





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں : "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ دینار چھوڑا، نہ درہم چھوڑا، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ چھوڑا اور نہ کسی چیز کی وصیت ہی کی"۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی وفات کے بعد مال و دولت بالکل نہیں چھوڑا۔ نہ کم نہ زیادہ۔ نہ بکری نہ اونٹ اور نہ اس کے علاوہ کوئی اور مال۔ اسی طرح آپ نے کسی چیز کے بارے میں وصیت بھی نہیں کی۔ یاد رہے کہ یہاں ان کی مراد خاص طور سے مال کی وصیت ہے۔ کیونکہ انسان مال کے بارے میں وصیت اس وقت کرتا ہے، جب کوئی اس کا وارث بنتا ہو۔ جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی کوئی چیز چھوڑی ہی نہیں تھی، جس کا کوئی وارث بنے کہ وصیت کی ضرورت پڑتی۔ ویسے آپ نے مال کے علاوہ کئی چیزوں کی وصیت کی تھی۔ مثلا نماز کی پابندی کی وصیت اور یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال باہر کرنے کی وصیت۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب صحت مند تھے، تو فرمایا کرتے تھے : "کسی نبی کی روح اس وقت تک نکالی نہیں گئی، جب تک اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا نہیں دیا گیا اور پھر دنیا یا جنت میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار نہیں دیا گیا"۔ چنانچہ جب آپ کی وفات کا وقت آیا، تو آپ بے ہوش ہو گئے دراں حال کہ آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ پھر جب ہوش میں آئے تو اپنی نگاہ گھر کی چھت کی طرف اٹھائی اور پھر فرمایا : "اللهمَّ الرَّفِيقَ الأعلى" یعنی اے اللہ! مجھے اعلی علیین میں رہنے والے نبیوں کی رفاقت چاہیے۔ لہذا میں نے کہا: اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے۔ میں سمجھ گئی کہ یہاں وہی حدیث عمل کا روپ لے رہی ہے، جو آپ نے ہمیں تندرستی کی حالت میں بتائی تھی۔ وہ کہتی ہیں: اس طرح آپ کے منہ سے نکلنے والے آخری الفاظ تھے : "اللهمَّ الرَّفِيقَ الأعلى"۔
متفق علیہعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہونے سے پہلے تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے : کوئی بھی نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوا، جب تک اللہ نے اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا نہیں دیا اور اس کے بعد یہ اختیار نہیں دے دیا کہ وہ چاہے تو دنیا ہی میں رہے اور چاہے تو جنت کے اندر اپنی جگہ لے لے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب آپ مرض الموت کے آخری لمحوں میں تھے، تو آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ اتنے میں بے ہوش ہوگئے۔ جب ہوش میں آئے، تو گھر کی چھت کی طرف اپنی نظر اٹھائی اور اس کے بعد فرمایا : "اللهم الرفيق الأعلى"۔ یعنی اے اللہ! مجھے اعلی علیین میں رہنے والے نبیوں کی جماعت کا ساتھ چاہیے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے اپنے دل میں کہا کہ اب اللہ نے آپ کو دنیا یا آخرت میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار دے دیا ہے اور ہمیں چننے کی بجائے آپ یقینا آخرت ہی کو چنیں گے۔ میں سمجھ گئی کہ اسی اختیار دینے کا ذکر اس حدیث میں تھا، جو آپ تندرستی کی حالت میں ہم سے بیان کیا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے نکلنے والے آخری الفاظ تھے : "اللهم الرفيق الأعلى"۔
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا، جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کی تھی، تو انھوں نے بتلایا: میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈالی اور اس کے ذریعے آپ ﷺ کا گلا گھونٹنے لگا۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اس بدبخت کو ہٹایا اور کہا: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ ”کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمھارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سےکھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے؟“۔ (سورہ غافر: 28)
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔عروہ بن زبیر بن عوام رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ ﷺکی تکلیف واذیت کے متعلق مشرکینِ مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے بتلایا کہ انھوں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ اس وقت حجر کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اس بدبخت نےاپنا کپڑا یا خود نبی ﷺ کا کپڑا آپ کی گردن مبارک میں ڈال دیا اور اسے بڑی سختی کے ساتھ گھونٹا۔ اتنے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور عقبہ کو نبی ﷺ سے دفع کیا۔ وہ روتے ہوئےکہہ رہے تھے: ”کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمھارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیلیں بھی لے کرآیا ہے؟“ ( سورہ غافر:۲۸) یہ سب سے سخت تکلیف تھی، جسے عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا؛ جب کہ عروہ اس سے زیادہ تکلیف دہ حرکت سے با خبر تھے۔ ان کا بیان ہے کہ نبیﷺکی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انھوں نے نبی ﷺسے پوچھا کہ کیا آپ پر کوئی دن اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپﷺ نے اس پر فرمایا: ”تمھاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے کتنی ہی مصیبتیں اٹھائی ہیں، لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا۔ یہ وہ موقع تھا، جب میں نے (طائف کے سردار) کنانہ بن عبد یا لیل بن عبد کُلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ لیکن اس نے (اسلام قبول نہیں کیا اور) میری دعوت کو رد کر دیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ (اور زخموں سے چور) ہو کر واپس ہوا۔ جب میں قرن الثعالب پہنچا، تب مجھے کچھ ہوش آیا۔ میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ جبریل علیہ السلام اس میں موجود ہیں۔ انھوں نے مجھے آوازدی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں اور ان کا جواب سن چکا ہے۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے۔ آپ ان کے بارے میں جو چاہیں، حکم دے دیں۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نےآوازدی۔ انھوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد (ﷺ)! پھر انھوں نے بھی وہی بات کہی؛ آپ جو چاہیں (اس کا مجھے حکم فرمائیں)، اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں، (جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں) ایسے موقعے پر نبیﷺ نے فرمایا: ”مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا، جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گی“۔ (متفق علیہ)
