





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الله تعالی نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر فخر کرے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔تواضع اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ مومنوں کی اخلاقی صفات میں سے ایک بہت ہی بلند پایہ اخلاقی صفت ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد ﷺ کی طرف اسے اختیار کرنے کی بابت وحی کی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسے کتنی اہمیت دی گئی ہے اور اس کا کتنا خیال رکھا گیا ہے۔ کیونکہ جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے وہ اللہ کے احکام کے سامنے اظہارِ فروتنی کرتے ہوئے سرِتسلیم خم کر دیتا ہے اور انہیں بجا لاتا ہے اور اس کی منع کردہ اشیاء سے اجتناب کرتا ہے اور لوگوں کے ساتھ انکساری کے ساتھ پیش آتا ہے۔ حدیث میں اظہارِ فخر، لوگوں پر اظہارِ برتری اور مکارم و مناقب کا ذکر کرتے ہوئے باہمی طور پر تفاخر و مباہات سے منع کیا گیا ہے۔
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یقینا تم اپنے مال ودولت کے ذریعے لوگوں کا دل نہیں جیت سکتے تاہم تمہارا اچھا اخلاق اور ملاقات کے وقت خندہ پیشانی سے ملنا ان کے دل جیت سکتا ہے“۔
اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث ملاقات کے وقت خندہ روئی اور چہرے کی بشاشت کے ساتھ پیش آنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور حسن خلق ، حسن معاشرت اور اسی طرح لوگوں کے ساتھ اچھی گفتگو اور اچھا معاملہ کرنے کی فضیلت بیان کرتی ہے۔ ایسا کرنا ہر انسان کے بس میں ہوتاہے ۔ یہی وہ اخلاق ہیں جو محبت کو فروغ دیتے ہیں اورافراد معاشرہ کے مابین دائمی الفت پیدا کرتے ہیں۔
جويریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار ایسے کلمات تین بار کہے ہیں کہ جو کچھ تم نے صبح سے اب تک پڑھا ہے اگر اس کا ان کلمات کے ساتھ وزن کرو تو ان کلمات کا وزن زیادہ ہو گا اور وہ کلمات یہ ہیں: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَاءَ نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ“ اللہ کی حمد و تسبیح بیان کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد اور اس کی رضا کے بقدر نیز اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ام المومنین جویریہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ صبح کی نماز پڑھنے کے لیے ان کے پاس سے باہر نکلے اور چاشت کے وقت واپس آئے تو دیکھا کہ وہ اللہ تعالی کا ذکر ہی کر رہی ہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ آپ ﷺ نے ان کے پاس سے چلے جانےکے بعد چار کلمات پڑھے ہیں اور اگر ان کا مقابلہ ان سب کلمات سے کیا جائے جو انہوں نے صبح سے پڑھی ہے تو وہ اجر کے اعتبار سے ان کے برابر ہو جائیں یا ان سے بھی زیادہ وزنی ہو جائیں۔ پھر نبی ﷺ نے ان کلمات کی وضاحت فرمائی کہ وہ یہ ہیں: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَاءَ نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ“۔ یعنی اتنی زیادہ تسبیح جو اس کی مخلوق کے بقدر ہو جس کی تعداد کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اتنی عظیم تسبیح جو اللہ کو راضی کردے اور اتنی بھاری تسبیح جو عرش کے وزن کے برابر ہو اگر عرش کوئی محسوس ہونے والی شے ہوتا اور ایسی تسبیح جو ہمیشہ جاری رہے اور جس میں کبھی انتقطاع نہ آئے۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کا کوئی عمل ایسا نہیں جو اسے اللہ کے ذکر سے زیادہ اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا ہو“۔
اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔اللہ تعالی نے اپنے مومن بندوں کے لیے ایسے اسباب پیدا کیے ہیں جن کے ذریعے جنت حاصل کی جاتی ہے اور جہنم سے بچا جاتا ہے۔ انہی اسباب میں سے ایک سبب اللہ سبحانہ و تعالی کا ذکر ہے۔ یہ حدیث ذکر کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی خوفناکیوں سے نجات دینے کے بڑے اسباب میں سے ہے۔ یہ جہنم سے نجات کا ایک ذریعہ ہے اوریہ ایک ایسی فضیلت ہے جو ذکر کے فضائل میں سے سب بڑی فضیلت سمجھی جاتی ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے دل میں خود کو بڑا جانا اور اِترا اِترا کر چلا وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر بہت غضبناک ہوگا“۔
اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث تکبر اور بڑائی کی مذمت پر دلالت کرتی ہے۔ یہ تکبر و بڑائی انسان کی چال میں ظاہر ہوتی ہے چنانچہ وہ اتراہٹ کے ساتھ چلتا ہے۔ اسی طرح اس کا اظہار اس کے لباس، گفتگو اور تمام امور میں ہوتا ہے۔ جس شخص کے تکبر کی یہ حالت ہو وہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک بڑا آدمی ہے جو دوسروں سے زیادہ تعظیم کا مستحق ہے۔ایسا شخص روز قیامت اس حال میں اللہ سے ملے گا کہ وہ اس پر سخت غضبناک ہوگا۔
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک وہ جنت کے تازہ پھلوں کے چننے میں مصروف رہتا ہے“۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! ”خُرْفَةُ الجنَّةِ“ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے تازہ پھل“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی، اس کی بیماری میں عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے تازہ پھلوں کے چننے میں مصروف رہتا ہے۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ: ”خُرْفَةُ الجنَّةِ“ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے مراد جنت کے تازہ پھل چننا ہے۔ یعنی جب تک وہ اس مریض کے پاس بیٹھا رہتا ہے تب تک وہ جنت کے پھل توڑ رہا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے بیمار پرسی کرنے والے شخص کو حاصل ہونے والے اجر و ثواب کو اس چیز سے تشبیہ دی جو پھل توڑنے والے شخص کو حاصل ہوتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سے یہاں راستہ مراد ہے، یعنی عیادت کرنے والا شخص ایسے راستے پر چل رہا ہوتا ہے جو اسے جنت تک لے جاتا ہے۔ جب کہ پہلی تفسیر بہتر ہے۔ مریض کے پاس بیٹھنا مختلف حالات اور افراد کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ چنانچہ کبھی تو مریض کے پاس بیٹھنے کی ضرورت ہوتی ہے، اور کبھی تو اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لہٰذا اگر یہ معلوم ہو جائے کہ مریض اس شخص سے سکون محسوس کرتا ہے اور اسے پسند ہے کہ وہ اس کے پاس دیر تک رہے تو افضل یہ ہے کہ وہ اس کے پاس دیر تک ٹھہرے۔ لیکن اگر یہ معلوم ہو کہ مریض چاہتا ہے کہ بیمار پرسی کرنے والا اس کے پاس کم وقت بتائے تو اسے وہاں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ چنانچہ ہر صورت حال کے لیے الگ حکم ہے۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا۔ آپ ﷺ کے دائیں جانب ایک لڑکا تھا اور بائیں جانب بڑی عمر کے لوگ بیٹھے تھے۔ آپﷺ نے لڑکے سے پوچھا کہ ”کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ ان کو دے دو؟“۔ لڑکے نے کہا کہ اللہ کی قسم نہیں یا رسول اللہ!۔میں آپ سے ملنے والے اپنے حصے پر کسی اور کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس مشروب (کے برتن کو) اس لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا۔
متفق علیہحدیث میں نبی ﷺ نے لڑکے سے اس بات کی اجازت لینا چاہی کہ وہ مشروب کو اس سے پہلے بڑے لوگوں کو دے دیں۔ آپ ﷺ ایسا بڑی عمر کے لوگوں کا دل رکھنے، ان سے اظہارِ محبت اور ان کی بزرگی کے ایثار میں کیا کیونکہ از روئے سنت یہ ممنوع نہیں تھا۔ اس میں اس سنت کا بیان ہے کہ دائیں طرف والا زیادہ حق دارہوتا ہے اور کسی اور کو اس کی اجازت کے بغیر نہیں دیا جا سکتا تاہم اس سے اجازت مانگنے میں کوئی حرج نہیں اور اس کے لیے بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ اجازت دے ہی دے، بلکہ اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ اگر اجازت دینے سے کوئی فضیلت یا دینی مصلحت ہاتھ سے نکل رہی ہو تو وہ اجازت نہ دے۔ یہ لڑکے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے، اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے کہ وہ نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے“۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی موت کی خواہش نہ کرے اور اس کے خود آنے سے پہلے اس کے آنے کی دعا نہ کرے۔ کیوں کہ جب وہ مر جائے گا تو اس کا عمل منقطع ہوجائے گا جب کہ مومن کی عمر اس کی نیکیوں میں اضافہ ہی کرتی ہے“۔
