





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو العباس سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے میں کرلوں تو اللہ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔“
اسے ابن ماجہ وغیرہ نے حسن اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے۔ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے عرض کیا کہ آپ اسے کوئی ایسا عمل بتلا دیں جسے وہ کرنے لگے تو اللہ کی محبت حاصل ہو جائے اور لوگوں کی محبت ملنے لگے۔ لہذا اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے فرمایا: اللہ کی محبت اس وقت حاصل ہوگی، جب تم دنیا کی زائد اور ایسی چیزوں کو چھوڑ دو، جو آخرت میں نفع بخش نہ ہوں اور جن سے دین کا نقصان ہو سکتا ہو۔ جب کہ لوگوں کی محبت اس وقت حاصل ہوگی، جب تم ان کے پاس موجود دنیا کی لالچ نہ کرو۔ کیوں کہ اپنے پاس موجود دنیا سے محبت فطری طور پر ہر انسان کو ہے۔ لہذا اس معاملے میں مزاحمت کرنے والے سے اسے نفرت ہوگی اور اس پر توجہ نہ دینے سے محبت ہوگی۔
ابو عبد اللہ جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جہاں بھی تم چلے اور جس وادی کو بھی تم نے طے کیا وہ ( ہر ایک کے اجر میں) تمہارے ساتھ تھے، انہیں مرض نے تمہارے ساتھ آنے سے روک رکھا تھا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ تمہارے ساتھ اجر میں شریک ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ غزوۂ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے پیچھے مدینہ میں کچھ لوگ ہیں۔ ہم جس گھاٹی اور وادی میں بھی اترے وہ ہمارے ساتھ تھے۔ انہیں عذر نے روک لیا تھا“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ ایسے لوگوں کے بارے میں بتا رہے ہیں جو کسی مرض یا اس طرح کی کسی اور مجبوری کی وجہ سے جہاد فی سبیل اللہ میں شریک نہ ہو سکے۔ آپ ﷺ بتا رہے ہیں کہ جہاد کرنے والے جتنا بھی چلے ہیں اور انہوں نے جس وادی اور گھاٹی کو بھی عبور کیا ہے ان کے اس عمل کا ثواب ان لوگوں کے لیے بھی لکھا گیا ہے۔
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔“
اسے امام احمد‘ ترمذی‘ نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہےاللہ کے نبی ﷺ ہمیں یہاں طب کا ایک اصول بتا رہے ہیں، جس سے انسان اپنی صحت کی حفاظت کر سکتا ہے۔ یہ اصول ہے کم کھانا کھانا۔ کھانا بس اتنا کھایا جائے کہ انسان زندہ رہے اور ضروری کاموں کے لیے توانائی مل جائے۔ بھرا جانے والا سب سے بدترین برتن دراصل پیٹ ہے کہ پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے نتیجے میں بے شمار ظاہر و باطنی بیماریاں جلد یا بدیر سامنے آتی ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اگر انسان کو پیٹ بھر کر کھانا کھانا ہی ہو، تو ایک تہائی حصے کے بہ قدر کھانا کھائے، ایک تہائی حصے کے بہ قدر پانی پیے اور ایک تہائی حصہ سانس لینے کے لیے رکھے، تاکہ پریشانی، نقصان اور دینی و دنیوی فرائض کی ادائیگی میں سستی نہ ہو۔
انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی ﷺ نے ایسا خطبہ دیا کہ کبھی ایسا خطبہ نہیں دیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روو زیادہ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیا اور وہ سسکیاں بھر بھر کے رو رہے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ تک اپنے صحابہ سے متعلق کوئی بات پہنچی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا۔ میں نے آج جتنی خیر اور شر دیکھی ہے اتنی کبھی نہیں دیکھی۔ اگر تم وہ کچھ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر اس سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں گزرا۔ انہوں نے اپنے سر ڈھانپ رکھے تھے اور سسکیاں بھر بھر کر رو رہے تھے۔
