





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا، کیا آپ پر کوئی دن اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ تمہاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا یہ وہ موقع تھا جب میں نے (طائف کے سردار) کنانہ بن عبد یا لیل بن عبد کلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ لیکن اس نے (اسلام کو قبول نہیں کیا اور) میری دعوت کو رد کر دیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ ہو کر واپس ہوا۔ پھر جب میں قرن الثعالب پہنچا، تب مجھ کو کچھ ہوش آیا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اس میں موجود ہیں، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا اور جو انہوں نے رد کیا ہے وہ بھی سن چکا۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے، آپ ان کے بارے میں جو چاہیں اس کا اسے حکم دے دیں۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی، انہوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد ﷺ! اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا، میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں، اللہ تعالی نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ جو چاہیں (اس کا مجھے حکم فرمائیں) اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں (جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں)۔
متفق علیہام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب آپ ﷺ سے پوچھا کہ کیا اُحُد سے بھی زیادہ سخت دن آپ پر گزرا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور طائف کی طرف جانے کا واقعہ ذکر فرمایا۔ کہ جب آپ ﷺ نے مکہ میں قریش کو دعوت دی اور انہوں نے انکار کیا، تو آپ طائف کی طرف نکلے تاکہ ان کو اللہ کا پیغام پہنچائیں، طائف والوں کو دعوت دی لیکن وہ مکہ والوں سے زیادہ بے وقوف نکلے، بلکہ انہوں نے آپ ﷺ کو پتھروں سے مارا اور کنکریاں پھینکیں، یہاں تک کہ آپ کی ایڑی لہو لہان ہو گئی۔ آپ نے قبیلہ ثقیف کے سردار ابن عبد یالیل بن عبد کلال پر اسلام پیش کیا، اس نے اسلام قبول نہیں کیا، آپ ﷺ غمزدہ اور پریشان لوٹے، جب تک آپ قرن الثعالب نہیں پہنچے تھے آپ کو افاقہ نہ ہوا، وہاں بادل نے آپ پر سایہ کیا، آپ نے سر اٹھایا، تو بادل جبرائیل علیہ السلام تھے، جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا، یہ پہاڑوں کا فرشتہ آپ کو سلام کہتا ہے، پھر فرشتے نے سلام کیا اور کہا کہ میرے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، اگر آپ چاہے ان پر دونوں پہاڑوں کو ملا دوں۔آپ ﷺ نے اپنے حلم و بُردباری اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا نہیں۔ اس لیے کہ اگر ان پر دونوں پہاڑوں کو ملایا جاتا تو وہ ہلاک ہوجاتے چنانچہ فرمایا: ”مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی“۔ اور ایسا ہی ہوا، اللہ نے آپ ﷺ کو اتنی سخت تکلیف دینے والے ان مشرکین کی نسلوں میں سے ایسے لوگوں کو پیدا کیا جو ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم (انس کی والدہ) سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز میں کمزوری محسوس کی ہے۔ میرے خیال میں آپ ﷺ بھوکے ہیں۔ توکیا تمہارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز ہے؟ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا ہاں ہے۔ یہ کہہ کر ام سلیم نے جو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنا دوپٹا لیا اور اس کے ایک کنارے میں ان روٹیوں کو لپیٹا اور میرے کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور اس دوپٹے کا کچھ حصہ میرےاوپر لپیٹ دیا، اس کے بعد مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا۔ چنانچہ میں اسے لے کر گیا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں بيٹھے ہوئےپايا۔ آپ ﷺ کے ہمراہ اور لوگ بھی تھے۔ میں ان کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:”کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا :جی ہاں! پھر دریافت کیا :”کيا کھانے کے ليے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ ﷺ نے (تمام لوگوں سے) فرمایا کہ اٹھو۔ پس سب لوگ چل ديےاور ميں ان کے آگے آگے چلا یہاں تک کہ ابوطلحہ کے پاس پہنچ کر خبر دی تو ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی ﷺ اپنے ساتھیوں سمیت ہمارے پاس تشریف لا رہے ہیں۔ اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں کہ ہم ان (سب) کو کھلا سکیں۔ ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کےرسول بہتر جانتے ہیں۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر سے باہر نکل کر چلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ ان کے ہمراہ تشریف لائے یہاں تک کہ دونوں گھر میں داخل ہوئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:”ام سلیم جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ“۔ ام سلیم وہی روٹیاں جو ان کے پاس تھیں لے آئیں۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ان روٹیوں کو توڑا گیا اور ام سلیم نے ان پر گھی کی کپّی نچوڑ دی جس نے ان کو سالن بنا دیا (یعنی وہ سالن کا کام دیا)۔ پھر رسول اللہ ﷺ نےجو کچھ اللہ نے چاہا،اس میں پڑھا (یعنی خیر و برکت کی دعا کی) اور فرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“۔ چنانچہ ابو طلحہ نے انھیں جازت دی۔ انہوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ آپ نے پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“۔ ابو طلحہ نے اجازت دی، انہوں نے بھی کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ یہ سب ستر یا اسّی آدمی تھے۔ (متفق عليہ) ايک روايت ميں ہے کہ دس دس لوگ داخل ہوتے رہے اور نکلتے رہے يہاں تک کہ کوئی نہيں بچا جو داخل ہوکر پيٹ بھر کھانا نہ کھایا ہو۔ پھر اس کھانے کو اکٹھا کيا گيا تو وہ ويسے ہی باقي تھا جيسے شروع ميں تھا۔ ايک اور روايت ميں ہےکہ دس دس کر کے اسّی لوگوں نے کھايا۔ اس کے بعد نبی ﷺ اور گھر والوں نے کھايا اور (پھر بھی) بچا ہوا کھانا چھوڑا۔ ايک روايت ميں ہے: پھر انہوں نے اتنا کھانا بچاديا کہ وہ پڑوسيوں کو بھی پہنچایا۔ ايک اور روايت ميں ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں: ميں ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ ﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما پایا اور آپ ﷺ کے پیٹ پر ایک پٹی بندھی ہوئی تھی، میں نے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیٹ پر پٹی کیوں باندھی ہوئی ہے؟ وہ کہنے لگے کہ بھوک کی وجہ سے، تو میں ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا جو کہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر تھےاور ان سے عرض کیا :اے ابا جان! میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے پیٹ پر پٹی باندھی ہوئی ہے، میں نے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس پٹی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اپنی بھوک کی وجہ سے ایسا کیا ہے ۔ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری والدہ کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ ام سلیم نے کہا: جی ہاں، میرے پاس روٹی کے کچھ ٹکڑے اور چند کھجوریں ہیں۔ اگر رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اکیلے تشریف لائیں تو ہم آپ ﷺ کو سیراب کر دیں گے اور اگر آپ ﷺ کے ساتھ دوسرے لوگ بھی آئے گا تو ان کے ليے کم پڑ جائے گا...پھر پوری حدیث ذکر کی۔
