





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو رمثہ التیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ميں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ (کے بدن مبارک) پر دو سبز کپڑے تھے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔ابو رمثہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے سبز لباس پہن رکھا تھا۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا پسندیدہ ترین لباس قمیص تھا۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔”رسول اللہ ﷺ کا سب سے پسندیدہ لباس قمیص تھا“ کیوں کہ اس میں ازار اور چادر کی بہ نسبت زیادہ ستر پوشی ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ یہ ایک ہی کپڑا ہوتا ہے، جسے انسان ایک ہی بار پہن لیتا ہے۔ چنانچہ اس کا پہننا اس کی بہ نسبت زیادہ آسان ہے کہ پہلے ازار پہنی جائے اور پھر چادر۔ تاہم اس سب کے باوجود اگرآپ کسی ایسے علاقے میں ہیں، جہاں لوگ ازار باندھتے اور چادریں پہنتے ہیں اور آپ بھی وہاں یہی لباس استعمال کریں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قابل لحاظ امر یہ ہے کہ آپ اپنے علاقے کے باشندوں کے لباس سے مختلف لباس نہ پہنیں؛ کیوں کہ اس سے آپ چرچے میں آ جائیں گے اور نبی ﷺ نے ایسا لباس پہننے سے منع فرمایا ہے جو شہرت کا باعث ہو۔
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے انہیں پھر دیا۔ یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہوگیا۔ جب آپ ﷺ اپنے پاس موجود سب کچھ دے چکے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ (تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے صبر عطا کرتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملی۔
متفق علیہانصار میں سے کچھ لوگوں نے نبی ﷺ سے مال مانگا تو آپ ﷺ نے انہیں دے دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے پھر انہیں دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس موجود مال ختم ہو گیا۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کچھ ان سے بچا کر رکھ لیں اور انہیں نہ دیں۔ بلکہ اب تو آپ ﷺ کے پاس کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے انہیں دستِ سوال دراز نہ کرنے، بے نیازی اختیار کرنے اور صبر کرنے کی ترغیب دی۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ جو شخص اللہ کے پاس اس کے لیے جو کچھ ہے اس کی بنا پران اشیا سے بے نیازی اختیار کرتا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں تو اللہ عز و جل اسے بے نیاز کر دیتا ہے۔ اصل بے نیازی تو دل کی بے نیازی ہوتی ہے۔ جب بندہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے اس کی بنا پر لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے بے نیازی برتتا ہے تواللہ بھی اسے لوگوں سے بے نیاز کر دیتا ہے اوراسے عزت نفس رکھنے والا شخص بنا دیتا ہے جو مانگنے سے دور رہتا ہے۔جو بندہ ان عورتوں سے اپنے آپ کو باعفت رکھنے کی کوشش کرتا ہے جو اس پر حرام ہیں تو اللہ بھی اسے باعفت بنا دیتا ہے اور اسے اور اس کے اہلِ خانہ کی حفاظت فرماتا ہے۔ اور جو صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے اللہ صبر عطا فرماتا ہے۔ اللہ کی طرف سے کسی پر جو عنایات ہوتی ہیں جیسے رزق و غیرہ، ان میں سے کوئی بھی صبر سے بہتر اور اس سے بڑی نہیں ہے۔
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ عزو جل کے اس قول کی تلاوت فرمائی: ﴿رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي﴾ ”اے رب! یہ بت بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے ہیں، پس ان لوگوں میں سے جنہوں نے میری اطاعت قبول کی ہے وہ میرے ہیں“۔ (سورہ ابراھیم: 36)۔ اور عیسی علیہ السلام کے قول کا تلاوت فرمایا کہ: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُم فَإِنَّهُم عِبَادَكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُم فَإِنَّكَ أَنْتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ﴾ ”اگر تو ان کوعذاب میں مبتلا کرے تو بہرحال وہ تیرے ہی بندے ہیں۔ اور اگر تو ان کو بخش دے تو بے شک تو غالب حکمت والا ہے“۔ (سورہ مائدہ: 118) اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی: اے اللہ! میری امت کو بخش دے، میری امت کو بخش دے۔ اوررو دیے۔ اس پر اللہ عز و جل نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کس بات کی وجہ سے وہ روئے ہیں؟