گناہ برابر ہے۔
عبیداللہ بن محصن انصاری خطمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنی جان کی طرف سے بے خوف ہو، جسمانی اعتبار سے صحت مند ہو، ایک دن کی خوراک کا سامان اس کے پاس ہو، تو گویا اس کے لیے ساری دنیا جمع کردی گئی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے بے خوف ہو، ایک قول کی رو سے اپنے گھر اور قوم سے متعلق اسے کوئی خوف لاحق نہ ہو، جسمانی لحاظ سے صحت مند ہو اور اس کے پاس صبح شام کا کھانا ہو، تو اس نے گویا ساری دنیا پالی؛ بایں طور کہ گویا دنیا تمام اطراف سے اکٹھی اور جمع کرکے اس کے سامنے ڈال دی گئی۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَکِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَکَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا“ اے الله! میں عاجزی، سُستی، بخیلی، بڑھاپے اور عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میری ذات کو تقوی عطا فرما اور اسے پاکیزہ کر دے، تو ہی اسے بہتر پاکیزگی دینے والا ہے۔ تو ہی اس کا ولی و مالک ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جس میں خوف نہ ہو، ایسے نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔پناہ مانگنا قلبی عبادات میں سے ہے جس کو صرف اللہ تعالی ہی کے لیے خاص کرنا ہے۔ عاجزی اور سستی دونوں ساتھی ہیں اور بھائی بھائی ہیں جو دنیا اور آخرت کی بھلائی کی راہ مسدود کردیتے ہیں۔ یہ دونوں عجز، کاہلی، اور لاپرواہی کا شاخسانہ ہوتے ہیں۔ اگر رکاوٹ خود بندے کی پیدا کردہ ہو تو اسے "کسل" (سستی) کہا جاتا ہے۔ اگر کام میں رکاوٹ بندے کی طرف سے پیدا نہ کی گئی ہو بلکہ یہ اس وجہ سے ہو کہ اس میں اس کے کرنے کی طاقت نہیں ہے تو اسے عاجزی کہا جاتا ہے۔ بخل کا معنی ہے مال کو روکے رکھنا اور اسے نیکی کے کاموں اور نفع بخش مصارف میں خرچ کرنے میں تنگدلی برتنا۔ نفس میں مال کی محبت اور اس کو جمع کرنے کی چاہت ہوتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے اکٹھا کرے اور ان مصارف میں اسے خرچ نہ کرے جن میں خرچ کرنے کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے۔ " هرِم " کا معنی یہ ہے کہ انسان لاچاری و مجبوری کی عمر تک جا پہنچے اور اتنا بوڑھا ہو جائے کہ اس کی طاقت ختم ہوجائے، عقل سٹھیا جائے اور ہمت جواب دے جائے۔ پھر نہ تو وہ دنیا کی کسی بھلائی کو حاصل کر سکے او نہ ہی آخرت کی بھلائی کو۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں ﴿وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ﴾ ”اور جسے ہم بوڑھا کرتے ہیں اسے پیدائشی حالت کی طرف پھر الٹ دیتے ہیں“۔ عذاب قبر برحق ہے، اس پر اہل سنت و جماعت کا اجماع ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے ﴿وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴾ ”ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے، ان کے دوباره جی اٹھنے کے دن تک“۔ قبر یا تو جنت کے باغات میں سے ایک باغیچہ ہو گی یا پھر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ اسی لیے بندے کے لیے مشروع کیا کہ وہ ہر نماز میں قبر کے عذاب سے اور اس کی خوفناکی اور شدت سے پناہ مانگے۔ " اللهم آت نفسي تقواها: یعنی میرے نفس کو احکام کی بجاآوری اور محرمات سے پرہیز کا خوگر بنا۔ ایک قول کی رو سے یہاں تقوی کا معنی وہ ہو گا جو فجور کے بالمقابل ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا﴾ ”پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی“۔ ”وزكها“ یعنی برائیوں سے اسے پاک فرما۔ ”أنت خير من زكاها“ یعنی نفس کو تیرے سوا کوئی اور پاک کرنے والا نہیں ہے اور اے رب نہ ہی تیرے سوا کوئی اور اسے پاک کر سکتا ہے۔ ”أنت وليها“ تو ہی اس کا مددگار اور اسے سنبھالنے والا ہے۔ ”ومولاها“ یعنی تو ہی اس کا مالک اور اس پر نعمتوں کا نزول کرنے والا ہے۔ ”اللهم إني أعوذ بك“۔ یعنی میں تیری حمایت میں آتا ہوں اور تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ ”من علم لا ينفع“ اس سے مراد وہ علم ہے جو بالکل بے سود ہو یا پھر وہ علم جس پر بندہ عمل نہ کرے اور وہ قیامت کے دن اس کے خلاف حجت بنا کھڑا ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’ قرآن یا تو تمہارے حق میں حجت ہو گا یا تمہارے خلاف۔ وہ علم جو نفع بخش نہیں ہوتا وہ باطنی اخلاق کو نہیں سنوارتا چنانچہ یہ نہیں ہوتا کہ ان سے سرایت کرتا ہوا ظاہری اعمال تک اس کا اثر پہنچے اوریوں وہ پورا ثواب پا سکے۔ ”قلب لا يخشع“ یعنی ایسا نفس جو اللہ کے ذکر کے وقت اور اس کا کلام سن کر ڈر میں مبتلا نہ ہو۔ ایسا دل بہت سخت ہوتا ہے۔ آپ ﷺ اللہ تعالی سے دعا فرما رہے ہیں کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے سے ڈرنے لگیں، اس کی چاہت میں ان کی خوشی ہو، ان کا سینہ اس میں ڈالے گئے نور کی بدولت روشن ہو جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو دل سخت ہو جا ئے گا چنانچہ ضروری ہے کہ اس سے اللہ کی پناہ مانگی جائے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم﴾ ”اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل سخت ہو گئے ہیں“۔ ”ونفس لا تشبع“ یعنی دنیائے فانی کی حرص کی وجہ سے اور طمع و لالچ اور لمبی امیدیں پالنے کے بسبب سیر نہیں ہوتا۔ ”ومن دعوة لا يستجاب لها“ یعنی میں ایسے اسباب اور مقتضیات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جن کی وجہ سے دعا رد کر دی جاتی ہے۔ دعا کی قبولیت نہ ہونا دھتکارنے اور غضب کی علامت ہے کیونکہ دعا کا رد ہو جانا دراصل دعا مانگنے والے کے رد ہونے کی علامت ہے برخلاف مومن کی دعا کے جو کبھی رد نہیں ہوتی۔ یا تو دنیا ہی میں وہ قبول ہو جاتی ہے یا پھر اس دعا کی بدولت اللہ تعالی اس سے اس کے بقدر مصیبت دور کر دیتا ہے یا پھر یہ آخرت کے لیے رکھ چھوڑی جاتی ہے۔مومن کی دعا کبھی بھی ضائع نہیں ہوتی برخلاف کافر کی دعا کے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ﴾ ”اور کافروں کی دعا محض بے اﺛر اور بےراه ہے“۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ؛ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ؛ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ“ اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں، یہ بہت بری ہم نشین ہے اور میں خیانت سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں، یہ بہت بری ہم راز ہے۔ (یعنی بہت بری باطنی خصلت ہے۔)
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے بھوک سے پناہ مانگی کیوں کہ بھوک بہت بری ساتھی ہے؛ اس لیے کہ یہ دل و جان کے چین کو سلب کر لیتی ہے اور اسی طرح آپ ﷺ نے انسانوں اور اللہ کی امانت میں خیانت سے بھی پناہ مانگی؛ کیوںکہ یہ آدمی کی بہت ہی بری خصلت ہوتی ہے۔
علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مکاتب غلام ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ: میں اپنا ’مالِ کتابت‘ دینے سے عاجز آ گیا ہوں، میری کچھ مدد کریں۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:" کیا میں تمہیں کچھ ایسے کلمات نہ سکھا دوں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے۔ اگر تمہارے اوپر پہاڑ برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تمہاری طرف سے اس کی ادائیگی کے اسباب مہیا کر دے گا؟ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ اكْفِني بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِواكَ“ اے اللہ! جن اشیاء کو تو نے حرام کیا ان سے بچاتے ہوئے اپنی حلال کردہ اشیاء کو میرے لیے کافی کر دے اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کردے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں ایک مکاتب غلام کا ذکر ہے۔ مکاتب وہ شخص ہوتا ہے جس نے اپنے آقا سے کچھ قسط وار ادا کیے جانے والے مال کے عوض اپنی آزادی خریدنے کا معاہدہ کر لیا ہو۔ لیکن اس غلام کے پاس اپنے آقا کو قرض ادا کرنے کے لیے مال نہیں تھا چنانچہ اس نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ قرض کی ادائیگی میں اس کی مدد کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک ربانی علاج کی طرف رہنمائی فرمائی جو ایک دعا تھی جسے نبی ﷺ نے انہیں سکھایا تھا کہ اگر وہ پورے اخلاص سے یہ دعا مانگے تو اس کی طرف سے اللہ اس کا قرض ادا کر دے گا اگرچہ وہ پہاڑ برابر ہی کیوں نہ ہو۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ اكْفِني بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِواكَ“ اے اللہ! جن اشیاء کو تو نے حرام کیا ان سے بچاتے ہوئے اپنی حلال کردہ اشیاء کو میرے لیے کافی کر دے اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کردے۔ یعنی اے اللہ میرے لیے حلال روزی میں کفایت شعاری عطا فرما، جو مجھے حرام کی ضرورت سے بے نیاز کردے، اور میرے لیے اپنے فضل وکرم سے رزق مہیا فرما جو مجھے لوگوں سے مانگنے سے بے نیاز کردے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(بنی اسرائیل میں) ایک شخص ایک جوڑا پہن کر کبر و غرور میں سر مست ، سر کے بالوں میں کنگھی کیے ہوئے اکڑ کر اتراتا ہوا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا۔ اب وہ قیامت تک اس میں دھنستا رہے گا“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے بتایا کہ ایک آدمی خوب صورت لباس میں ملبوس بالوں کو سنوارے ہوئے متکبرانہ انداز میں چل رہا تھا کہ اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا۔ چنانچہ زمین اس کے لیے پھٹ گئی، وہ اس میں گھس گیا اور آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ چنانچہ قیامت تک وہ اس میں دھنستا رہے گا؛ کیوں کہ اس نے کبر و غرور اور گھمنڈ کیا تو اسے دھنسا دیا گیا۔ آپ کے فرمان: ”وہ قیامت تک اس میں دھنستا رہے گا“ کا ایک مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ دنیون زندگی کی طرح زندہ حالت میں دھنستا رہے گا، اسی طرح قیامت تک عذاب دیا جاتا رہےگا، زمین کے اندر زندہ حالت میں عذاب ک سامنا کرتا رہے گا اور زندوں کی طرح اس کا دکھ جھیلتا رہے گا۔ دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جب وہ زمین کے اندر چلا گیا، تو مرگیا، جیسا کہ اللہ عزّ وجلّ کی عام سنت ہے۔ لیکن وہ مرنے کے باوجودزمین میں دھنستا رہے گا اور اس کا یہ دھنسنا عالم برزخ کا ایک حصہ ہے، جس کی کیفیت ہم نہیں جانتے۔ بلکہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کی یہ اس کے عمل کا بدلہ ہے۔ العیاذ باللہ!