متفق علیہاس حديث کا مفہوم يہ ہے کہ آپ ﷺ سخت بھوک کی حالت ميں تھے۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی کمزور آواز سن کر حالت سے باخبر ہوگئے۔ چنانچہ اپنی بيوی ام سلیم سے نبی ﷺ کے بارے ميں بتلايا اور پوچھا کہ كيا تم لوگوں کے پاس کچھ ہے؟ ام سليم رضی اللہ عنہا نے جواب ديا کہ ہاں، يعنى ہمارے پاس ايسی چيز ہے جس سے آپ ﷺ کی بھوک مٹ جائے گی،پھرجو کی روٹی کے چند ٹکڑے نکالے، پھر اپنا دوپٹا لیا اور اس کے ایک کنارے میں ان روٹیوں کو لپیٹ کر انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے کے نيچے چھپاديا اورباقی دوپٹے کو ان کے اوپر بطور چادر ڈال ديا تاکہ ڈھک جائے۔ جب انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ کو اپنے اصحاب کے درميان تشريف فرما پايا. پس میں ان کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔ (وه كہتے ہيں) تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟"میں نے عرض کیا:جی ہاں! پھردریافت کیا :"کيا کھانے کے ليے؟" يعني کيا ابو طلحہ نےتم کو ہميں کھانے کي دعوت دينے کے ليے بھيجا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ انس رضی اللہ عنہ آپ کو کھانا نہيں دے سکے کيونکہ کئی صحابہ آپ ﷺ کے پاس بيٹھے ہوئے تھےاور وہ آپ کی عادت مبارکہ سے واقف تھے کہ آپ اپنے آپ کو اپنے ساتھيوں پر ترجيح نہيں ديتے ہيں. اس ليے انس رضی اللہ عنہ کے ليے "ہاں" کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ انھوں نے آپ کی دعوت کا اظہار کيا تاکہ ان کے ساتھ تنہا ابو طلحہ کے گھر چلے جائيں اور نبی ﷺ کو کھلانے کا مقصد حاصل ہو جائے۔ چنانچہ اس وقت آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ اٹھو چلو. پس سب لوگ چل ديے۔ انس رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے آگے آگے چلے۔ ايک روايت ميں ہے: ميں رسول ﷺ کے ساتھ آنے والے لوگوں کى كثرت سے غمزدہ تھا۔ انس کہتے ہيں: يہاں تک کہ ميں ابوطلحہ کے پاس پہنچا اورانهيں خبردار كيا. تو ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی ﷺ لوگوں کو لے کر تشريف لا رہے ہيں اور ہمارے پاس اتنا كهانا نہیں کہ ہم ان (سب ) کوکھلا سکیں۔ اس پرام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زيادہ جانتے ہيں۔ ام سليم رضی اللہ عنہا نے معاملہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کرديا، گويا ان کو معلوم ہو گيا تھا کہ آپ ﷺ نے ايسا جان بوجھ کر کيا ہے تاکہ کھانے کی زيادتی ميں آپ کی کرامت ظاہر ہو، يہ ان کی عقل مندی اور زيركى ہے۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (استقبال کے ليے) گھر سے باہر نکلے اور رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ ان کے ہمراہ تشریف لائے یہاں تک کہ دونوں اندر داخل ہوئےتو رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ“، ايک روايت ميں ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ كا استقبال کيا تو عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے پاس صرف روٹی کے چند ٹکڑے ہيں،جسے ام سليم نے بنايا ہے۔ اور ايک روايت ميں ہے: ابوطلحہ نے کہا کہ صرف روٹی کے چند ٹکڑے ہيں توآپ ﷺ نے فرمايا: ”يقينا اللہ اس ميں برکت دےگا“، ايک اور روايت ميں ہے کہ ابو طلحہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ميں نے انس کو صرف آپ کو بلانے کے ليے بھيجا تھا کيونکہ ہمارے پاس کوئی ايسی چيز نہيں ہے جو ان تمام حاضرين کو آسودہ کرسکے. تو آپ ﷺ نے فرمايا: ”(گھر ميں) داخل ہو، جو کچھ تمہارے پاس ہے يقينا اللہ اس ميں برکت دے گا“۔جب رسول الله ﷺ ابو طلحه کے گھر ميں داخل هوئے تو فرمایا: ”ام سلیم جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ“، ام سلیم وہی روٹیاں جو ان کے پاس تھیں لے آئیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان روٹیوں کے توڑنے کا حکم دیا۔ چنانچہ ان کو ریزہ ریزہ کیا گیا اور ام سلیم نے کپّی میں سے گھی نچوڑا جو ان ٹکڑوں كے ليے سالن ہو گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ اللہ نے چاہا، اس ميں پڑھا، يعنی آپ ﷺ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس تھوڑے سے کھانے ميں برکت نازل کر دے۔ ايک روايت ميں ہے: چنانچہ ميں اس کو لے کرآئی تو آپ ﷺ نےاس کے بندھن کو کھولا، پھر کہا: ”بسم الله اللهم أعْظِمْ فيها البركة“ (اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ تواس ميں برکت كو زياده كردے) اس کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“، چنانچہ ابو طلحہ نے انھیں جازت دی۔ انہوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ آپ نے پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“، ابو طلحہ نے اجازت دی۔ انہوں نے بھی کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ یہ سب ستر یا اسّی آدمی تھے۔(متفق عليہ) ايک روايت ميں ہے کہ دس دس لوگ داخل ہوتے رہے اور نکلتے رہے يہاں تک کہ کوئی نہيں بچا جو داخل ہوکر پيٹ بھر کھانا نہ کھایا ہو۔ پھر اس کھانے کو اکٹھا کيا گيا تو وہ ويسے ہی باقي تھا جيسے شروع ميں تھا۔ ايک اور روايت ميں ہےکہ دس دس کر کے اسّی لوگوں نے کھايا۔ اس کے بعد نبی ﷺ اور گھر والوں نے کھايا اور (پھر بھی) بچا ہوا کھانا چھوڑا۔ ايک روايت ميں ہے: پھر انہوں نے اتنا کھانا بچاديا کہ وہ پڑوسيوں کو بھی پہنچایا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس دن بدر کی لڑائی ہوئی اس دن رسول اللہﷺ نے مشرکوں کو دیکھا کہ وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺکے اصحاب تین سو انیس آدمی تھے۔ اللہ کے نبی ﷺنے قبلہ کی طرف منھ کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور پکار کر اللہ سے دعا کرنے لگے،’’ اےاللہ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے، اے اللہ! جو تو نے وعدہ کیا ہے اسے تو دے دے، اے اللہ! اگر یہ مسلمانوں کی جماعت ہلاک ہو گئی، تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی‘‘۔ پھر آپ ﷺاپنے ہاتھ کو پھیلائے ہوئے برابر یہ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپﷺ کی چادر آپ کے دونوں مونڈھوں سے اتر گئی، ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور آپﷺ کی چادر کو لیا، اور آپﷺ کےمونڈھے پر ڈال دی، پھرآپﷺ کے پیچھے لپٹ گئے اور فرمایا: اے اللہ کے نبیﷺ! بس آپ کی اتنی دعا کافی ہے، اب اللہ تعالی آپ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا، اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری ﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾ ”اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سےفریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالی نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے“۔ (الانفال: 9) چنانچہ اللہ نےفرشتوں کے ذریعہ آپ ﷺ کی مدد کی۔ ابو زمیل نے مجھ سے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بتایا کہ اس دن مسلمانوں میں سے ایک آدمی مشرکین کے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو اس کے آگے تھا، اتنے میں اوپر سے اس کے کان میں کوڑے کی آواز سنائی دی اور ایک گھوڑسوار کی آواز سنائی دی، وہ کہتا تھا ، آگے بڑھ اے حیزوم! پھر دیکھا کہ وہ کافر جو اس مسلمان کے سامنے تھا چت گر پڑا، جب اس وقت مسلمان نے دیکھا کہ اس کی ناک پر نشان تھا اور اس کا منھ پھٹ گیا تھا، جیسے کوئی کوڑا مارتا ہے اور اس کا رنگ سبز پڑ گیا تھا۔ پھر وہ انصاری صحابی رسولﷺ کے پاس آئے اور واقعہ بیان کیا۔ آپ ﷺنے فرمایا :تو سچ کہتا ہے، یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی۔ چنانچہ مسلمانوں نےاس دن ستر کافروں کو مارا تھا، اور ستر کافروں کو گرفتار کیا تھا۔ ابو زمیل نے کہا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب قیدیوں کو گرفتار کر کے لائے تو رسول ﷺ نےابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے کہا ’’ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے،، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ!یہ ہمارے قبیلے اور برادری کے لوگ ہیں میرے خیال سے کچھ مال لے کر انہیں چھوڑ دیجیے جس سے مسلمانوں کو کافر وں سے لڑنے کی طاقت ہو جائے گی، ممکن ہے انہیں اللہ اسلام کی ہدایت دے دے۔ رسول اللہ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ’’ابنِ خطاب! ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے کہا نہیں اے اللہ کے رسولﷺ! یہ میری رائے نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے، لیکن میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں اور ہم ان کی گردنیں مار دیں، اور عقیل کو علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کریں وہ ان کی گردن ماریں اور مجھے میرا فلاں عزیز دیجیے میں اس کی گردن مار دوں، کیونکہ یہ لوگ کفر کے پیشوا اورسردار ہیں۔ چنانچہ رسول ﷺ کو ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے پسند آئی اور میری رائے پسند نہیں آئی۔ جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس میں آیا آپﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ دونوں رو رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں؟ اگر رونے والی چیز ہے تو میں بھی روؤں، اور اگر مجھے رونا نہیں آیا تو رونے کی کیفیت بنا لوں گا ، نبیﷺنے فرمایا: میں رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں پر فدیہ لینے کی وجہ سے میرے سامنے ان کا عذاب اس درخت (نبیﷺ کےپاس درخت) سے بھی زیادہ نزدیک پیش کیا گیا پھر اللہ نے یہ آیت اتاری ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ سے ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ تک۔ ”نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہیے جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا اراده آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی پس جو کچھ حلال اور پاکیزه غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ پیو“، چنانچہ اللہ نے ان کے لیے غنیمت کو حلال کردیا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔جس دن بدر کی لڑائی ہوئی اس دن رسول ﷺ نے مشرکوں کو دیکھا وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺکے اصحاب تین سو انیس آدمی تھے، نبیﷺ نے مشرکین کے مقابلے اپنے اصحاب کی قلت کو جان لیا، تو اللہ کے نبی ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور پکار کر اللہ سے دعا کرنے لگے،’’اےاللہ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے۔ اے اللہ! جو تو نے وعدہ کیا ہے اسے تو دے دے۔ اے اللہ! اگر تو نے ان مسلمانوں کو ہلاک کر دیا، تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی،، یعنی: اےاللہ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے، اور مسلمانوں کو کافروں پر غالب فرما۔ اگر تو نے ان مسلمانوں کو ہلاک کر دیا، تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی،، پھر آپ ﷺاپنے ہاتھ کو پھیلائے ہوئے برابر یہ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی چادر آپ کے دونوں مونڈھوں سے اتر گئی، ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور آپﷺ کی چادر کو لیا، اور آپﷺ کےمونڈھے پر ڈال دی، پھر آپﷺ کے پیچھے لپٹ گئے اور فرمایا: اے اللہ کے نبیﷺ! بس آپ کی اتنی دعا کافی ہے، اب اللہ تعالی آپ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا، اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾ ”اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سےفریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالی نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے“۔ (الانفال: 9) یعنی:جس وقت اللہ سے فریاد طلب کر رہے تھے اور اس سے مدد طلب کر رہے تھے، تو اللہ نے تمہاری دعا قبول کی اور ایک ہزار پہ در پہ آنے والے فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خبر دیا کہ اس دن مسلمانوں میں سے ایک آدمی مشرکین کے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا تاکہ اسے قتل کرے، اتنے میں اس نے کوڑے اور گھوڑسوار کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا، ’’آگے بڑھ اے حیزوم!‘‘ پھر دیکھا کہ وہ مشرک گرا پڑا ہے۔ اور اس کے چہرے میں ناک پر کوڑے کا نشان تھا اور اس کا منھ پھٹ گیا تھا۔