، اگرچہ تیرا رب اس سے بہتر طور پر باعلم ہے۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے الفاظ میں، جنہیں اللہ ہی بہتر جانتا ہے، انہیں وجہ بتا دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم آپ کی امت کے بارے میں آپ کو راضی کریں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے‘‘۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے ابراہیم علیہ السلام کے اس قول کی تلاوت فرمائی جو بتوں کے بارے میں ہے کہ ﴿رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي﴾ ”اے رب! یہ بت بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے ہیں، پس ان لوگوں میں سے جنہوں نے میری اطاعت قبول کی ہے وہ میرے ہیں“۔ (سورہ ابراھیم: 36)۔ اور اسی طرح عیسی علیہ السلام کے قول کی بھی تلاوت فرمائی کہ ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُم فَإِنَّهُم عِبَادَكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُم فَإِنَّكَ أَنْتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ﴾ ”اگر تو ان کوعذاب میں مبتلا کرے تو بہرحال وہ تیرے ہی بندے ہیں۔ اور اگر تو ان کو بخش دے تو بے شک تو غالب حکمت والا ہے“۔ (سورہ مائدہ: 118)، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اوررو پڑے۔ آپ ﷺ دعا مانگ رہے تھے کہ: "يا رب؛ أمتي أمتي" یعنی ان پررحم کر اور انہیں معاف کردے۔ اس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا کہ ’’ محمد کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ وہ کیوں روئے ہیں؟ حالانکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ان کے رونے کا سبب خوب معلوم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے الفاظ میں اپنے اس قول یعنی امتی امتی کے بارے میں بتا دیا اور اللہ ہی کو بہتر علم ہے کہ اس کے نبی نے کیا الفاظ کہے۔ اس پر اللہ عز و جل نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: محمد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم آپ کی امت کے معاملے میں آپ کو خوش کریں گے اورآپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ اللہ عزّ وجلّ نے آپﷺ کو اپنی امت کے سلسلے میں کئی وجوہ کی بنا پر راضی وخوش کر دیا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ان وجوہات میں سے کچھ یہ ہیں: بہت زیادہ اجرکا ملنا، نبی ﷺ کی امت کے افراد (دنیا میں) آخر میں آنے والے اور روزِقیامت سب سے پہلے ہوں گے اور اس امت کو کئی اعتبار سے دوسری امتوں پر فضیلت حاصل ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (آپ ﷺ کے تواضع کا یہ حال تھا کہ) مدینے کی لونڈیوں میں سے کوئی لونڈی آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر (آپﷺ کو اپنے کسی کام کے لیے) جہاں چاہتی، لے جاتی۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے تواضع کا بیان ہے، حالاںکہ آپ ﷺ تمام انسانوں سے اشرف ہیں، بایں طور کہ مدینے کی باندیوں میں سے کوئی باندی آپ ﷺ کے پاس آتی، آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑتی اور جہاں چاہتی لے جاتی؛ تاکہ آپ ﷺ اس کے کسی کام میں اس کی مدد کردیں۔ آپ ﷺ جو اشرف الخلق ہیں، یہ تک بھی نہ پوچھتے کہ تم مجھے کہاں لے جارہی ہو؟ میری بجائے کسی اور کو لے جاؤ! بلکہ آپ ﷺ اس کے ساتھ جا کر اس کی ضرورت پوری کردیتے۔ ان سب کے باوجود اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی عزت و مرتبے میں اضافہ ہی فرمایا۔ صلوات الله وسلامه عليه۔ تنبیہ: ہاتھ پکڑنے سے مراد یہ نہیں کہ آپ ﷺ کا ہاتھ باندی کے ہاتھ سے مس ہوتا ہو۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ یہاں ہاتھ پکڑنے سے مراد اس کا لازمی معنی ہے۔ یعنی آپ ﷺ اس کے ساتھ بہت نرم رویہ رکھتے اور اس کی بات مانتے۔ اس حدیث میں تواضع کے بیان میں کئی اعتبار سے مبالغہ ہے۔ ایک تو یہ کہ مرد کی بجائے عورت کا ذکر کیا گیا، پھر آزاد عورت کی بجائے باندی کا ذکر کیا گیا اور پھر ”باندیوں“ کے لفظ کے ساتھ تعمیم کا معنی پیدا کیا گیا (یعنی ایسا کسی خاص باندی کے ساتھ نہیں کرتے تھے بلکہ) کوئی بھی باندی ہوتی، (آپ ﷺ کا رویہ یہی ہوا کرتا تھا)۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ: ایک یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا تو آپ ﷺ اس کی عیادت کے لئے تشریف لائے۔ آپ ﷺ اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا: اسلام قبول کرلو۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے پاس ہی تھا۔ اس نے کہا: ابو القاسم کی اطاعت کرو۔ اس پر اس لڑکے نے اسلام قبول کر لیا۔ اس پر آپ ﷺ یہ کہتے ہوئے باہر تشریف لے آئے کہ: تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے اس کو جہنم سے نجات دے دی۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حدیث میں ہے کہ مدینہ کے یہودیوں میں سے ایک چھوٹا بچہ آپ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا تو نبی کریم ﷺ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اسے اسلام کی دعوت دی جس پر وہ مسلمان ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے اسے جہنم سے نجات دی“۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے پائے یا دست (کے گوشت کھانے کی) کی دعوت دی جائے تو میں یقیناً قبول کروں گا اور اگر مجھے دست یا پایا بطورِ تحفہ بھیجاجائے تو میں اسے ضرور قبول کروں گا“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں نبی ﷺ کے حسن خلق، آپ کی تواضع و خاکساری اور اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کی دل جوئی کرتے تھے، اوریہ کہ معمولی تحفہ بھی قبول کرنا چاہیے، نیز جو کسی آدمی کو اپنے گھر دعوت دے اسے قبول کرنا چاہیےاگرچہ یہ معلوم ہو کہ وہ معمولی چیز کے لیےدعوت دے رہا ہے۔ کیونکہ ہدیہ اور دعوت قبول کرنے کا مقصد دعوت دینے والے کی دل جوئی کرنا اور باہمی محبت کو مضبوط کرنا ہے، جبکہ دعوت رد کردینے اور اسے قبول نہ کرنے سے نفرت و عداوت جنم لیتی۔ آپ ﷺ نے خاص طور پر دست اور پائے کا اس لیے ذکر کیا ہےتاکہ معمولی اور اہم دونوں چیزیں یکجا کردیں؛ کیونکہ دست کا گوشت آپ ﷺ کو زیادہ پسند تھا، جبکہ پائے کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کوئی موٹا اور باریک ریشم نہیں چھوا، اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی خوشبو سے زیادہ عمدہ کوئی خوشبو سونگھی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال خدمت کی۔ آپ ﷺ نے کبھی مجھے اُف تک نہ کہا اور نہ ہی میرے کسی کیے گئے کام کے بارے میں مجھ سے یہ پوچھا کہ یہ تم نے کیوں کیا ہے؟ اور نہ ہی جس کام کو میں نے نہیں کیا اس پر آپ ﷺ نے یہ کہا کہ تم نے یہ کیوں نہیں کیا؟
متفق علیہانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی دس سال خدمت کی، آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک گداز تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ کی خوشبو بھی خوشگوار ہوتی تھی۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی خوشبو سے عمدہ کوئی خوشبو کبھی نہیں سونگھی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی دس سال تک خدمت کی، آپ ﷺ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا۔ یعنی خدمت کے دس سال کے دوران آپ ﷺ کبھی کبھی انہیں اُف تک نہ کہا یعنی انہیں کبھی ڈانٹا نہیں اور نہ ہی کسی کیے جانے والے کام کے بارے میں یہ پوچھا کہ یہ تم نے کیوں کیا ہے۔؟ حتی کہ وہ اشیاء جو انس بن مالک خود کرتے تھے اس پر بھی آپ ﷺ نہ تو ان کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور نہ یہ کہتے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے؟ حالانکہ وہ ایک خادم تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے انہیں کسی نہ کیے جانے والے کام پر یہ بھی نہ کہا کہ تم نے یہ اور یہ کیوں نہیں کیا؟۔ یہ آپ ﷺ کے حسنِ اخلاق کا ایک مظہر ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ ہی کسی عورت کو، نہ ہی کسی خادم کو۔ اِلاّ یہ کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کر رہے ہوں۔ کبھی ایسے نہیں ہوا کہ آپ ﷺ کو کوئی نقصان پہنچایا گیا ہو اور آپ ﷺ نے اس پر انتقام لیا ہو مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی پر آپ ﷺ اللہ کے لیے انتقام لیا کرتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ کی اخلاقی صفات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ آپ ﷺ نے کبھی نہ تو جانوروں کو ہاتھ سے مارا تھا اور نہ ہی کسی عورت یا نوکر کو۔اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ عورت یا نوکر کو مارتے ہیں۔باوجود عمومی عادت کے جب آپ ﷺ نے ان دونوں کو نہیں مارا تو معلوم ہوا کہ ان کے علاوہ دوسری اشیاء کو تو بدرجۂ اولی نہیں مارنا چاہیے جنہیں عام طور پر نہیں مارا جاتا۔ تاہم آپ ﷺ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کیا کرتے تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے آپ ﷺ کو نقصان پہنچایا ہو اور آپ ﷺ نے اس سے انتقام لیا ہو۔ جیسے جنگ احد میں کفار نے آپ ﷺ کے سر مبارک کو زخمی کیا اور آپ کے سامنے کے دندان مبارک شہید کردیے لیکن آپ ﷺ پھر بھی ان کے ساتھ معافی و درگزر اور بردباری ہی کا معاملہ کرتے رہے۔ لیکن جب اللہ کی حدود کی خلاف ورزی ہوتی تھی تو یوں نہیں ہوتا تھا کہ کسی کو آپ ﷺ ایسا کرتے رہنے دیں۔ (بلکہ آپ ﷺ بزور اسے روکتے تھے۔)