متفق علیہنبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو ایک ایسا وعظ فرمایا کہ اس طرح کا وعظ پہلے کبھی نہیں فرمایا تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں فرمایا: میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا۔ میں نے جنت میں آج جتنی خیر دیکھی اس سے زیادہ میں نے کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی میں نے اتنا شر کبھی دیکھا ہے جتنا میں نے آج دوزخ میں دیکھا ہے۔ اگر تم آخرت کی ہولناکیوں کو اور جنت کی نعمتوں اور دوزخ میں جو عذاب ہو گا اس کو ویسے جان لو جیسے میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے لیے اس سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں تھا۔ وہ زار و قطار رو رہے تھے۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب اپنا دستر خوان اٹھاتے تو فرماتے: الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔ ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے، ایسی تعریف جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور با برکت ہے اس حال میں کہ اس کی ذات کسی کی محتاج نہیں اور نہ ہی اس کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی برتی جاسکتی ہے، اے ہمارے رب!“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: نبی ﷺ اپنے صحابہ کو اقوال و افعال کے ذریعے سنت کی تعلیم دیتے۔ آپ ﷺ سے جو اذکار مذکور ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب آپ ﷺ اپنے سامنے موجود کھانے کے برتن اٹھاتے تو فرماتے: ”الحَمْدُ للهِ“ اس کا معنی یہ ہے کہ ہر قسم کی تعریف اور شکر در حقیقت صرف اور صرف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور اس کا سزاوار نہیں۔ ”حَمْداً كثِيراً“ یعنی بکثرت تعریف جو اس کی عظمت اور جمال و کمال کے شایان شان ہے اور ایسا شکر جو اس کی ان گنت نعمتوں اور ناقابلِ احاطہ احسان کے مقابل ہے۔ ﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾ ”اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہ کر سکو گے“۔ ”طَيِّبًا“ یعنی جو ریا اور جذبۂ ناموری سے پاک ہو۔ ”مُبَارَكًا“ یعنی جس میں قبولیت ہو جسے رد نہ کیا جائے۔ کیونکہ برکت کا معنی ہے خیر۔ اور جو عمل مقبول نہیں ہوتا اس میں کچھ خیر نہیں ہوتی۔ ”غير مَكْفِي“ یعنی ہم اللہ عزّ وجلّ کی تعریف کرتے ہیں اس حال میں کہ وہی اپنے بندوں کی کفایت کرنے والا ہے، اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کی کفایت کرنے والا نہیں کیونکہ اسے کسی کی ضرورت نہیں۔ ”وَلَا مُوَدَّعٍ“ یعنی ہم اللہ سبحانہ و تعالی کی حمد بیان کرتے ہیں اس حال میں کہ اسے چھوڑا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ہم میں سے کوئی اسے چھوڑتا ہے کیونکہ ہم سب اس کے محتاج ہیں۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک کھجور کا تنا تھا، جس پر نبی کریم ﷺ دوران خطبہ ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبر رکھ دیا گیا اور( آپ نے اس تنے پر ٹیک لگانا چھوڑ دیا) تو ہم نے اس کے رونے کی ایسی آواز سنی، جیسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی آواز کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، تو اسے سکون ہوا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب جمعے کا دن آیا، تو نبی ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اس پر اس کھجور کے تنے نے ایک چیخ ماری، جس کے پاس کھڑے ہو کر آپ ﷺ خطبہ دیا کرتے تھے اور قریب تھا کہ وہ پھٹ ہی جاتا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس نے بچے کی طرح چلانا شروع کر دیا ۔ اس پر نبی ﷺ نیچے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔ وہ اس بچے کی طرح سسکیاں بھرنا شروع ہو گیا، جسے چپ کرایا جا رہا ہو، یہاں تک کہ پرسکون ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس ذکر (سے محروم ہونے) کی وجہ سے رویا ہے، جسے یہ سنا کرتا تھا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے کھجور کے ایک تنے کو اپنا منبر بنا رکھا تھا۔ جب آپ ﷺ نے اسے بدل لیا، تو تنے سے رونا کی آواز سنائی دی، کیوںکہ اب وہ اس ذکر سے محروم ہو گیا تھا، جو وہ سنا کرتا تھا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، تو وہ پر سکون ہو گیا، ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نیچے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔ یہ خطبہ جمعہ کے وقت کی بات ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا“۔