پھر اس انصاری صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سب بیان کیا، تو آپ ﷺ نے اسے خبر دیا کہ وہ تیسرے آسمان کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ تھا اور حیزوم اس فرشتے کے گھوڑے کا نام ہے۔ چنانچہ مسلمانوں نےاس دن ستر کافروں کومارا تھا، اور ستر کافروں کو گرفتار کیا تھا، جب ان قیدیوں کو گرفتار کر کے لائے تو رسول ﷺ نےابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے کہا ’’ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟،، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ!یہ ہمارے قبیلے اور برادری کے لوگ ہیں میرے خیال سے کچھ مال لے کر انہیں چھوڑ دیجیے جس سے مسلمانوں کو کافر وں سے لڑنے کی طاقت ہو جائے گی، ممکن ہے انہیں اللہ تعالی اسلام کی ہدایت دے دے۔ جب کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں اے اللہ کے رسولﷺ! میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق نہیں رکھتا، میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں اور ہم انہیں قتل کر دیں، اور ان قیدیوں کو ہم میں سے ہر ایک قریبی اپنے قریبی کو قتل کرے، کیونکہ یہی لوگ کفر کے پیشوا اور گمراہی کے سردار ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو ابو بکررضی اللہ عنہ کی رائے پسند آئی اور عمر رضی اللہ عنہ کی رائے پسند نہیں آئی، جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے آپﷺ اورابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے بتلائیں کہ آپ اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں؟ اگر رونے والی چیز ہے تو میں بھی روؤں، اور اگر مجھے رونا نہیں آیا تو رونے کی کیفیت تو بنا لوں! اس پر نبیﷺنے فرمایا: کہ وہ اس لیے رو رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جنہوں نے قیدیوں سے فدیہ لینے کی بات کی ان پر عذاب پیش کیا، اور ان پر عذاب اس درخت سے بھی قریب ترپیش کیا گیا، ’’نبی ﷺ کے قریب ایک درخت تھا اس درخت کی طرف اشارہ ہے‘‘۔ اللہ عز وجل نے یہ آیت ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ سے ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ تک اتاری۔ ”نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہیے جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا اراده آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ملتی پس جو کچھ حلال اور پاکیزه غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ پیو اور اللہ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ غفور ورحیم ہے“، یعنی وہ کفار جو اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور دین کو نیست ونابود کرنا چاہتے ہیں ان سے فدیہ لے کر چھوڑنا مناسب اور ٹھیک نہیں، کیونکہ یہ فدیہ لینا ایک معمولی چیز ہے بنسبت ان کے اس شر اور برائی کے جس کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے اس شر کو ختم کر دیا جائے، کیونکہ جب تک ان کا یہ شراور طاقت نیست و نابود نہ ہوگا اس وقت تک ان سے فدیہ نہ لیا جائے، لیکن جب ان کا شر ختم ہو جائے اور وہ کمزور پڑ جائیں تو اس وقت انہیں باقی رکھنے اور ان سے فدیہ لینے میں کوئی حرج نہیں، پھر اللہ نےمسلمانوں کے لیے کافروں سے زبردستی لیے گئے اموال کو حلال کر دیا۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے خطبے سے پہلے اذان اور تکبیر کے بغیر نماز سے ابتدا کی پھر بلال رضی اللہ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہو ئے اللہ کے تقویٰ کا حکم دیا اس کی اطاعت پر ابھارا، لوگوں کو نصیحت کی اور انھیں (دین کی بنیادی باتوں کی) یاد دہانی کرائی پھر چل پڑے حتیٰ کہ عورتوں کے پاس آگیے (تو ) انھیں وعظ و تلقین (تذکیر) کی اور فرمایا: صدقہ کرو کیوں کہ تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں۔ عورتوں کے درمیان سے ایک بھلی سیاہی مائل رخساروں والی عورت نے کھڑے ہوکر پوچھا کہ اللہ کے رسول ﷺ ! کیوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:اس لیے کہ تم شکوے شکایت بہت کرتی ہو اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔ (راوی نے) کہا کہ اس پر وہ عورتیں اپنے زیورات سے صدقہ کرنے لگیں وہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگھوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