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں کسی اور سے شادی نہیں کی حتی کہ آپ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں (دوسری) شادی نہیں کی یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا، اور اس س نبیﷺ کے نزدیک خدیجہ کے مقام و مرتبے کا پتہ چلتا ہے اور وہ آپﷺ کی پہلی بیوی تھیں۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "مجھے بخوبی پتہ چل جاتا ہے، جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو"۔ میں نے کہا: بھلا آپ کو یہ کیسے پتہ چل جاتا ہے؟ تو فرمایا : "جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو، تو کہتی ہو : نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو، تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!" عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: یہ ٹھیک ہے، لیکن اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں صرف آپ کا نام بھر لینے سے بھی گریز کرتی ہوں۔
متفق علیہعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : مجھے پتہ ہو جاتا ہے کہ کب تم مجھ سے خوش رہتی ہو اور کب ناخوش۔ انھوں نے عرض کیا کہ وہ کیسے؟ تو فرمایا : جب مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم۔ یعنی قسم میں میرا نام لیتی ہو۔ لیکن جب ازدواجی زندگی سے متعلق کسی بھی دنیوی سبب کی بنا پر مجھ سے ناخوش رہتی ہو، تو قسم کھاتے وقت کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم۔ یعنی میرے بجائے ابراہیم علیہ السلام کا نام لیتی ہو۔ انھوں نے کہا: ہاں، ایسا تو ہے۔ لیکن اے اللہ کے رسول! سچائی یہ ہے کہ میں ناراضگی کے دوران محض زبان سے آپ کا نام لینے سے گریز کرتی ہوں اور آپ کی محبت میرے دل کی گہرائیوں میں پیوست رہتی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی ﷺ نے کسری، قیصر، نجاشی اور ہر جابر بادشاہ کو خط لکھ کر انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی، اور یہ وہ نجاشی نہیں تھے جن کی نبی ﷺ نے نماز جنازہ پڑھی تھی۔
رواه مسلمانس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے اپنے ارد گرد کی قوموں کے بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط لکھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے کسری کو لکھا، جو فارس کے ہر بادشاہ کا لقب ہے، قیصر کو لکھا، جو روم کے ہر بادشاہ کا لقب ہے اور نجاشی کو لکھا، جو حبشہ کے بادشاہوں کا لقب ہے۔ آپ ﷺ نے لوگوں پر مسلط ہر جابر وقاہر بادشاہ کو بھی خط لکھا، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جس نجاشی کو خط لکھا گیا تھا وہ، وہ نجاشی نہیں تھا جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا، جن کی وفات ہوئی اور جن کی نبی ﷺ نے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی تھی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔»
متفق عليهنبی ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آجاتا ہے جس طرح انسانوں کو آتا ہے۔ لہذا جس کسی مومن کو میں نے تکلیف دی ہو، یا اسے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت بھیجی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اس عمل کو اس کے لیے پاکیزگی، قربت، گناہوں سے صفائی، کفارہ اور ایسی رحمت بنا دے جس کے سبب تو اس پر رحم فرمائے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مشرکوں پر بد دعا کردیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہيں بھیجا گیا ہے۔ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے"۔
رواه مسلمنبی ﷺ سے مشرکوں کے حق میں بد دعا کرنے کے لیے کہا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ کی طرف سے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ میں لوگوں کو بد دعا دوں اور انہیں اللہ کی رحمت سے دھتکار کر خیر سے محروم کر دوں۔ مجھے اس مقصد کے لیے مبعوث نہیں کیا گیا، بلکہ مجھے تو تمام لوگوں کے لیے بالعموم، اور مومنوں کے لیے بالخصوص، خیر ورحمت کا سبب بنا کر بھیجا گیا ہے۔
ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے وحی کے توقف کے زمانے کا ذکر کرتے ہوئے اپنی حدیث میں فرمایا: "میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے اپنی نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں اس سے بہت ڈر گیا، چنانچہ میں واپس آیا اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ1 قُمْ فَأَنْذِرْ} سے لے کر {وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} تک۔ پھر کثرت سے اور مسلسل وحی آنے لگی۔
متفق عليهنبی ﷺ نے اپنی بعثت کے ابتدائی زمانے میں وحی کے رک جانے اور اس کے نزول کے بند ہو جانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں مکہ کی گلیوں میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، تو میں نے اپنی نگاہ اٹھائی، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جبرئیل علیہ السلام جو میرے پاس غارِ حراء میں تشریف لائے تھے، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر تشریف فرما ہیں، جس پر میں ان سے مرعوب اور خوف زدہ ہو گیا، چنانچہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آیا اور کہا: ”مجھے کپڑا اوڑھا دو۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ} یعنی اپنے کپڑوں میں لپٹنے والے، {قُمْ} دعوت کے لیے کھڑے ہو جائیے {فَأَنْذِرْ} اور ان کو خبردار کیجیے جو آپ کی رسالت پر ایمان نہیں لائے ہیں۔ {وَرَبَّكَ} اپنے معبود کی، {فَكَبِّرْ} حمد وعظمت بیان کریں۔ {وَثِيَابَكَ} اپنے لباس کو {فَطَهِّرْ} نجاستوں سے پاک صاف رکھیں، {وَالرُّجْزَ} بتوں اور مورتیوں کی عبادت کو {فَاهْجُرْ} چھوڑ دیں، اس کے بعد وحی میں تیزی آگئی اور کثرت سے نازل ہونے لگی۔