





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس کے ساتھ میں بھی گیا۔ مالِ غنیمت کے طور پر بہت سے اونٹ اور بھیڑ بکریاں ہمارے ہاتھ لگیں۔(مال غنیمت میں) ہمارے حصے بارہ اونٹوں تک پہنچ گئے اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایک اونٹ زائد دیا۔
متفق علیہعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتلا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک سریہ کی شکل میں انہیں نجد کی طرف بھیجا اور ان کے ہاتھ اونٹوں اور بھیڑ بکریوں پر مشتمل بہت سارا مالِ غنیمت آیا۔ ہر ایک کے حصے میں بارہ اونٹ آئے اور نبی ﷺ نے ان میں سے ہر ایک کو ان کے حصوں میں آنے والے اونٹوں کی تعداد سے ایک ایک اونٹ زائد دیا۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ”غزوہ احد کے موقع پر مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جب کہ میری عمر چودہ سال تھی۔ آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔ غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ میں پندرہ سال کا تھا مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت دے دی“۔
متفق علیہعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ احد کے موقع پر جنگ میں جانے کے لیے انھیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جیسا کہ فوجیوں کو امیر لشکر کے سامنے جائزے کے لحے پیش کیا جاتا ہے۔ غزوۂ احد ہجرت کے تیسرے سال ہوا تھا جب کہ ان کی عمر چودہ سال تھی۔ نبی ﷺ نے انہیں جنگ میں جانے سے روک دیا کیونکہ وہ چھوٹے تھے۔ غزوہ خندق جو ہجرت کے پانچویں سال پیش آیا اس میں جب انھیں نبی ﷺ کے سامنے پیش گیا تو وہ پندرہ سال کے ہو چکے تھے چنانچہ نبی ﷺ نے انھیں لڑائی میں شرکت کی اجازت دے دی۔ شاید کہ وہ جنگ احد کے موقع پر چودھویں سال کے آغاز میں تھے اور جنگ خندق کے موقع پر پندہویں سال کے آخر میں تھے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہین کہ جب ان کی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو ان کی ملاقات عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے حفصہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اس کا نکاح میں آپ سے کر دوں؟ انھوں نے کہا کہ میں سوچوں گا۔ اس لیے میں چند دنوں کے لیے ٹھہر گیا، پھر انھوں نے کہا کہ مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی میں دوسرا نکاح نہ کروں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میری ملاقات ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور ان سے بھی میں نے یہی کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر سے کر دوں؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کا یہ طرز عمل مجھے عثمان رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے زیادہ باعثِ تکلیف تھا۔ کچھ دن اور میں نے اور توقف کیا تو نبی کریم ﷺ نے خود حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے پیغام بھیجا اور میں نے ان کا نکاح آپ ﷺ سے کر دیا۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ملاقات مجھ سے ہوئی تو انھوں نے کہا، شاید آپ کو میرے اس طرزِ عمل سے تکلیف ہوئی ہو گی کہ جب آپ کی مجھ سے ملاقات ہوئی اور آپ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے متعلق مجھ سے بات کی تو میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ ہاں تکلیف تو ہوئی تھی۔انھوں نے بتایا کہ آپ کی بات کا میں نے صرف اس لیے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے (مجھ سے) حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تھا اور میں نبی کریم ﷺ کا راز فاش نہیں کر سکتا تھا۔ اگر نبی ﷺ ان سے (نکاح کا ارادہ) چھوڑ دیتے تو بے شک میں انھیں قبول کر لیتا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ یہ بتا رہے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں یعنی خنیس بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ سے جو کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے۔ اور وہ نبی کریم ﷺ کے ان ساتھیوں میں سے تھے جو مدینہ میں فوت ہوئے اور ان کی موت کی وجہ وہ زخم تھی جو انھیں جنگ احد میں لگی تھی۔ اسی طرح یہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے پہلے پہل اسلام قبول کیا اور ہجرت حبشہ بھی کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"لقيت عثمان بن عفان" (میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا) یعنی ان کی بیوی رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "فعرضت عليه حفصة" (میں نے ان کو حفصہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ پیش کیا) اس میں اس بات کا جواز ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا رشتہ اہل خیر اور نیک لوگوں کو پیش کر سکتا ہے، اس میں کوئی عیب نہیں جیسا کہ بخاری نے اس کا باب قائم کیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "فقلت: إن شئت أنكحتك حفصة بنت عمر" (میں نے کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر سے کرا دوں) یہاں پر ایک اسلوب بیان کیا جا رہا ہے اور وہ جملہ شرطیہ کے ساتھ تعبیر کیا گیا تاکہ مخاطب کو اختیار کی مکمل آزادی ہو اور اس میں جرأت مندانہ حسن بیان اور قبولیت پر تشجیع پائی جاتی ہے۔ اور اس میں بیٹی کی نسبت اپنی طرف کی ہے جب کہ اس میں حذف کی بھی اجازت ہے جیسا کہ وہ کہتے کہ بنت عمر۔ اور آپ (اے عثمان) اس کے معاملے اور حسن معاشرت سے واقف ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوئے کہا "سأنظر في أمري" (میں اس معاملے پر غور کروں گا) یعنی میں یہ سوچ لوں کہ کیا میں ابھی شادی کرنا چاہتا ہوں یا کوئی تاخیر ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "فلبثت ليالي ثم لقيني فقال: قد بدا لي أن لا أتزوج يومي هذا" (میں نے کچھ دن انتظار کیا پھر ایک دن مجھے (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) ملے اور کہا کہ مجھے یہی لگتا ہے کہ میں ابھی شادی نہ کروں)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "فلقيت أبا بكر الصديق -رضي الله عنه- فقلت: إن شئت أنكحتك حفصة بنت عمر فصمت" (میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں حفصہ بنت عمر کا نکاح آپ سے کردوں تو وہ خاموش رہے) ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کوئی بات نہ کی اور الوداع کرتے ہوئے خاص انداز سے خاموشی اختیار کر لی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "فكنت أوجد" (میں نے پایا) یعنی شدید غصہ۔"عليه منى على عثمان" (ان پر بہ نسبت عثمان کے) کیوں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے انھیں جواب مل گیا تھا جب کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے معاملے کو ویسے ہی چھوڑ دیا۔ " فلبثت ليالي ثم خطبها النبي فأنكحتها إياه فلقيني أبو بكر" (کچھ دن گزرے تو نبی کریم ﷺ نے نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے آپ ﷺ کے ساتھ حفصہ کا نکاح کر دیا۔ پھر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے) یعنی شادی کے بعد۔ گلہ دور کرنے اور حقیقتِ حال بیان کرنے کے لیے اپنا عذر پیش کیا اور اپنے بھائی کی تسلی کی خاطر ان سے کہا: "لعلك" (شاید کہ آپ) شفقت کے انداز میں۔ ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حسن خلق پر اعتماد تھا اور یہ بھی بھروسہ تھا کہ وہ ناراض نہیں ہوں گے۔ لیکن غصہ کا جواز ہونے کی وجہ سے ان کی طبع کا خیال کرتے ہوئے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا "لعلك وجدت علي حين عرضت عليّ حفصة فلم أرجع" (آپ نے میرے بارے میں اپنے دل میں کچھ پایا تو ہو گا ہی جب آپ نے حفصہ کے نکاح کی بات کی اور میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا) یعنی آپ کو اس وقت مجھ پر غصہ آیا ہو گا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عملاً جو کچھ ہوا تھا وہ سچائی کے ساتھ بتا دیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا " فإنه لم يمنعني أن أرجع إليك فيما عرضت عليّ إلا أني كنت علمت أن النبيّ ذكرها" (آپ نے جو صورت میرے سامنے رکھی تھی اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ مجھے معلوم تھا کہ ر سول کریم ﷺنے ان کا ذکر کیا ہے ) یعنی میں شادی کا ارادہ رکھتا تھا لیکن نبی کریم ﷺ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کی رغبت کا اظہار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس وقت کیا جب ان کے علاوہ اور کوئی بھی موجود نہیں تھا تو انھوں نے خیال کیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا راز ہے جس کو بیان کرنا درست نہیں۔ اس لیے کہا کہ "فلم أكن لأفشي سرّ رسول الله" (میں نہیں چاہتا کہ رسول اللہ ﷺکا راز بیان کروں) یعنی جو بات چھپا کر مجھ سے کی میں اس کو ظاہر کر دوں۔ "ولو تركها النبيّ"(ہاں اگر آپ ﷺ انھیں چھوڑ دیتے) یعنی ان کے متعلق اپنا ارادہ ترک کر دیتے تو"لقبلتها" (تو میں ان کو قبول کر لیتا) وہ اس بات کو حرام سمجھتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے ساتھ نکاح کا تذکرہ کیا تھا جس کا انھیں علم تھا اور وہ وہاں پر شادی کرتے۔ اس میں افراد امت کی تربیت موجود ہے جو اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ راز کو چھپانا، اس کو خفیہ رکھنے میں انتہائی احتیاط کرنا اور اس کے بارے میں کسی بھی قسم کی بات کرنے سے رک جانا چاہئے جب یہ ڈر ہو کہ اس (افشائے راز) وجہ سے کوئی مصیبت ودقت پیش آسکتی ہے۔
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ غزوۂ تبوک سے آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، تو میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جا کر ثنیۃ الوداع پر ملا۔ بخاری کی روایت میں اس طرح کے الفاظ ہیں: ”ہم سب بچے ثنیۃ الوداع تک آپ ﷺ کا استقبال کرنے گئے تھے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو جو معذورین وغیرہ میں سے جو لوگ غزوے سے پیچھے رہ گیے تھے وہ آپ سے ملاقات کے لیے ثنية الوداع کی طرف نکلے، یہ آپ ﷺ کی واپسی پر آپ کے استقبال کے لیے نکلے۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بھی مدینہ کے بچوں کے ساتھ آپ ﷺ سے ملنے نکلے۔
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ ںکلے۔ ہم چھ آدمی تھے اور ہمارے درميان ایک ہی اونٹ تھا جس پرہم باری باری سوار ہوتے تھے۔ اس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، میرا پاؤں بھی زخمی ہوگيا تھا اورميرے ناخن گرگئے تھے۔ چنانچہ ہم لوگ اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹ لیتے تھے۔ اسی لیے اس غزوہ كا نام ہی غزوۂ ذات الرقاع (چیتھڑوں والا غزوہ) پڑ گیا۔ کیونکہ ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے باندھتے تھے۔ ابوبردہ بيان كرتے ہیں کہ ابوموسی نے يہ حدیث بیان کی، پھر اسے نا پسند فرمايا اور فرمايا کہ ميں اسے بيان کرنا نہيں چاہتا تھا۔ ابو بردہ کہتے ہيں کہ: گويا انہيں يہ بات ناپسند آئی کہ اپنے کسی عمل کو ظاہر کریں۔
متفق علیہحدیث کا مفہوم: یہ ہے کہ ابوموسی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے۔ ان کے ساتھ ان کے کچھ اور ساتھی بھی تھے جن کی تعداد چھے تھی۔ ان کے پاس ایک اونٹ تھا جس پر وہ باری باری سوار ہوتے، چنانچہ ان میں سے ایک آدمی کچھ فاصلے تک اس پر سوار ہوتا، پھر جب اس کی باری ختم ہوجاتی تو وہ اونٹ سے اتر جاتا اور دوسرا اس پر سوار ہوجاتا۔ اسى طرح سے وہ باری باری سوار ہوتے رہے یہاں تک کہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئے۔ '' اس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، میرا پاؤں بھی زخمی ہوگيا تھا اورميرے ناخن گرگئے تھے۔'' ایسا صحرائی علاقے میں ایک لمبی مسافت تک پیدل چلنے کی وجہ سے ہوا۔ پاؤں پھٹنے پر ان کے پاس کوئی ایسی چيز بھی نہیں تھی جسے وہ لپیٹ لیتے۔ چنانچہ وہ ننگے پاؤں ہی چلتے رہے جس سے انہیں بہت تکلیف ہوئی، تاہم وہ اپنے سفر سے رکے نہیں بلکہ دشمن کا سامنا کرنے کے لئے رواں دوں رہے۔ ”ہم اپنے پاوں پر چیتھڑے لپیٹتے تھے“ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ طولِ مسافت اور زمین کی قوت وسختی کی وجہ سے ان کے جوتے پھٹ گئے تھے۔ تو وہ اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹتے تھے تاکہ زمین کی سختی اور گرمی سے انہیں محفوظ رکھ سکیں۔ ”اس غزوے کا نام غزوۂ ذات الرقاع (چیتھڑوں والا غزوہ) پڑ گیا۔ کیونکہ ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے باندھ رکھے تھے“ یعنی رسول اللہﷺ کے اس غزوے کا نام بعد ميں غزوہ ذات الرقاع پڑگیا۔ اور يہ اس کی ايک وجہ تسميہ ہے۔ ابوبردہ کہتے ہیں: ”ابوموسی نے يہ حدیث بیان کی، پھر اسے نا پسند فرمايا اور فرمايا کہ ميں اسے بيان کرنا نہيں چاہتا تھا! ابو بردہ کہتے ہيں: گويا انہيں يہ بات ناپسند آئی کہ اپنے کسی عمل کو ظاہر کریں“ اس كا مطلب يہ ہے کہ ابوموسی رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد اس بات کی تمنا کی کہ کاش انہوں نے اسے بیان نہ کیا ہوتا کیونکہ اس میں خود ستائی کا اظہار ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نیک عمل کو چھپانا اس کے اظہار سے افضل ہے الا يہ کہ اس کے اظہار میں کوئی مصلحت راجحہ ہو، مثلا بیان کرنے والا ایسا شخص ہو جس کی لوگ اقتدا کرتے ہوں۔ ایک دوسرى حدیث میں ہے: ”فَأَخْفَاهَا حَتَّى لا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ“. يعنى اس نے اسے (صدقہ کو) چھپاکر ديا یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی علم نہ ہوسکا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔ متفق علیہ
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہوگیا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ غلط خیال کیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اورآپ ﷺ کا ساتھ چھوڑدوں۔
متفق علیہابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ساتھ ایک رات تہجد کی نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے بڑا لمبا قیام کیا۔ در اصل آپ ﷺ کی عادت مبارکہ یہی تھی۔ البتہ آپ ﷺ کا لمبا قیام ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر گراں گزرا، یہاں تک کہ انہوں نے ایک ایسا کام کرنے کا ارادہ کر لیا، جو ناگوار تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے کس بات کا ارادہ کیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ ﷺ کو قیام کی حالت میں چھوڑ دوں۔ انہیں لاحق ہونے والی مشقت کی وجہ سے انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری کے پاس اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا پانی ہے تو لاؤ ورنہ پھر ہم منہ لگا کر ہی پانی پی لیتے ہیں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری شخص کے ہاں تشریف لائے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ انصاری ابو الہیثم ابن التھیان انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ آپ کے ساتھی ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ نبی ﷺ نے اس انصاری صحابی سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کوئی مشکیزے میں رات سے باسى پانی ہے؟ یہ دراصل گرمی کا وقت تھا۔ اس میں حکمت یہ تھی کہ رات سے پڑا ہوا پانی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر نہیں ہے تو پھر ہم بنا برتن اور چُلّو کے، منہ لگا کر ہی پانی پی لیں گے۔
عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: نبی ﷺ کے ہاں ایک بڑا پیالہ تھا جس کو چار آدمی اٹھاتے تھے۔ اس کو” غراء“ کہا جاتا تھا۔ جب چاشت کا وقت ہو جاتا اور لوگ چاشت کی نماز پڑھ لیتےتو وہ پیالہ لایا گیا۔ یعنی اس میں ثرید تیار کیا گیا تھا۔لوگ اس کے گرد بیٹھ گئے یہاں تک کہ جب ان کی تعداد زیادہ ہو گئی (اور بیٹھنے کی جگہ تنگ ہو گئی) تو آپ ﷺ دو زانو بیٹھ گئے۔ ایک دیہاتی نے کہا کہ: یہ کیسے بیٹھے ہیں؟ (یہ سن کر ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تواضع و انکساری کرنے والا بنایا ہے، متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے کناروں سے کھاؤ اس کی بلندی (درمیانی حصے) کو چھوڑ دو، تمہارے لیے اس میں برکت رکھ دی جائے گی۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ کے پاس ایک کھانے کا برتن تھا جسے ''غراء'' کہا جاتا تھا۔ اسے چار آدمی مل کر اٹھاتے تھے۔ جب چاشت کا وقت ہو جاتا اور انہوں نے چاشت کی نماز پڑھ لی تو اس برتن کو لایا گیا اور روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس میں ڈال دیا گیا۔ وہ سب اس برتن کے ارد گرد بیٹھ گئے۔ جب ان کی تعداد زیادہ ہو گئی اور بیٹھنے کا حلقہ ان کے لیے تنگ پڑ گیا تو نبی ﷺ اپنے بھائیوں کے لیے کشادگی پیدا کرنے کے لیے اپنے گھٹنوں کے بل اور اپنے پاؤں کی پشت پر بیٹھ گئے۔ حاضرین میں سے ایک اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیسے بیٹھنا ہوا! (ایسا اس نے اس لیے پوچھا) کیونکہ یہ بیٹھنے کا بہت ہی متواضع انداز تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے نبوت و علم عطا فرما کر متواضع بندہ بنایا ہے اور مجھے متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔ نبی ﷺ نہ تو متکبر تھے اور نہ ظالم۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: برتن کے کناروں سے کھاؤ اور اس کی چوٹی (درمیانی حصہ) کو چھوڑ دو، اس میں برکت ہو جائے گی۔ نبی ﷺ نے برتن کے کناروں سے کھانے اور اس کے بلند حصے کو چھوڑ رکھنے کا حکم دیا اور وضاحت فرمائی کہ یہ کھانے میں برکت پیدا ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔
ابوہریرہ یا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے( راوی کو شک ہے) کہ جب غزوہ تبوک کا وقت آیا تواس دن لوگوں کو بہت سخت بھوک لگی،انہوں نے آپ ﷺ سے کہا: یارسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنے سواری کے اونٹ ذبح کرلیں تاکہ ان کا گوشت کھائیں اور ان کے روغن سے فائدہ اٹھائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے کہا:’کر لو‘۔عمر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ، اگر آپ نے یہ کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی،اس کے بجائے آپ ان کے بچے ہوئے زاد راہ منگوائیں اور اس پر اللہ سے برکت کی دعا کریں تا کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’یہ ٹھیک ہے‘۔ چنانچہ آپ نے ایک کھال کی چٹائی منگوائی اور اسے بچھا دیا پھر ان لوگوں جو بچا کھچا کھانے کا سامان تھا وہ منگوایا۔ کوئی شخص مٹھی بھر مکئی، کوئی مٹھی بھر کھجور اورکوئی (روٹی کا) ٹکڑا لے آیا۔ یہاں تک کہ کھال پرچھوٹی سی ڈھیر لگ گئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے برکت کی دعا کی اور فرمایا: اسے اپنے برتنوں میں ڈال لو۔ چنانچہ لوگوں نے اپنے برتن بھر لیے۔ لشکر میں کوئی برتن نہیں بچا جسے انھوں نے نہ بھرا ہو۔ پھرانھوں نے کھایا اور سیر ہو گئے لیکن کھانا پھر بھی بچ رہا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمیں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو بندہ ان دونوں شہادتوں پر یقین رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا اسے جنت سے ہرگز نہ روکا جائے گا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔غزوہ تبوک کے موقع پر لوگ فاقے کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے اونٹ ذبح کر لیں اور ان کا گوشت کھائیں اور ان کی چربیوں سے روغن حاصل کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ ایسا کر لو۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ حاضرِ خدمت ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! اگر آپ ﷺ نے ایسا کرنے کی اجازت دے دی تو سواری کے جانور کم ہو جائیں گے اور ان کی قلت ہو جائے گی۔ آپ لوگوں کو کہیں کہ وہ اپنا بچا ہوا کھانا لے کر آئیں۔ آپ اس پر برکت کی دعا کریں۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی اس میں خیر ڈال دے اور کم میں برکت دے دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے چمڑے کی ایک چٹائی (دسترخوان) منگوا کر اسے بچھا دیا اور پھر لوگوں کو ان کا بچا ہوا کھانے کا سامان لانے کو کہا۔ کوئی شخص مٹھی بھر مکئی لے کر آ رہا تھا تو کوئی کھجور اور کوئی روٹی کا ٹکڑا یہاں تک کہ اس چٹائی پر ان چیزوں کی ایک چھوٹی سی ڈھیر لگ گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے برکت کی دعا فرمائی اور پھر فرمایا: اسے اپنے برتنوں میں ڈال لو۔ چنانچہ لوگ اسے لینے لگ گئے یہاں تک کہ انہوں نے لشکر میں کوئی ایسا برتن نہ چھوڑا جسے بھرا نہ ہو۔ انہوں نے سیر ہو کر کھایا اور یہ پھر بھی بچ گیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو بندہ بنا شک کیے ان دو باتوں کی گواہی دے کر موت کے بعد اللہ سےملے گا اسے جنت میں جانے سے نہیں روکا جائے گا بلکہ وہ ضرور اس میں جائے گا، یا تو شروع ہی سے وہ نجات پانے والوں کے ساتھ جنت میں جائے گا یا پھر دوزخ سے نکالے جانے کے بعد۔