متفق علیہرسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو نمازِ عید بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان کو خطبہ دیا، اوامر کی بجاآوری، نواہی سے اجتناب اور ظاہر وباطن ہر حال میں اللہ کی اطاعت وفرماں برداری کو لازم پکڑ کر اس کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے وعدے وعید یاد دلائے تاکہ وہ رغبت و رہبت اور بیم و امید کے ساتھ نصیحت حاصل کریں۔ عورتوں کا مردوں سے الگ ہونے کی وجہ سے وہ خطبہ نہیں سن سکتی تھیں اور آپ ﷺ ہر چھوٹے بڑے (کی ہدایت) کے لیے حریص، نرم دل اور مشفق ہونے کی وجہ سے عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے عورتوں کو وعظ و نصیحت کی، ان کو مزید وعظ کرتے ہوئے ان کے لیے یہ واضح کیا کہ ان کی کثیر تعداد جہنمی ہے اور ان کی نجات کا راستہ صدقہ ہے کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ختم کرتا ہے۔عورتوں کے بیچ میں سے ایک عورت کھڑی ہوئی اور اس نے اکثریت کے جہنمی ہونے کا سبب پوچھا تاکہ وہ اس سے نجات پانے کا سامان کر سکیں۔ آپﷺ نے فرمایا :تم کثرت سے شکوے شکایت کرتی ہو، ناپسند یدہ گفتگو کرتی ہو اور تمہارے محسن کی طرف سے ایک دفعہ بھی کوئی کمی آ جائے تو تم اس کی بہت ساری اچھائیوں کا بھی انکار کر بیٹھتی ہو۔ (پھر کیا تھا) صحابیات نے خیر کی طلب، اور اللہ کے غضب سے بچنے میں مسابقت شروع کر دی۔اپنے ہاتھوں اور کانوں میں پہنے ہوئے زیورات، انگوٹھیوں اور بالیوں کا صدقہ کرنا شروع کردیا اور یہ ساری چیزیں اللہ کی رضا اور اس کی نعمتوں کے حصول کے لیے بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں ڈالنے لگیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، آپ کو پکڑ کر لٹا دیا، پھر آپ کے سینے کو چیرا، دل کو نکالا اور اس سے جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا نکالنے کے بعد کہا : یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا۔ پھر سونے کی طشت میں دل کو رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اسے ملا دیا اور پھر اسے اس کی جگہ پر دوبارہ رکھ دیا۔ ادھر باقی بچے آپ کی ماں یعنی دائی کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور بولے کہ محمد کو مار دیا گیا۔ تو لوگوں نےآپ کو اس حالت میں پایا کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ کے سینے پر اس سلائی کے نشان دیکھا کرتا تھا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم چھوٹے بچے تھے اور دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، پکڑ کر چت لٹایا، دل کو چیرا، اس سے جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا نکالا جو کہ تمام برائیوں اور گناہوں کا سرچشمہ تھا اور فرمایا : یہ اگر آپ کے ساتھ رہ جاتا، تو آپ کے اندر شیطان کا ایک حصہ ہوتا۔ پھر دل کو سونے کی ایک طشت میں رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اس کے اس حصے کو جہاں چیرا لگایا گیا تھا، ملا کر ٹھیک کیا اور اسے اس کی جگہ میں دوبارہ رکھ دیا۔ ادھر آپ کے ساتھ کھیلنے والے بچے تیزی سے بھاگتے ہوئے دائی حلیمہ کے پاس آئے اور بتایا کہ محمد کو مار دیا گیا ہے۔ چنانچہ لوگ بھاگم بھاگ پہنچے، تو دیکھا کہ آپ کا رنگ بدلا ہوا ہے۔ اس حدیث کے راوی سیدنا انس رضی اللہ عنہ، جو اس حادثے کے وقت موجود نہیں تھے، لیکن یقینی طور پر اس کی اطلاع ان کو تواتر اور شہرت کے ساتھ یا کم سے کم کسی ثقہ سے ملی ہوگی، کہتے ہیں کہ میں آپ کے سینے پر سلائی کے نشان دیکھا کرتا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول اس بات کے دیگر متعدد دلائل میں سے ایک دلیل ہے کہ سینے کو چیرنے کا واقعہ معنوی نہیں بلکہ حسی تھا۔ یہ اور اس طرح کی دیگر حدیثوں کو ہو بہو تسلیم کرنا چاہیے اور ان کی تاویل کرتے ہوئے انھیں مجازی معنی پر محمول نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ در اصل یہ سچے اور سچے تسلیم کیے گئے نبی کے ذریعے قدرت والے اللہ کی قدرت کا بیان ہے۔