متفق علیہآپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے“ یہاں ممانعت حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ کیوں کہ موت کی آرزو کرنے میں اللہ کی قضاء پر عدمِ رضا کا پہلو ہوتا ہے جب کہ مومن پر فرض ہے کہ جب اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ اس پر صبر کرے۔جب وہ کسی مصیبت پر صبر کرتا ہے تو اسے دو اہم باتیں حاصل ہوتی ہیں: اول: گناہ معاف ہوتے ہیں۔ انسان کو جب بھی کوئی دکھ، غم، تکلیف اور کوئی بھی ایسی شے پہنچتی ہے تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کےگناہ معاف کر دیتا ہے حتی کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو وہ بھی گناہ کا کفارہ بنتا ہے۔ دوم: اگر اسے اس بات کی توفیق حاصل ہو جائے کہ وہ اس پر اللہ سے اجر کا امید وار ہو اور اللہ کی خوشنودی کے لیے صبر کرے تو اسے ثواب ملتا ہے۔ جب کہ موت کی تمنا کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے پر صابر اور اس پر خوش نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ اگر آدمی نیک لوگوں میں سے ہو گا تو زندگی کے باقی رہنے کی وجہ سے اس کے نیک اعمال میں اضافہ ہوگا۔ مومن جب بقید حیات رہتا ہے، چاہے تکلیف اور مصیبت میں ہی مبتلا ہو، اس کی نیکیاں بڑھتی رہتی ہیں۔ اگر وہ برا آدمی ہے اور اس نے کوئی برا عمل کیا ہوا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ توبہ کر لے یعنی اللہ سے اس کی خوشنودی مانگ لے اور اس سے معذرت کر لے اور پھر اس کی موت آئے تو وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر چکا ہو۔ چنانچہ موت کی آرزو نہ کرو کیوں کہ کوئی بھی حالت ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ پس چاہیے کہ انسان صبر کرے اور اس پر اجر کا طلب گار ہو۔ یہ محال ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت رہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ موت کی تمنا اور دعا کرنے کی ممانعت میں یہ مفہوم ہے کہ موت کی وجہ سے عمل منقطع ہو جاتا ہے۔ زندگی کی وجہ سے عمل ہوتا ہے اور عمل ہی سے ثواب میں بڑھوتری ہوتی ہے۔ اگر کوئی عمل نہ بھی ہو تو تب بھی وحدانیت کے اقرار کا جاری رہنا سب سے افضل عمل ہے۔ یہاں یہ اشکال نہیں ہونا چاہیے کہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ شخص زندہ رہے تو العیاذ باللہ ایمان ہی سے پھر جائے کیوں کہ ایسا شاذ و نادر ہوتا ہے۔ جب ایمان کی تازگی دلوں کے ساتھ مل جاتی ہے تو پھر کوئی اسے ناپسند نہیں کرتا۔ اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو شاذ و نادر ہو گا۔ اللہ کے ازلی علم میں جس کا خاتمہ برا لکھا گیا ہے اس کا برا خاتمہ ہو کر ہی رہے گا چاہے اس کی عمر لمبی ہو یا مختصر۔ چنانچہ اس کے لیے موت کو جلدی طلب کرنے میں کوئی اچھائی نہ رہے۔ اس حدیث میں اشارۃً مومن كے لیے اس کے نیک کاموں پر اس کے لیے خوشخبری ہے جب کہ بدکار کو اس کے برے عمل سے ڈرایا گیا ہے۔ گویا کہ آپ ﷺ فرما رہے ہیں کہ نیک شخص کو موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے اپنے نیک اعمال میں جُٹا رہنا چاہیے اور ان میں اور اضافہ کرنا چاہیے اور جو برا شخص ہو اسے بھی موت کی آرزو نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے چاہیے کہ وہ برائی سے باز آجائے تاکہ کہیں برائی کرتے کرتے ہی اس کی موت نہ آ جائے۔چنانچہ ایسا شخص خطرے میں ہوتا ہے۔
ابو رفاعہ تمیم بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، درآں حالے کہ آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک مسافر دین کے بارے میں سوال کرنے آیا ہے، اُسے نہیں معلوم کہ دین کیا ہے؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ چھوڑ کر میری طرف متوجہ ہوئے، یہاں تک کہ میرے پاس آ گئے۔ پھر ایک کرسی لائی گئی آپ ﷺ اُس پر تشریف فرما ہوئے اور جو کچھ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دین کا علم دیا تھا، اُس کی مجھے تعلیم دی۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا خطبہ پورا کیا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔یہ آپ ﷺ کا کمال تواضع تھا کہ ایک شخص اس وقت آپ کی خدمت میں آیا، جب آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ شخص کہنے لگا کہ میں ایک مسافر آدمی ہوں، جو اپنے دین کے بارے پوچھنا چاہتا ہے۔ نبی ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خطبہ چھوڑ کر اس کے پاس آ گئے۔ آپ ﷺ کے لیے ایک کرسی لائی گئی اور آپ ﷺ (اس پر تشریف فرما ہوکر) اس شخص کو تعلیم دینے لگے؛ کیوںکہ وہ شخص علم کی چاہت و محبت لے کر آیا تھا اور خواہش رکھتا تھا کہ دین کو سیکھے، تاکہ اس پرعمل کر سکے۔ چنانچہ نبی ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور خطبہ چھوڑ کر اسے تعلیم دی اور پھر بعد میں اپنا خطبہ مکمل کیا۔