متفق علیہنبی کریم ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ مومن ایک جگہ سے دو دفعہ گزند نہیں اٹھاتا۔ چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ محتاط، چوکنا اور بیدار مغز رہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ انجانے میں اسے آ لیا جائے اور وہ دھوکہ کھا جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ ”تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے“، اور فرمایا: لوگوں کے لیے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو ان کی گردنوں میں زنجیریں ڈالے انہیں لے کر آتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزّ و جلّ کو ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہےجو بیڑیوں میں جکڑے جنت میں داخل ہوں گے“۔
متفق علیہاللہ سبحانہ و تعالیٰ ان لوگوں پر تعجب کا اظہار فرماتا ہے جنہیں پابندِ سلاسل جنت کے طرف لے جایا جائے گا۔ یہ وہ کافر لوگ ہیں جنہیں مسلمان دوران جہاد قیدی بنا لیتے ہیں اور بعدازاں وہ مسلمان ہو جاتے ہیں اور اس طرح سے یہ قید ان کے قبولِ اسلام اور دخولِ جنت کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ دوسری حدیث پہلی والی موقوف حدیث کی تفسیر اور وضاحت سمجھی جاتی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ دوسرے لوگوں کے حق میں سب سے بہتر لوگ ہیں کیونکہ وہ ان قیدیوں کی ہدایت کا سبب بنتے ہیں۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے کلام کے آغاز میں یہ آیت تلاوت کی کیونکہ یہ بات اس امت کے بہترین امت ہونے کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا،آپ ﷺ کے جسم پر موٹے کنارے والی نجرانی چادرتھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی پیچھے سے آیا اور اس نے آپ ﷺ کی چادر کھینچی۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے شانے کو دیکھا کہ اس شخص کے زورسے کھینچنے کی وجہ سے اس پر چادر کے کناروں سے نشان پڑ گئے تھے۔اس نے کہا کہ: اے محمد! اللہ کا جو مال تیرے پاس ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم کرو۔ اس پر آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیے، پھر آپ ﷺ نے اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔
متفق علیہانس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ ﷺ نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی یعنی ایسا کپڑا جس کے کنارے دھاری دار ہوں۔ نجرانی یعنی نجران کی طرف منسوب جو یمن کا ایک شہر ہے۔ موٹے کنارے والیظ، جسے ایک اعرابی نے پیچھے سے آ کر اسے کھینچا۔ یعنی اعرابی نے آپ ﷺ کی چادر سے پکڑ کر آپ ﷺ کو زور سے کھینچا۔ ”صفحة عاتق“ اس سے مراد شانے کی جگہ ہے۔ آپ ﷺ کے شانے پر (زور سے کھینچے کی وجہ سے ) چادر کے کنارے سے نشان پڑ گیا۔ پھر اس اعرابی نے کہا ”اے محمد!“ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مؤلفۃ القلوب میں سے تھا اسی وجہ سے اس نے ایسا کیا۔ پھر اس نے شفقت و مہربانی کے پیکر کے مقابلے میں درشتگی کے ساتھ آپ ﷺ کو آپ کے نام کے ساتھ پکارتے ہوئے کہا: ”مُرْ لِي“ یعنی اپنے کارندوں کو کہو کہ وہ مجھے مال دیں یا مجھے دینے کا حکم دو۔ ”اللہ کے اس مال سے جو تیرے پاس ہے“ یعنی جسے دینے میں تیرا کوئی ہاتھ نہیں۔ جیسا کہ ایک اور روایت میں اس کی صراحت ہے کہ اس نے کہا: ”نہ اپنے مال سے اور نہ اپنے باپ کے مال سے“۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ کا مال تھا جس کا کچھ حصہ آپ ﷺ ان لوگوں پر خرچ کرتے جن کی تالیف قلبی مقصود ہوتی۔ آپ ﷺ نے تعجب کے ساتھ اسے دیکھا۔ اور پھر آپ ﷺ اظہار شفقت کے طور پر مسکرا دیے اور اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