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس مرض میں رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، اس میں علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ہاں سے باہر آئے۔ لوگ پوچھنے لگے: اے ابو الحسن! آج رسول اللہ ﷺ نے صبح کیسے کی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ہاں سے باہرآئے، جب کہ آپ ﷺ اس مرض میں مبتلا تھے، جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے داماد اور چچا زاد تھے۔ علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ: آج نبی ﷺ نے کیسے صبح کی ہے؟۔ یہ سوال صحابۂ کرام کی نبی ﷺ کےساتھ چاہت و محبت اور آپ ﷺ کےلیے ان کی فکرمندی کی بنا پر تھا۔ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے یہ دعا کرتے تھے:”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ“ اے اللہ! میں عاجز ہونے، سستی، بزدلی، بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ ایک روایت میں ہے: ”قرض کے بوجھ اور لوگوں کے قہر اور غلبے سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہیہ حدیث جوامع الکلم میں شمار ہوتی ہے، جوامع الکلم سے مُراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کم الفاظ میں زیادہ معانی بیان کریں، اس لیے کہ آپ ﷺ نے اس میں ان تمام آفات اور شرور سے پناہ مانگی جو اللہ کی طرف بندے کے متوجہ ہونے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ آپ ﷺ نے عجز اور سستی سے پناہ مانگی، یہ دونوں کام نہ کرنے اور حرکت کرنے میں ایسی رکاوٹیں ہیں جو قریب قریب ہیں۔ یاتو ہمت کمزور ہونے کی وجہ سے یا ارادے کی کمی کی وجہ سے، یہ سستی ہے۔ سست لوگ سب سے کم ہمت اور کم رغبت رکھنے والے ہوتے ہیں اور کبھی کام نہ کرنا بندے کے قدرت نہ رکھنے کی وجہ سے ہوتا ہے اسے عاجز کہتے ہیں۔ ’’بزدلی‘‘ اور ’’بخل‘‘ سے آپ ﷺ نے پناہ مانگی۔ یہ دونوں چیزیں واجب کی ادائیگی اور احسان کی راہ میں رکاوٹ ہیں، بزدلی انسان کے دل کو کمزور کرتی ہے، پھر وہ دل کے کمزور ہونے اور اللہ کے سوا لوگوں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے نہ امر بالمعروف کر سکتا ہے اور نہ نہی عن المنکر کر سکتا ہے۔ ’’بخل‘‘ انسان کو خرچ کرنے کے موقعوں پر خرچ کرنے سے روکتا ہے، بخیل شخص اللہ تعالیٰ کا حق زکوٰۃ نہیں دیتا اور مخلوق پر خرچ کرنے سے باز رہ کر ان کا حق ادا نہیں کرتا۔ چنانچہ یہ اللہ اور لوگوں دونوں کے ہاں مبغوض رہتا ہے۔ " ھَرِم" یعنی انسان کا ارذلِ عمر (کھوسٹ بڑھاپا) کو پہنچ جانا۔ جب انسان انتہائی بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے تو اپنے اکثر حواس کو وہ کھو بیٹھتا ہے، اس کے قُویٰ کمزور ہوجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے نہ وہ اللہ کی عبادت کرسکتا ہے اور نہ ہی وہ اپنے گھر والوں کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے عذابِ قبر سے پناہ مانگی، عذاب قبر برحق ہے۔ اسی لیے اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ ہم ہر نماز میں اس عذاب سے اللہ کی پناہ مانگے۔ پھر آپ ﷺ نے زندگی اور موت کی آزمائشوں سے پناہ مانگی جو کہ دونوں جہانوں کو شامل ہیں، ’’زندگی کی آزمائشوں‘‘ سے مراد دنیوی مصائب اور امتحانات ہیں اور ’’موت کی آزمائشوں‘‘ سے مراد برا خاتمہ اور بُری عاقبت اور قبر میں منکر نکیر کے سوالات وغیرہ ہیں۔ ایک روایت میں ہے”قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ یہ دونوں ظلم وستم ہیں، قرض کا بوجھ اس کی سختی، بار گراں اور اس حال میں کوئی مدد گار کا نہ ہونا یہ آدمی کے لیے ظلم وستم کی حالت ہے جو کہ بجا ہے (یعنی ایسا ہونا قرض دینے والے کی طرف سے کوئی ناحق ظلم نہیں ہے)، ’’غلبة الرجال‘‘ یعنی لوگوں کا تسلط یہ ظلم وستم ناجائز اور باطل ہے۔
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ جب سفر کرتے، تو سفر کی دشواری، لوٹنے کے وقت کے رنج و غم، خوش حالی کے بعد بدحالی، مظلوم کی بد دعا اورگھر بار اور مال میں بری صورت حال سے پناہ مانگتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ سفر کی سختی اور سفر سے ایسی واپسی سے اللہ کی پناہ طلب کرتے تھے کہ خود غم زدہ ہوں اور اپنے مال یا اولاد کو ناپسندیدہ حالت میں پائیں۔ اسی طرح بری صورت حال سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے اور اللہ سے مظلوم کی بددعا سے بچنے کی دعا مانگتے تھے۔