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب عمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پاوں کٹ گیا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے پاوں میں تھوک لگا دیا اور وہ ٹھیک ہو گئے۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔جب سیدنا عمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پاوں کٹ گیا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا پاک لعاب دہن لگا دیا اور اللہ کے حکم سے وہ ٹھیک ہو گئے۔ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک واضح معجزہ تھا۔
ابو زید بن اخطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے دعا کی۔ عزرہ کہتے ہیں: ابو زید ایک سو بیس سال زندہ رہے اور اس کے باوجود ان کے سر کے محض چند بال ہی سفید ہوئے تھے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو زید بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی۔ اس حدیث کی ایک روایت میں ہے کہ آپ کے دعا کے الفاظ تھے: "اللهم جمِّله، وأدِم جماله" یعنی اے اللہ! اسے خوب صورت بنا اور اس کی خوب صورتی کو تا عمر قائم رکھ۔ اس حدیث کے ایک راوی عزرہ کا کہنا ہے کہ ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ ایک سو بیس سال زندہ رہے اور اتنی لمبی عمر کے باوجود ان کے سر کے محض چند بال ہی سفید ہوئے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے: ان کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔ اس میں نہ جھریاں تھیں، نہ سکڑاو۔,ان کے چہرے کى یہ حالت ت ان کی وفات تک باقی رہی۔ دراصل یہ سب کچھ ان کے لئے نبی ضلى اللہ علیہ وسلم کی دعا اور ان کے چہرے پر آپ کے ہاتھ پھیرنے کی برکت کے نتیجے میں تھا۔
سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ پھر پوری حدیث بیان کی، جس میں وہ کہتے ہیں: پھر لوگ تیزی سے اٹھے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے پر پھیرا، تو پایا کہ آپ کا ہاتھ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور اس سے مشک سے کہیں بهتر خوشبو پھوٹ رہی تھی
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔یزید بن اسود رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی، تو دیکھا کہ لوگ تیزی سے اٹھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ہاتھ پکڑ کر اسے برکت حاصل کرنے کے ارادے سے اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ چنانچہ انھوں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر پھیرا، تو پایا کہ وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور اس سے مشک سے کہیں بهتر خوشبو پھوٹ رہی تھی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے یہاں آئے پھر ہمارے یہاں ہی قیلولہ کیا تو آپ کے جسم سے پسینہ نکلنے لگا تو میری ماں ایک شیشی لے آئی اور اس میں آپ کا پسینہ جمع کرنے لگی۔ اتنے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیدار ہو گئے، تو فرمایا : "اے ام سلیم! تم یہ کیا کر رہی ہو؟" انھوں نے جواب دیا: یہ آپ کا پسینہ ہے، اسے ہم اپنی خوشبو میں ملا لیں گے، کیوں کہ یہ عمدہ ترین خوشبوؤں میں سے ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے پھر ان ہی کے گھر قیلولہ کے وقت سوگئے تو ان کی ماں ایک شیشی لے آئیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ و سلم کا پسینہ لے کر اس میں رکھنے لگیں۔ اسی درمیان آپ جاگ گئے اور پوچھا کہ وہ پسینہ لے کر کیا کر رہی ہیں، تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ آپ کا پسینہ لے کر اسے اپنی خوشبو میں ملانا چاہتی ہیں، جسے ان کے گھر کے لوگ استعمال کرتے ہیں، کیوں کہ آپ کا پسینہ اعلی ترین خوشبووں میں شامل ہے۔